Wed, September 16, 2026

"تیل پر قبضہ میرا پسندیدہ آپشن ہے"؛ٹرمپ کا پاکستان کے ذریعے ایران سے مذاکرات کا اعتراف

واشنگٹن/اسلام آباد : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے تعاون سے جاری بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ایران کے ساتھ جلد کسی بڑی "ڈیل" کا امکان موجود ہے۔ عالمی مبصرین اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جو ایک طویل عرصے سے خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایرانی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ان کا پسندیدہ آپشن ہے۔
 انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ ایران کے اہم ترین تیل بردار مرکز، خارگ جزیرے پر قبضہ کر سکتا ہے۔ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایران پر معاشی اور عسکری دباؤ ہی اسے مذاکرات کی میز پر لانے کا موثر طریقہ ہے۔صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ خارگ جزیرے یا ایرانی تیل پر کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت پر پڑیں گے۔ تاہم، پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا مقصد کسی بھی بڑے تصادم کو روکنا اور معاملات کو ڈیل کے ذریعے حل کرنا ہے۔

ٹیگز: