Wed, September 16, 2026

معصومیت کے دھوکے

معصومیت کے دھوکے

میں بچپن سے سنتا آیا تھا کہ پاکستان میں بدامنی اَور بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اِسلامی سزائیں نافذ نہیں ہیں۔ اگر قاتل کو موت کی سزا ہو، چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، زانی کو سو کوڑے مارے جائیں تو ملک میں ہر طرف اَمن اَور چین کا راج ہوجائے گا۔ اِس کے ثبوت میں سعودی عرب کی مثال دی جاتی تھی کہ چونکہ وہاں یہ سزائیں نافذ ہیں اِس لیے وہاں امن ہے۔ بہت بڑے بڑے لوگ یہ باتیں کہتے تھے۔ چنانچہ میں اِن باتوں پر اِیمان لے آیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اِنٹرنیٹ نہیں تھا۔ معلومات تک رسائی کتابوں یا اخباروں کے ذریعے ہی ہوسکتی تھی۔ اِن دونوں ذرائع سے معلومات اپنی مرضی کے تحت حاصل کرنا اگر مقصود ہو تو بہت عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔ کئی کتابیں چھاننا پڑتی ہیں، پرانے اخبارات چاٹنا پڑتے ہیں تب کہیں جاکر آپ کو اَپنی مرضی کی معلومات ملتی ہے۔ چنانچہ میں اپنی معصومیت میں یہی سمجھتا رہا کہ جس دِن پاکستان میں اِسلامی سزائیں نافذ ہوگئیں، ایک سال کے اَندر اَندر ملک سے جرائم کا قلع قمع ہوجائے گا۔
پھر اکتیس سال کی عمر میں میں پہلی بار ملک سے باہر نکلا۔ میں ایک مہینے کے لیے فرانس گیا تھا۔ فرانس جاکر میں نے دیکھا وہاں لوگ چین کی بنسری بجا رہے ہیں۔ لڑائی جھگڑے، قتل و غارت، لوٹ مار کچھ بھی نہیں ہے۔ لوگ اکیلے سنسان سڑکوں پر گھومتے ہیں۔ رات ہو یا دِن کسی کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔ خود میں ایک قیمتی کیمرا لے کر سنسان سڑکیں ناپتا رہتا تھا۔ کسی نے مجھ سے وہ کیمرا نہیں چھینا۔ کسی نے میری جانب آنکھ اْٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ میری جیب میں بٹوہ بھی ہوتا تھا۔ کسی نے میری جیب نہیں کاٹی۔ اْس کے بعد میں یورپ کے بیشتر ممالک میں گیا، چین، جاپان وغیرہ بھی گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ یہاں کون سی اِسلامی سزائیں نافذ ہیں جن کے باعث یہاں جرائم میں کمی ہوگئی ہے۔آج دْنیا میں جن ممالک میں جرائم سب سے کم ہیں اْن میں آئس لینڈ، جاپان اَور نیوزی لینڈ سب سے اْوپر ہیں۔ اِن ممالک میں سے کسی میں اِسلامی سزائیں نافذ نہیں ہیں۔ دْنیا کے پہلے دس محفوظ ترین ممالک میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں وہ سزائیں تو نافذ نہیں ہوں گی جن کے بارے میں ہمارا خیال یہ ہے کہ صرف وہ ہیں جو دْنیا سے جرائم کا خاتمہ کرسکتی ہیں۔
اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے خیالات اَور نظریات میں کہیں کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہم ایک اَیسے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس نے کبھی ہاتھ نہیں آنا۔ خاص طور پر ہمارے ملک کے حوالے سے تو یہ بات نہایت آرام سے کہی جاسکتی ہے کہ اِسلامی سزاؤں کی میٹھی گولی ہمیں چپ کرانے کے لیے جان بوجھ کر دی گئی ہے۔ نہ وہ سزائیں کبھی نافذ ہوں گی اَور نہ ہی کبھی اَمن ہوگا۔ عوام شور مچائیں تو اْنہیں اِسلامی نظام اَور اِسلامی سزاؤں کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جائے۔ عوام بھاگ بھاگ کر ہانپ جائیں گے اَور بالآخر تھک کر گر پڑیں گے۔ پھر وہ حالات سے سمجھوتہ کرلیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا ہے۔ اَب ہم یہ سوچ رکھتے ہیں کہ یہ حالات اَیسے ہی رہنے ہیں۔ سارا قصور حکمرانوں اَور نظام بنانے والوں کا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہاں اِسلامی نظام نافذ ہو۔ لطف یہ ہے کہ اْن حکمرانوں کو ہم خود ہی ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں۔ ووٹ دینے سے پہلے ہم یہ نہیں جانچتے کہ یہ لوگ اْس معیار پر پورے بھی اْترتے ہیں یا نہیں جو ہمیں درکار ہے۔ ہمارے نظریے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سزائیں تو یاد کرلی ہیں لیکن یہ بھول گئے کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی بھی چوری کرے تو میں اْس کا ہاتھ بھی کٹوا دوں گا۔ ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ آپ ؐ نے فرمایا کہ گزشتہ  اقوام اِس لیے تباہ ہوئیں کیونکہ جب اْن کے امیر  اَور بااثر لوگ جرائم کرتے تھے تو چھوٹ جاتے تھے اَور جب غریب اَور نادار لوگ کوئی جرم کرتے تھے تو دھر لیے جاتے تھے۔ ہم یہ بھی بھول گئے کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ جب بات کہو تو اِنصاف کی کہو خواہ معاملہ اَپنے رِشتے دار کا ہی کیوں نہ ہو (سورۃ الانعام۔ آیت نمبر 152)۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ اَصل اَہمیت سزاؤں کی نہیں ہے بلکہ عدل و اِنصاف اَور قانون کی حکمرانی کی ہے۔ جن ممالک کا اوپر ذِکر ہوا اْن میں قانون کی حکمرانی ہے۔ جو جرم کرتا ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہے، وہ دھر لیا جاتا ہے اَور اْسے قرار واقعی سزا دی جاتی ہے۔ یہ بات بھی پتا چلی کہ عدل کرنے کے لیے کلمہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ غیر مسلم بھی عدل و اِنصاف پر مبنی معاشرہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ کلمہ توہمیں یہ یاد دِلاتا ہے کہ عدل کرنا تمہارا فرض ہے۔ اِس یاد دلانے پر عمل ہم نے خود ہی کرنا ہے۔ کلمے نے زبردستی ہم سے عدل نہیں کرالینا۔ جس نے یہ بات یاد کرلی کہ معاشرے کی بقاء عدل میں ہے، وہی ترقی کرگیا۔ اْن ممالک میں آج شیر اَور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں۔ ہمارے یہاں شیر ہر وقت بکری کی تاک میں رہتا ہے خواہ وہ گھاٹ کے قریب ہوں یا نہ ہوں۔ سورۃ النحل کی آیت نمبر 90 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’بے شک اللہ عدل اَور اِحسان اَور رِشتے داروں پر خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اَور بے حیائی، بْرے کاموں اَور سرکشی سے منع فرماتا ہے۔‘‘گویا عدل کی سب سے زیادہ اَہمیت ہے۔باقی کے کام عدل کے بعد کرنے ہیں۔ہم یہ آیت ہر جمعے کے خطبے میں پڑھتے اَور سنتے ہیں۔ اِس پر عمل کتنا ہے ہوتا ہے؟ سب کے سامنے ہے۔
مسلمان کی ذمہ داری تو دو چند ہے۔ اْس نے اللہ تعالیٰ اَور نبی کریم ؐ پر اِیمان لانا ہے اَور اْن کے احکامات پر عمل بھی کرنا ہے۔ ہم نے آدھا کام کرلیا۔ ہم اِیمان لے آئے۔ احکام پر عمل غیروں نے کرنا شروع کردیا۔ آپ دیکھ لیں کہ کہاں زندگی آسان ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ اِیمان کے ساتھ احکام پر عمل کرنا اْتنا ہی ضروری ہے۔ غیروں کی آخرت اِیمان نہ لانے کی وجہ سے برباد ہوگی۔ اگر ہم یہ کہیں ہماری آخرت اَحکام پر عمل نہ کرنے کے باوجود شان دار ہے تو ہم احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں اَور روزِ حساب ایک بہت بڑے صدمے سے دوچار ہونے والے ہیں۔جو احکامات دیئے گئے ہیں اْن پر عمل کرنے سے دْنیا ضرور بہتر ہوجاتی ہے۔ وہ دیئے بھی اِسی لیے گئے ہیں تاکہ ہماری دْنیاوی زندگی بہتر ہو اَور اْس کے ذریعے ہم اَپنی آخرت بھی بہتر کرلیں۔جب ہر طرح بدامنی ہو، نااِنصافی ہو، آپا دھاپی کا ماحول ہو تو اِنسان کے لیے دِین کے اَحکامات پر عمل کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب آپ کو یقین ہو کہ سرخ بتی پر کار روکنے سے پیچھے سے ضرور کوئی ٹکر ماردے گا تو اِنسان اپنی کار بچانے کے لیے اِشارہ توڑ دے گا۔ ہمارادین ہم سے یہ توقع نہیں کرتا کہ ہم بدامنی میں جیے جائیں اَور پھر بھی پکے دِین دار رہیں۔ یہ کام چند گنے چنے لوگ تو کرسکتے ہیں، لیکن عوام کی اکثریت سے توقع نہیں کی جاسکتی اَور کی بھی نہیں جانی چاہیے۔ اِس لیے ہمارا دین یہ چاہتا ہے ملک میں عدل و اِنصاف کا بول بالا ہو۔ ہر ایک کو اْس کا جائز حق ضرور ملے۔ اِس کے بعد اگر کوئی حرام پر منہ مارے تو اْسے قرار واقعی سزا دی جائے۔ لیکن اگر جائز حق حاصل کرنے کے رشوت، سفارش، دْوسروں کو پیچھے دھکا دینا ضروری ہوجائے تو پھر اِنسان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اَپنا جائز حق چھوڑ کر چپ چاپ بیٹھ جائے اَور اللہ اللہ کرے۔ یہ توقعات جذباتی تحریروں اَور تقاریر میں تو کی جاسکتی ہیں، حقیقت میں اِن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
چنانچہ ہمیں اَب اَپنی معصومیت کے دھوکوں سے نکل آنا چاہیے اَور حقیقت کو جاننے اَور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کیا دْرست اَور حق ہے اَور کون سی میٹھی گولیاں ہیں جن سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ 

ٹیگز: