مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر کی گئی ٹویٹ نظر سے گذری تو دل و دماغ خواجہ صاحب کے لفظوں میں الجھ گیا،ایک نہیں کئی بار میں نے یہ ٹویٹ پڑھا۔۔۔۔چند لائنوں کے اس ٹویٹ میں خواجہ سعد رفیق کے الفاظ ’’نشتر‘‘ بن کر دل میں کچوکے لگانے لگے۔۔۔۔اپنے ٹویٹ میں ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ’’دریائے سوات میں طوفانی لہروں میں گھرے بے یارو مددگار اٹھارہ افراد کا یکے بعد دیگرے بہہ جانا قیامت خیز المیہ ہے،انہیں ڈوبتا دیکھ کر دل ڈوبنے لگتا ہے،اتنی بے چارگی،اتنی بے بسی،اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو ڈوبتے دیکھنا اور اپنی باری کا انتظار کرنا،اتنی اذیت۔۔الامان الامان۔۔ ۔المناک سانحات کا تسلسل بڑھتا جا رہا ہے لیکن کسے فرق پڑتا ہے؟؟؟وطن عزیز میں شرف انسانیت کی تذلیل اور انسانی زندگی کی بے وقعتی کے ہولناک واقعات دیکھ کر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔ انصاف،آئین،جمہوریت،حقوق ،آزادی اور عوام کے نام پر اقتدار کی بے رحم جنگیں لڑنے والی حکمران اشرافیہ مذمت یا تعزیت تو کرسکتی ہے،انسانی جان،مال اور عزت کے تحفظ کیلئے پائیدارحل تلاش نہیں کر سکتی۔۔۔کوئی مانے یا نہ مانے ! ووٹ کے ذریعے تبدیلی سے عوامی اعتبار اٹھ چکا ہے،ووٹ کے فیصلوں کو بار بار روندا گیا ہے،آئین اور انصاف کی حکمرانی خواب بن چکی،ہمارے پاس اپنے اپنے بت کدوں کے حق میں دلائل اور مدح کے انبار ہیں مگر شرف انسانیت اور انصاف کے تحفظ کیلئے ہم بانجھ پن کا شکار ہیں۔۔۔دھکتے آتش فشاں پرسوار اشرافیہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ عوامی اضطراب کا لاواپک رہا ہے،خصوصاً نوجوانوں میں حدت اور شدت دن بہ دن بڑھ رہی ہے،جس دن یہ لاوا پھوٹ پڑا سارا نظام جلا ڈالے گا‘‘۔۔۔۔خواجہ سعد رفیق کا ٹویٹ پڑھنے کے بعد واقعی یقین کی سرزمین پر مایوسی کے سائے گہرے ہو چلے۔۔۔دریائے سوات کی بے رحم موجوں میں ڈوبتے اٹھارہ خواب،اٹھارہ زندگیاں،اٹھارہ آنکھیں جو کسی ساحل کی تلاش میں تکتی رہ گئیں،اب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکیں۔۔۔منظرنامہ صرف ایک سانحے کا نہیں،ایک سوال کا ہے۔۔۔سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں ڈوبے،سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟کب ریاست ماں کا روپ دھارے گی؟کب اقتدار کے سنگھاسن سے اتر کر حکمران عوام کے آنسو پونچھیں گے؟خواجہ سعد رفیق کی ٹویٹ میں بیان کی گئی اذیت صرف الفاظ نہیں،ایک چیخ ہے،ایک صداقت ہے،ایک جلا دینے والا احساس ہے۔۔۔ جو آنکھیں تماش بین بنی رہیں،جو ہاتھ بے حس ہو کر جھولتے رہے،جو زبانیں خاموش رہیں،وہ سب مجرم ہیں۔۔۔یہ قیامت خیز لمحے یکایک نہیں آتے،یہ برسوں کی بے حسی،دہائیوں کی کوتاہی اور صدیوں کی غفلت کے بعد اگتے ہیں۔۔۔۔ ہمارے ہاں ریاستی ڈھانچہ ہر سانحے کے بعد ماتمی بیان دیتا ہے،ایک رسمی تعزیت،ایک دکھاوے کا نوحہ۔۔۔پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔۔نہ کوئی پالیسی،نہ اصلاح،نہ تدبیر۔۔۔ہجوم کو قوم بنانے کا عمل کہیں کھو چکا ہے۔۔۔انسانی جان کی حرمت لفظوں کی بازی گری بن چکی۔۔۔تاریخ میں انسانی جان کی توقیر سے بڑی کوئی ریاستی قدر نہیں رہی۔۔۔سیدنا عمر خطابؓ کے دور میں اگر دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مر جاتا تو خلیفہ خود کو جواب دہ سمجھتے۔۔۔آج انسان پانی میں ڈوب رہے ہیں اور حکمران صرف اظہارِ افسوس کر رہے ہیں۔ان کا ضمیر مر چکا،احساس ناپید اور ریاست خواب بن چکی ہے۔۔۔۔اشرافیہ کا لہجہ بدلا نہیں۔۔۔ان کے لیے اقتدار ایک موروثی وراثت ہے اور عوام محض ریٹنگ بڑھانے والے ہندسے۔۔۔انسان ان کے بیانیوں میں تو جیتے ہیں،زمینی حقیقت میں محض اعداد و شمار بن جاتے ہیں۔۔۔یہ درد بس انہی دلوں کو چھوتا ہے جن میں انسانیت کی رمق باقی ہو۔۔۔ سعد رفیق جیسے چند اصحاب کبھی کبھی آئینے تھام لیتے ہیں مگر وہ بھی اپنے گریبان میں جھانکنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو سانحات کی ایک لمبی قطار دکھائی دیتی ہے۔۔۔ مشرف دور کا زلزلہ ہو یا سیلابوں کی تباہ کاری،سانحات کے بعد صرف ایک منظر بار بار دوہرایا گیا، ریاست کی ناکامی۔۔۔ نظام اتنا ناپائیدار ہو چکا ہے کہ کوئی حادثہ نہیں،ہر دن قیامت کا منظر پیش کرتا ہے۔۔۔سرکاری ادارے صرف کاغذی کارروائی کے لیے ہیں، فلاحی کام این جی اوز کے رحم و کرم پر اور انسانی جان ایک بوجھ سمجھی جاتی ہے۔ریاست کی ذمہ داری صرف موٹر ویز بنانا نہیں،انسانی جان کی حفاظت ہے۔۔۔اگر آج سوات کے دریا میں 13 لوگ مرے تو کل کراچی کے ساحل پر،پرسوں بلوچستان کے ریگستان میں۔۔۔انسانی جان کے تحفظ کے بغیر کوئی ریاست ریاست نہیں،فقط ایک سرزمین ہے جس پر طاقتور قابض ہو چکے۔