Wed, September 16, 2026

افواہیں، سیاسی جنون اور شرمندگی کا فقدان

افواہیں، سیاسی جنون اور شرمندگی کا فقدان

 پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں حقیقت اور افسانے کے درمیان تمیز کرنابہت مشکل ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں معلومات کا بہاؤ ایک سیلاب کی مانند ہے، وہاں سچائی اکثر جھوٹ کے شور میں دب کر رہ جاتی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوںسے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت اور زندگی کے حوالے سے جس قسم کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، انہوں نے نہ صرف ملک میں سیاسی بے یقینی کو پروان چڑھایا ہے بلکہ سیاسی ماحول کو بھی مزید آلودہ کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ کیا سیاسی عقیدت میں اندھا ہو کر جھوٹ بولنا ایک جائز حکمت عملی ہے؟ سیاسی وفاداری، وابستگی یا چمچہ گیری میں جو لوگ اپنے ہی لیڈر کی موت یا تشویشناک حالت کی خبریں پھیلا رہے ہیں، جب یہ خبریں غلط ثابت ہوں گی تو کیا انہیں شرمندگی یا ندامت کا کوئی احساس ہوگا؟ اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ کیا ریاست ان عناصر کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرے گی؟۔
 سیاسی نفسیات کے ماہرین کے مطابق، جب کوئی سیاسی جماعت دباؤ کا شکار ہوتی ہے اور اس کی قیادت منظر سے غائب ہوتی ہے، تو کارکنوں میں مایوسی پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس مایوسی کو غصے اور ہیجان میں بدلنے کے لیے ایسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوام کی جانب سے اس کا ردعمل آئے۔ در اصل یہ ہمدردی کا کارڈ کھیلنے کی ایک بھونڈی کوشش ہوتی ہے۔ یہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ جب عمران خان کے زندہ اور صحتمند ہونے کی تصدیق ہو جائے گی تو انہی لوگوں کا ردعمل کیا ہوگا ؟ کیا وہ شرمندہ ہوں گے اور اپنے رویے پر معافی مانگیں گے؟ ُپی ٹی آئی کے سیاسی کلچر کا مطالعہ تو بتاتا ہے کہ اس کا جواب ’نہیں‘میں ہو گا۔ دور حاضر کی سیاست ’پوسٹ ٹروتھ‘ یامابعد سچائی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہاں شرمندگی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ یہ حامی جب غلط ثابت ہوں گے تو وہ معافی مانگنے یا شرمندہ ہونے کے بجائے ایک نئی دلیل پیش کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہماری چیخ و پکار کی وجہ سے ہی اسے زندہ رکھا گیا یاہمارے شور مچانے سے انتظامیہ ڈر گئی ورنہ تو اس کے عزائم توخطرناک ہی تھے۔
اس تمام صورتحال کا دوسرا اور زیادہ سنجیدہ رخ یہ ہے کہ کیا ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے؟ اس سوال کا جواب جذباتی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی تناظر میں دینا ضروری ہے۔ کسی بھی انسان کی موت کی جھوٹی خبر پھیلانا محض ایک مذاق نہیں ہے، یہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان کے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت خوف و ہراس پھیلانا، عوامی نظم و ضبط کو خطرے میں ڈالنا اور کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ جب کوئی شخص سوشل میڈیا پر یہ لکھتا ہے کہ ایک سابق وزیراعظم جیل میں جاں بحق ہوگیا ہے، تو وہ دراصل ریاست پر قتل کا الزام لگا رہا ہوتا ہے اور عوام کو تشدد پر اکسا رہا ہوتا ہے۔ یہ آزادی رائے نہیں ہے، یہ ’ہیٹ سپیچ‘ اورافواہ سازی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش ہے۔ ریاست کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔ لیکن یہاں کچھ عملی مشکلات ضرور درپیش ہیں۔ جب ہزاروں اور لاکھوں لوگ ایک ہی جھوٹ کو مشینی انداز میں دہرا رہے ہوں، تو کتنے لوگوں کو جیل میں ڈالا جا سکتا ہے؟ کیا ریاست پچاس ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف ایف آئی آر کاٹ سکتی ہے؟ شائد یہ سب ممکن نہیں۔ تاہم، قانون کا نفاذ ہمیشہ علامتی اور ٹارگٹڈ ہوتا ہے۔ ان ماسٹر مائنڈز کے خلاف کارروائی تو ہر صورت میں ہونی چاہیے جو بیرون ملک بیٹھ کر یا پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں سے اس مہم کو چلا رہے ہیں۔ وہ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئینسرز جو جانتے بوجھتے ہوئے کہ خبر جھوٹی ہے، محض اپنی ریٹنگ بڑھانے اور عوام میں اشتعال پیدا کرنے کے لیے اسے پھیلاتے ہیں، وہ قانون کی گرفت میں آنے چاہئیں۔
 عمران خان کے بارے میں افواہیں پھیلا کر اس کے حامی درحقیقت اس کی صحت کے حقیقی مسائل (اگر کوئی ہیں) کی اہمیت کو بھی کم کر رہے ہیں۔ کل کو اگر واقعی اسے جیل میں کوئی طبی مسئلہ پیش آتا ہے تو مخالفین اور غیر جانبدار مبصرین اسے بھی ایک ڈرامہ یا پروپیگنڈا ہی سمجھیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان عناصر کے خلاف کارروائی سے معاملات میں بہتری لانا ممکن ہے؟ سخت قانونی ایکشن بعض اوقات معاملات کو سدھارنے کے بجائے بگاڑ بھی دیتا ہے اور ملزمان کومظلوم بننے کا موقع فراہم کردیتا ہے۔ اگر حکومت ان ٹویٹ کرنے والوں کو گرفتار کرتی ہے تو یہ کہا جائے گا کہ آزادی اظہار پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا جواب حکمت عملی سے دے۔ عمران خان کی خیریت کی تصدیق شدہ اور ناقابل تردید ثبوت سامنے لائے۔ جب سچ سامنے آئے گا تو جھوٹ پھیلانے والے خود بخود بے نقاب ہو جائیں گے۔ ہاں، جو عناصر منظم سازش کے تحت یہ کام کر رہے ہیں، ان کی نشاندہی سائبر کرائم ونگ کو کرنی چاہیے اور ان کے اکاؤنٹس کو رپورٹ کر کے بند کروانا چاہیے تاکہ ڈیجیٹل دہشت گردی کا راستہ روکا جا سکے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سبق یہ ہے کہ سیاسی محبت کو سیاسی پوجا میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ جب عقیدت اندھی ہو جائے تو سچائی نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔ قانون اپنا کام کرے گا یا نہیں، یہ تو وقت بتائے گا، لیکن اخلاقی عدالت میں یہ افواہ ساز بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم ذمہ دارنہ رویے اپنائیں ورنہ سوشل میڈیا پر پھیلتے یہ جھوٹ کے وائرس ہمارے سماجی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گے۔

ٹیگز: