Wed, September 16, 2026

سوشل میڈیا آگہی سے جہالت تک

سوشل میڈیا آگہی سے جہالت تک


اگر آپ تین سو بیاسی وٹس ایپ گروپس کے تین بلین ممبران میں سے ایک رکن ہیں ۔ اگر آپ گروپ ایڈمن ہیں۔ اگر آپ پھول پتیاں لگا کر صبح بخیر اور جمعہ مبارک کے اشتہارات ڈیزائن کرتے ہیں۔ اگر آپ کھانا کھاتے ہوئے بے ترتیب برتنوں میں پڑی روٹیوں اور باسی سالن کی تصویر پوسٹ کرنے کے ماہر ہیں۔ اگر آپ فوتیدگی کی اطلاع کو سنسنی خیز بنا کر پیش کرنے کے عادی ہیں۔ اگر آپ فیملی وی لاگر ہیں۔ اگر آپ علمی و معلوماتی مواد سے خالی ویڈیو کو بلینز صارفین تک پہنچا کر ڈالر کما رہے ہیں۔ اگر آپ غلط تلفظ اور بے ہودہ لہجے کے ساتھ کلپ بنا کر صارفین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں تو آپ کو ڈھنگ کا سوچنے، اچھا بولنے اور بہترین سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ سوشل میڈیا صارفین جو کچھ پڑھنا اور سننا چاہتے ہیں، آپ ان کے معیار پر پورا اتر رہے ہیں۔ آپ اگر علمی گفتگو کریں گے تو سوشل میڈیا آپ کو وارننگ پر لے آئے گا۔ آپ تاریخ اور مذہب پر تحقیقی مواد شیئر کر رہے ہیں تو آپ گھاٹے کا سودا کر رہے ہیں کیونکہ اس بازار میں معیار نہیں لائیکس کی تعداد دیکھی جاتی ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں پر علمیت نہیں مقبولیت دیکھی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس بازار میں مہدی حسن سے زیادہ چاہت فتح علی خان، مادھوری سے زیادہ مہک ملک، رنگیلا سے زیادہ افتخار ٹھاکر، عطاالحق قاسمی سے زیادہ مبشر لقمان اور طالب جوہری سے زیادہ مفتی قوی کی فین فالونگ ہے۔ آپ ایک سلسلہ وار برقی تعلق داری سے ہم یوں جڑے ہیں کہ نا پسندیدہ وجود براہ راست نہ سہی، کسی اور تعلق دار سوشل دوست کے سبب ہمارے سامنے یوں آ کھڑے ہوتے ہیں کہ ہم بے بسی سے اسے اپنے بیڈ روم، سٹڈی، دفتر یا رضائی کے اندر برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور مہینوں سے نگلی جانے والی بلڈ پریشر کی گولیوں کا اثر ایک پوسٹ کی وجہ سے زائل کر بیٹھتے ہیں۔ جس سوشل میڈیا کو ہم اپنی تفریح اور معلومات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں وہی ہمارے خلاف دشمن کی سازش ثابت ہوتا ہے۔ ہمارے کچھ سائبر دوست اپنی بیوی سے ہونے والی سرد جنگ کو فیس بکی پوسٹوں پر یوں گرم رکھتے ہیں کہ باقی چار ہزار نو سو ننانوے مجبور اور بے بس سائبر تعلق دار بلا وجہ ذہنی تناو¿ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی اس طرح کی پوسٹوں سے ہر دوست اپنے آپ کو مجرم گردانتا ہے۔ نمونے کے طور پر چند پوسٹس حاضر ہیں۔
میری بلی مجھے میاو¿ں
مرد کائنات کی مظلوم ترین مخلوق ہے
کاش طلاق خدا کی نا پسندیدہ چیز نہ ہوتی
کسی کا عذاب اپنے گلے ڈال کر گھاٹے کا سودا کیا
اک غلط فیصلہ لے ڈوبا مجھے
وہ دوست جن کے پاس تخلیقات بھی نہیں ہوتیں اور انہیں فیس بک پر حاضری کی بھی لت ہوتی ہے وہ اپنا شوق کچھ یوں پورا کرتے ہیں۔۔ ہمارے پیارے دوست کرائم فائٹر ایس ایچ او چودھری گوگا بلی پوری نے چار دن کی مسلسل محنت سے گندم کے گودام سے ایک بوری چوری کرنے والے پچاس رکنی گینگ کو گرفتار کر لیا۔ اپنے گلی محلے کی چھوٹی موٹی سازشوں سے تنگ فیس بک فرینڈز اپنا غصہ یوں نکالتے ہیں۔۔ تم اپنی چال چل بیٹھے اب ہماری باری ہے چھیڑیں گے نہیں یا پھر چھوڑیں گے نہیں، جس کے گھر کے سامنے شیشم کا پرانا درخت ہے وہ بندہ بن جائے ورنہ سوشل میڈیا پر کرتوت ظاہر کر دوں گا۔ رات گئے قبض کے مریضوں کی پوسٹس فیس بک دوستوں کو خوف و ہراس میں مبتلا رکھتی ہیں۔ وہ کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں۔۔۔ بریکنگ نیوز کا انتظار کریں اور ملک کے لیے دعاو¿ں کی اشد ضرورت ہے۔ اس پوسٹ کو سنجیدہ لینے والے دوست اس وقت حیرت سے نکلتے ہیں جب انہیں خبر دینے والی پروفائل سے پتہ چلتا ہے کہ موصوف ٹبہ سلطان پور کا گنڈیری فروش ہے کسی خفیہ ایجنسی کا افسر نہیں۔ فیس بک پر دعائیں بھی بہت منگوائی جاتی ہیں۔ کمنٹ کے خانے میں غیر حاضر دوستوں کو ان فرینڈ کرنے کی وارننگ بھی دی جاتی ہے۔ قرآنی آیات اور فرامین کے غلط اقتباسات پیش کر کے شرط بھی لگا دی جاتی ہے کہ کوئی کافر ہی ہو گا جو شیئر نہیں کرے گا۔ دعاو¿ں کی وصولی کا کام بھی شرطیہ کیا جاتا ہے، مثلاً آج ہی مین سوئچ تبدیل کرنے کےلئے الیکٹریشن کو ایڈوانس دے کر آیا ہوں، دوستوں سے دعاو¿ں کی درخواست ہے۔ گندم کی کٹائی کا موسم ہے، موٹر وے سے گزرنے والے جلتا ہوا سگریٹ نہ پھینکیں۔ آج بواسیر کا دم کرایا ہے دعا کرنا افاقہ ہو۔ بھانجے کے ولیمے پر جا رہا ہوں ، دعاو¿ں کی درخواست ہے۔ بہرحال بے وزن شعر، بے ترتیب جملے، جعلی اقتباس اور دعاو¿ں کی سہولت فیس بک پر کثرت سے پائی جاتی ہے۔ سینہ گزٹ کا غیر کتابی علم کچھ کےلئے تفریح اور کچھ کے لیے اذیت کا سبب بنتا ہے۔
اب صحافت بھی سوشل میڈیا پر یوں آسان ہوئی ہے کہ پہلے پولیس کے پاس صرف ضلع کی سطح پر ایک ترجمان ہوتا تھا جو عوامی ردعمل پر اپنا موقف پیش کرتا تھا اور اخبارات کے تراشے فائل میں لگا کر افسران کو پیش کرتا تھا، اب پولیس کو بغیر تنخواہ اپنے ترجمان مل گئے۔ ایسے ہی کچھ دوستوں کی وال سے چند سطریں (مماثلت محض اتفاق ہو گا) دبنگ اور کرائم فائٹر ایس ایچ او بستی ملوک نے جان پر کھیل کر گھر کی چھت پر پتنگ اڑاتے ہوئے بارہ سالہ لڑکا گرفتار کر لیا، چند گھنٹے بعد سی پی او کی پریس کانفرنس متوقع، اے ایس آئی تھانہ باقر آباد اجمل قصائی کا ذاتی ڈرائیور تبدیل، اب کوئی پارٹی اس سے لین دین نہ کرے۔ پولیس کے ماتھے کا جھومر سینئر محرر تلہ گنگ عمرے پر روانہ۔ میرا پیارا بھائی عون عباس ایس ایچ او بستی ملوک تعینات، اب مجرم اپنا قبلہ درست فرما لیں، میرا نمبر پوسٹ کے پہلے کمنٹ میں ہے۔ شاباش ڈسٹرکٹ کمانڈر ندیم عباس، آپ کے آتے ہی ڈی پی او آفس میں بہار آ گئی۔ ایس ایچ او تھانہ کہنہ امتیاز پولیس ڈیپارٹمنٹ کا شیر شاہ سوری ہے۔ تھانہ چھب کلاں کے نائب محرر کی خوشدامن انتقال کر گئیں، پریس کلب جھنڈی والا سوگ میں دو دن کے لیے بند۔
فرینڈز لسٹ میں شامل کچھ جذبات کے آڑھتیوں کے طفیل سوشل میڈیا چوراہے پر لگا ایک گندا نل بن چکا ہے، جس کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں وہ سوشل فرینڈز سے دعا کی اپیل کرتا ہے اور پھر پس منظر میں بیٹھے طبلچی ان مروڑوں کو کروڑوں کا مرض سمجھ کر ایشو آف دی ڈے بنا دیتے ہیں، جیسے دنیا کے باقی تمام مسائل حل ہو چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی، تشدد یا گالی گلوچ کو چھپا جاتے تھے تاکہ تاک میں بیٹھے دشمن آپ کو کمزور سمجھ کر فائدہ نہ اٹھائیں اور آپ کا بھرم رہ جائے، مگر اب گلی کی نالی کے جھگڑے کو یوں اچھالا جاتا ہے کہ آپ خود تماشا بن کر رہ جاتے ہیں۔ پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر گلی محلے کے اس عالمی دہشت گرد کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر انجمن خوشامدان کے قوال اپنے ہمنواو¿ں کے ساتھ مل کر یوں شکریہ ادا کرتے ہیں کہ پیشہ ور میراثی بھی شرما اٹھتے ہیں۔ ویل ڈن ایس ایچ او، ویل ڈن اے ایس پی، ویل ڈن ڈی پی او۔ کون لوگ ہو تم اور کہاں سے لائے ہو یہ مزاج؟ کبھی پولیس والا آپ کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالتا ہے۔ کبھی کوئی نائب تحصیلدار تمہاری زمین ہتھیا لیتا ہے۔ کبھی کوئی تمہیں ماں بہن کی گالیاں دیتا ہے۔ کبھی تم قبضہ کے ملزم یا مدعی ہوتے ہو۔ نان ایشوز سے ہٹ کر اگر ایشوز پر اس قدر چاپلوسی کرو تو عوام الناس میں ہیرو ٹھہرو۔ ایک ایک تھانے کے سیکڑوں اشتہاری پولیس کی دسترس سے باہر ہیں۔ بنیادی مراکز صحت میں ایک گولی تک دستیاب نہیں۔ تھانے سیاستدانوں کی رکھیل اور ڈی پی او ذاتی ملازم بن چکے ہیں۔ سکولوں کی پالیسی آپ کے بچوں کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے۔ ناقص اشیا خور و نوش نے آپ کو مریض بنا رکھا ہے۔ آپ کا گھر چوروں اور ڈاکووں کے رحم و کرم پر ہے۔ اور آپ پاو¿ں کی موچ اور گھریلو دبوچ کو ایشو بنا کر اپنا اور ان اداروں کا وقت ضائع کرتے ہو جو پہلے ہی خوشامد سن سن کر مسخرے ہو چکے ہیں۔

ٹیگز: