Wed, September 16, 2026

بلوں میں چھوٹ، یا عوامی دباؤ کا نتیجہ؟ حکومت کا الیکٹریسٹی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ

بلوں میں چھوٹ، یا عوامی دباؤ کا نتیجہ؟ حکومت کا الیکٹریسٹی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی کے بلوں میں شامل صوبائی "الیکٹریسٹی ڈیوٹی" ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو کہ مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے ایک اہم ریلیف تصور کیا جا رہا ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے تمام وزرائے اعلیٰ کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں جولائی 2025 سے یہ وصولی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ بلوں میں صرف بجلی کے اصل نرخ شامل ہوں، تاکہ صارفین کو غیر ضروری چارجز سے نجات ملے۔ وفاقی وزیر نے آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی اور سرکاری پاور پلانٹس کے منافع (ROE) میں کمی جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

یہ اقدام ایک طرف عوامی ریلیف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور بجلی بلوں کے خلاف احتجاج کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا صوبے متبادل ذرائع سے اپنی ڈیوٹی وصولی کا کوئی نیا طریقہ تجویز کریں گے؟

ٹیگز: