اگر آپ کو یاد ہو تو ابراہم اکارڈ کو 2020 ءمیں مشرقِ وسطیٰ کے ایک تاریخی سفارتی معاہدے کے طور پر پیش کیا گیاتھا اور امریکی صدر ٹرمپ نے اسے ”نئے مشرقِ وسطیٰ “کی بنیادبھی قرار دیا تھا۔اس معاہدے کے تحت چند عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے اور اسے امن، ترقی، تجارت اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔لیکن چند ہی برسوں میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا کہ کیا ابراہیمی اکارڈ واقعی کامیاب ہوگا؟یا یہ ایک وقتی سفارتی منصوبہ تھا جو زمینی حقائق، عوامی جذبات اور فلسطینی مسئلے کے بوجھ تلے کمزور پڑ گیا؟اس معاہدے کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیان دشمنی ختم کی جائے،معاشی و دفاعی تعاون بڑھایا جائے اور مذہبی ہم آہنگی کے ذریعے خطے میں استحکام پیدا کیا جائے۔متحدہ عرب امارات ¾ بحرین ¾مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے لیکن ابھی تک یہ ہزاروں فلسطینوں کی لاشوں کا بوجھ اٹھائے اقوام عالم کی طرف دیکھ رہا ہے۔
امریکی صدر کی ٹویٹی دھمکی نے ثابت کردیا کہ اسرائیلی مظالم اوربربریت کے پیچھے چھوٹی ریاستوں اور اسرائیل کا اپنے اردگرد کے ماحول کو خوف زدہ کرنا تھا ۔ابراہیمی اکارڈ کی سب سے بڑی کمزوری یہ بھی سامنے آئی کہ اس نے فلسطین کے بنیادی مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا۔عرب دنیا میں کئی دہائیوں تک یہ اصول موجود تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے اسرائیل کو مکمل قبولیت نہیں دی جائے گی لیکن ابراہیمی اکارڈ نے اس ترتیب کو بے ترتیب کرنے کی تاحال مکمل ناکام کوشش کی ہے۔اس معاہدے کے آغاز سے ہی فلسطینی قیادت خود کو تنہا محسوس کررہی ہے۔ عرب عوام میں غم و غصہ مزید بڑھ گیاہے اور ابراہم اکارڈ کے شور سے یہ تاثر مزید بڑھ گیاہے کہ فلسطینی کاز کو قربان کرنے کی مکمل تیاری کی جا رہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کا مسئلہ،غزہ کی موجودہ صورتحال دنیا کے سامنے ہے کہ اسرائیل تمام تر معاہدوں اور عالمی وعدوں کے باوجود فلسطینوں کے ہولو کاسٹ سے باز نہیں آیا جس کی وجہ سے اسرائیلی پالیسیاں مسلسل تنقیدکی زد میں ہیں ۔یوں حکومتی تعلقات تو قائم ہوئے مگر عوامی سطح پر“حقیقی مفاہمت”پیدا نہ ہو سکی اور عوامی حمایت کے بغیر دنیا کی کوئی بھی ریاست کسی پائیدار معاہدے کے پوزیشن میں نہیں ہوتی ۔حقیقت تو یہ ہے کہ 2023 ء کی غزہ جنگ نے ابراہیمی اکارڈ کی بنیادوں کوہی ہلاکر رکھ دیا تھا لیکن میرا خیال ہے شاید یہ ابراہمی اکارڈ پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروانے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران عرب اوراسلامی دنیا میں شدید اسرائیل مخالف جذبات پیدا ہوئے، سوشل میڈیا اور عوامی احتجاج میں اضافہ ہوا اور کئی حکومتوں پر دبا¶ بڑھ گیا۔ اب بنیادی سوال تو یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر ابراہیمی اکارڈ واقعی ”امن “لانے کی حقیقی کوشش تھی تو پھر خطے میں پہلے سے زیادہ کشیدگی کیوں بڑھ گئی ؟
”ابراہیمی“نام کے ذریعے تین مذاہب کی مشترک بنیاد کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی لیکن عملی سیاست میں مذہبی علامت صدیوں پر محیط دشمنی کو ختم کرنے میں زیادہ دیر م¶ثر نہ رہ سکی۔اس کا ساد ہ سا جواب تو یہی ہو سکتا ہے کہ سیاسی مفادات،فوجی تنازعات اور قومی سلامتی کے مسائل محض مذہبی نعروں سے حل نہیں ہوتے۔حقیقت میں یہ معاہدہ جذباتی اور سفارتی ” برانڈنگ “تو تھا مگر حقیقی تنازعات کے حل کیلئے ہرگز کافی نہیں تھا۔یہ امریکہ میں روس اور چین کے خلاف درحقیقت مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی تھی جو اپنے آغاز میں ہی انجام کو پہنچ گئی تھی لیکن مسٹر ٹرمپ ابھی بضد ہیں اور اب تو وہ کھل کر سامنے آگئے ہیں بھلا پاکستان اور ایران کسی ایسے معاہد ے میں کیوں شامل ہو گا جس میں سب کچھ اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔یہ اتحاد ایران کے خلاف ایسی سازش تھی جس سے اسرائیل کو علاقائی مرکز بنانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ابراہم اکارڈ نے عرب دنیا کے بعض حلقوں میں اس معاہدے کی اخلاقی ساکھ کو بنیاد سے ہی کمزور کردیاتھا ۔مسلم دنیا کے حوالے سے عالمی سطح پر یہ تاثرپایا جاتا ہے کہ ”ہاتھی کے پاﺅں میں سب کا پاﺅں“ سو سعودی عرب کی عدم شمولیت بھی اس کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے ۔لیکن اگر سعودی عرب اس معاہدے میں شامل ہو جاتا توابراہیمی اکارڈ کو اسلامی دنیا میں زیادہ وزن مل سکتا تھا لیکن کیا سعودیہ اپنے موقف سے دستبردار ہو گا ؟ فلسطین اور غزہ کے حالات نے اس عمل کو مشکل سے ناممکن بنا دیا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ مسٹر ٹرمپ نے دنیا بھر کی مسلم ¾ مسیحی ریاستوں کو اکلوتی اسرائیلی ریاست کے مفاد کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دھمکی دی ہے ۔
فلسطین اوراسرائیل کے درمیان موجودہ تاریخی تنازعے حل کیلئے بغیر اس معاہدے کے آگے بڑھنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے ۔چونکہ یہ معاہدہ امریکی سرپرستی میں ہواتھا اور اس میں اسرائیل اور امریکہ کے قریبی عرب اتحادی شامل تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ چین کے بڑھتے عالمی اثر سے فکرمند ہے۔مشرقِ وسطیٰ عالمی تجارت، توانائی اور سمندری راستوں کیلئے اہم خطہ ہے ۔یقینا امریکہ خطے میں ایسا اتحاد چاہتا تھا جو مستقبل میں چین اور روس کے اثرات کو محدود کر سکے۔آج حقیقت یہ بھی ہے کہ عرب ممالک امریکہ سے سکیورٹی،چین سے تجارت اور بعض معاملات میں روس سے توانائی تعاون ایک ساتھ چاہتے ہیں۔ وہ ”multi-alignment“ کی پالیسی چلا رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی درست دکھائی دیتی ہے کہ چین،بھارت،بدھ مت،ہندو یا دوسری تہذیبیںاس نام میں شامل نہیں ہوتیں۔کیوں کہ اس میں تہذیبی یا مذہبی علامت موجود ہے۔اب تک یہ معاہدہ عملی طور پرسفارتی تعلقات،تجارت،دفاع اور علاقائی سیاست تک محدود رہا ہے، نہ کہ کسی مذہبی عالمی اتحاد کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس اکارڈ کے ذریعے خطے میں China اور Russia کے بڑھتے اثر کو متوازن کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی گئی۔اسرائیل ¾ خلیجی ممالک اور امریکہ ایک نیا جیوپولیٹیکل بلاک بنانے کی تیاری میں تھے جس کی دوسری قسط دنیا کے سامنے آئی ہے ۔جس سے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور روسی اثر و رسوخ پر دبا¶ ڈالاجا سکتا ہے۔امریکی صدر اپنے اصل مقاصد اور حقیقی چہرے کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑا اپنے ناجائزمطالبات منوانے کے در پے ہے۔ یقینا اس کیلئے وہ کسی بھی حد تک جائے گا لیکن شاید یہ پاگل پن زمین کو اپنے مدار سے تو نکال سکتاہے لیکن کسی ایسے معاہدے کو عملی شکل ہرگزنہیں دے سکتا جس کو زمین پر انسانوں کی اکثریت کسی بھی صورت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔یہ اسرائیلی اذہان کی سازش ہے جس کیلئے امریکی صدرکا کندھا استعمال کیا جا رہاہے لیکن یہ خوف ناک کھیل ہے ۔ ٹیویٹ کے مطابق ایک دو ریاستوں کو اس کا حصہ نہ بننے کی چھوٹ دی گئی ہے لیکن اُن ریاستوں کا نام نہیں بتائے گئے ۔ یارلوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان بھی اُن دوریاستوں میں شامل ہے لیکن میں سمجھتا ہوا کہ اسلامی دنیا کی حقیقی عسکری طاقت ہی پاکستان ہے جس کی رضامندی کے بغیر کوئی معاملہ خوش اسلوبی سے حل نہیں ہوسکتا۔