اسلام آباد: وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں شامل ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ کسی بھی ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت بھی واضح کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس کا رخ موڑنے یا اس پر ذخائر بنانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کا اصل مسئلہ صرف قلت یا زیادتی نہیں بلکہ اس کے منصفانہ کنٹرول اور انتظام کا ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث کسان مشکلات کا شکار ہیں اور بعض کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے ملک کے زرعی شعبے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔