Wed, September 16, 2026

پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کا بیان مسترد کر دیا

پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کا بیان مسترد کر دیا

اسلام آباد : پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر فولکر ترک کے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا موقف زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے والی اس ترمیم کو غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم جیسے دیگر قوانین کی طرح، پاکستان کی پارلیمنٹ کا اختیار ہے، اور 27ویں ترمیم میں تمام قانونی طریقہ کار کی پیروی کی گئی ہے۔ پاکستان اپنے آئین کے مطابق انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے، اور اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کے بیان میں پاکستان کے موقف کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے فولکر ترک سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے فیصلوں کا احترام کریں اور ایسے تبصروں سے گریز کریں جو سیاسی تعصب اور غلط معلومات پر مبنی ہوں۔

یاد رہے کہ فولکر ترک نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہیں اور فوجی احتساب کے عمل کو کمزور کر دیتی ہیں، جس سے قانون کی حکمرانی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ٹیگز: