کشمیر کا تنازع برصغیر کی تقسیم کے بعد سے جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے کا ایک مستقل اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ معاملہ نہ صرف پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا بنیادی محور ہے بلکہ خطے کے امن، سلامتی اور سفارتی ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے قیام کے ابتدائی دن سے مسئلہ کشمیر کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار دیا ہے اور ہر دور میں اس موقف کو برقرار رکھا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو بین الاقوامی اصولوں اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کے تعین کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
پاکستان کی مختلف حکومتوں نے، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر، مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر پاکستان نے مسلسل یہ مو¿قف اختیار کیا کہ اس تنازع کا پائیدار اور منصفانہ حل خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔ سفارتی کوششوں، پارلیمانی قراردادوں اور بین الاقوامی روابط کے ذریعے اس مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی کوششیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ رہی ہیں۔
تاریخی اعتبار سے 1947-48، 1965 اور 1999 کے تنازعات میں کشمیر مرکزی حیثیت رکھتا رہا اور کشمیر آج بھی جنوبی ایشیا کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے ایک حساس اور اہم مسئلہ ہے۔ اس کے لئے پاکستان کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزاد کشمیر اور اس کے عوام کو دشمن سے محفوظ رکھا ہے۔
آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان تعلقات تاریخی، جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں۔ مختلف ادوار میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، شاہراہوں، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولتوں، مواصلاتی نظام اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں وفاقی حکومت اور قومی اداروں نے تعاون فراہم کیا ہے۔ ان اقدامات کو پاکستان اپنے آئینی، انتظامی اور عوامی تعلقات کے تناظر میں دیکھتا آیا ہے۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری صرف بیرونی خطرات سے دفاع تک محدود نہیں ہوتی بلکہ داخلی امن، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ ایک آئینی ریاست میں اختلافِ رائے، احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش موجود ہوتی ہے، تاہم یہ تمام سرگرمیاں ریاست کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی مثبت نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ جہاں کہیں احتجاج تشدد، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف حملوں کی صورت اختیار کر لے، وہاں ریاست پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ قانون کے مطابق امن و امان بحال کرے۔
یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ کسی بھی تنازع یا ناخوشگوار واقعے کو کسی پوری برادری، قبیلے یا علاقے سے منسوب نہ کیا جائے۔ پاکستان مختلف قومیتوں، زبانوں اور قبائل پر مشتمل ایک متنوع وفاق ہے، جس کی اصل قوت اسی تنوع میں مضمر ہے۔ اگر کسی فرد یا گروہ کے خلاف قانون شکنی کے الزامات موجود ہوں تو ان کا فیصلہ قانون اور عدالتوں کے ذریعے ہونا چاہیے، جبکہ پُرامن شہریوں کے آئینی حقوق ہر صورت محفوظ رہنے چاہئیں۔ لیکن ریاست اس حقیقت سے بھی آنکھ نہیں چرا سکتی کہ 50 لاکھ آبادی کے خطے کے مکینوں کو دشمن کے ہاتھوں بکے ہوئے چند شر پسندوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا جائے۔ کشمیری پاکستان سے اور پاکستان کشمیر اور کشمیریوں سے والہانہ لگاو¿ رکھتے ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے چند بکے ہوئے ملک دشمن ایجنٹ ایک کالعدم تنظیم کی آڑ میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ جن سے آہنی ہاتھوں سے نبٹنا اب وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس کالعدم تنظیم کے بیشتر مطالبات مانے جا چکے ہیں لیکن پاکستان کے آئین اور سالمیت سے متصادم مطالبات ہرگز قبول نا کیے جائینگے۔ ایسے دہشت گردوں جو ملکی سالمیت پہ حملہ آور ہونے کی کوشش میں ہوں، ان سے وہی سلوک ہو گا جو ملک دشمنوں سے ہوتا آیا ہے۔
پاکستان کی قومی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی ملک کو داخلی یا خارجی چیلنجز کا سامنا ہوا، قومی یکجہتی، آئین سے وابستگی اور ریاستی اداروں کے استحکام نے اہم کردار ادا کیا۔ اسی لیے داخلی استحکام، موثر طرزِ حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور قانون کی یکساں عمل داری کسی بھی مضبوط ریاست کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ ان اصولوں کی پاسداری نہ صرف قومی اعتماد کو فروغ دیتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ریاست کے مو¿قف کو مضبوط بناتی ہے۔ اب پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ محب وطن کشمیریوں پہ بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے ملک دشمن عناصر سے قطع تعلق کریں، انہیں اپنی صفوں سے نکال باہر کریں اور پاکستان کے آئین اور سالمیت کے خود ضامن بنیں۔
یاد رہے کہ قومی مفادات کا تحفظ اسی وقت موثر انداز میں ممکن ہوتا ہے جب ریاست اور اس کے مکین اپنی اپنی آئینی ذمہ داریوں، انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے متوازن راستہ اختیار کریں۔ یہی طرزِ فکر اور طرز عمل پاکستان کے داخلی استحکام کو مضبوط بنا سکتا ہے اور اب یہ پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا بھی فرض بن گیا ہے۔
70 سال سے ایک ہی نعرہ اور مقصد تھا اور ایک ہی رہے گا۔ کہ کشمیر بنے گا پاکستان، ان شاءاللہ۔