Wed, September 16, 2026

جدید تقاضے اور آئینی تبدیلیاں

جدید تقاضے اور آئینی تبدیلیاں

27ویں ترمیم کا غم نہ ہوتا تو تحریک انصاف کسی دوسرے غم میں مبتلا ہو کر ریاست مخالف بیانیے پھیلا رہی ہوتی ۔ اس کے بارے میں کوئی دوسری رائے کیسے قائم کی جاسکتی ہے کہ نیازی عدمِ اعتماد کے بعد آج تک یہی کھیل کھیل رہا ہے ۔ میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ پاکستان کی سیاسی اور معاشی حالات کبھی ہمارے ہوش میں آنے کے بعد آئیڈیل رہے ہیں ۔لیکن کیا جب انسان حالات سدھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اُسے ’’ اجنبی لوگوں‘‘ کا آلہ کاربن کر ریاست مخالف تحریک شروع کردینی چاہیے ؟ 27ویں ترمیم تو ہر حال میں قبول و منظور ہو جائے گی کہ حکومت اور ریاست کو اِس ترمیم کے خلاف اُس مزاحمت کا سامنا نہیں جو کسی بھی ترمیم کو روکنے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ اب جب یہ ترمیم اپنی اصل شکل میں سامنے آ چکی ہے تو اب اس میں سمجھنے کیلئے بہت کچھ ہے ۔ پاک بھارت جنگ نے بہت سی نئی فوری ضرورتوں اور سہولتوں کوحکومت پر آشکار کیا ہے اور یقینا جدید جنگ کی شکل پہلی بار پاکستانی سیاستدانوں کے سامنے آئی تھی گو کہ افواج پاکستان نے بھارت کا منہ توڑ جواب دے کر ثابت کردیا کہ وہ اس جنگ بارے بہت کچھ پہلے ہی جانتے تھے اور اُن کی تربیت اور حوصلے میں کوئی کمی نہ تھی لیکن جہاں جہاں جنگ کے رستے میں آئینی رکاوٹیں آئیں اُن کو دور کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن اگر آپ دنیا کی ہر شے کو سازش کی عینک سے دیکھیں گے تو آپ کو ساری دنیا سازشی دکھائی دے گی ۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ عمران نیازی کو جیل سے نکال کر وزیر اعظم بنا دیا جائے ۔ سوشل میڈیا پر’’ نیازی کے کی بور وارئیرز ‘‘ اس کو آخری جنگ سمجھ کر لڑ رہے ہیں حالانکہ انہیں یہی طاقت اپنے تنظیمی اور سیاسی معاملات درست کرنے کیلئے صرف کرنی چاہیے ۔ حقیقت میں جو بات میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ’’ عمران نیازی اور اُس کی ریاست مرتد سپاہ ‘‘ ابھی تک عدم اعتماد کے ذریعے نیازی کو ہٹائے جانے کے صدمے سے نہیں نکلی اور بدقسمتی سے اُس میں کچھ سینئر اور جونیئر صحافی اور سیاستدان بھی مبتلا ہو چکے ہیں جو عمران نیازی کے وزیر اعظم بننے سے پہلے اُس کے بدترین مخالف تھے لیکن یو ٹیوب کی کمائی اورنقد رقم نے بہت سے ماضی کے دیانت دار لوگوں کو گمراہ کر رکھا ہے ٗ لیکن میں سمجھتا 
ہوں کہ اس آئینی ترمیم کے بعد بہت سے بادل چھٹ جائیں گے اور بہت سی اڑتی ہوئی سیاسی گرد اس میدان میں بیٹھے جائے گی ۔ایک ادارے کے ساتھ عمران نیازی کا شروع ہونے والا اختلاف بڑھتے بڑھتے ریاست دشمنی میں بدل گیا اور اِس کیلئے کسی شہادت کی ضرورت نہیں صرف نیازی کی اپنی تقاریر اور ایکس پر بیانات ہی کافی ہیںاس کے علاوہ عمران نیازی کی طفیل سیاست کرنے والوں کے وہ عملی اقدامات بھی جو انہوں نے عمران نیازی کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد اٹھائے ۔ پاکستان کی تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ محاذآرائی ٗفوج پر تنقید ٗ عدلیہ مخالف بیانات ٗ سائفر کا الزام اور اداروں بارے منفی پروپیگنڈا کی انتہا ٗ توڑ پھوڑ ٗ راستوں کی بندش ٗ حالت جنگ میں دشمن کے بیانیے کو پھیلانے جیسے گھنائونے افعال سے بھی دریغ نہیں کیا گیا ۔علی امین گنڈا پور کے بعد نومولود وزیر اعلیٰ سرحد عرف عشقِ عمران نے تو بے شرمی کی انتہا کر دی ہے۔ اُس کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے لیکن کیا افواجِ پاکستان کیخلاف ایسا گھٹیا بیان داغنے پر صرف پیکا ایکٹ کا مقدمہ ہی بنتا ہے ؟ کیا یہ افواج پاکستان کے خلاف دشمنی کا سب سے بڑا ثبوت نہیں ہے ؟سہیل آفرید ی اگر غور سے دیکھتا تو اُسے معلو م ہوتا کہ کتے کہاں باندھے گئے تھے اور آج بھی بندھے ہوئے ہیں ۔کیا تحریک انصاف پاکستان کے ہر مسئلے کا حل سڑک پر ڈھونڈ رہی ہے جبکہ اُن کے نمائندے سینٹ ٗ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر معاملات احتجاج کے ذریعے ہی حل کرانے ہیں تو پھر انہیں اسمبلیوں سے مکمل نکل کر ایک انقلابی تحریک چلانی چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ انقلاب کا مطلب آہستہ آہستہ تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ طاقت کے بل بوتے پر سب کچھ تبدیل کرنا ہوتا ہے ۔ یہ دنیا کے عجیب و غریب جمہوریت پسند ہیں جو بیلٹ کی بات کرتے ہیں لیکن بُلٹ چلاتے ہیں ۔ پرچی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن ہاتھ میں برچھی پکڑ رکھی ہے ۔ پاکستان کے آرمی چیف سے نیازی کا اختلاف بھی سیاسی نہیں ہے بلکہ اُس مغرور انسان کو آج تک یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ افوا ج پاکستان کے ایک آئی ایس آئی چیف نے اُسے بطور وزیر اعظم گوگی ٗ پنکی اور بزدار کی کرپشن  کی داستانیں کیوں سنائیں۔ پاکستان ہمیشہ رہنے کیلئے بنا تھا اور ہمیشہ رہے گا البتہ اس کے دشمن ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اس کے عوام کو جس دن مہنگائی اور اِس جیسے دوسرے عذابوں سے چھٹکارا مل گیا اُس دن جھوٹ کا کاروبار کرنے والوں کی بہت سی دکانیں بند ہو جائیں گی۔
27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے استحکام ِپاکستان پارٹی کے قائدین نے اپنے مرکزی صدرو وفاقی وزیر ِمواصلات عبد العلیم خان کی قیادت میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کی اور اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ۔برادرم ہارون الرشید کا وی لاگ وزیر مواصلات عبد العلیم خان کے حوالے سے سنا تو انتہائی دکھ ہو ا ۔ ہارون الرشید عمران نیازی کے پرانے چاہنے والے ہیں اور اب بھی اُن کی واپسی کے حوالے سے پُرامید ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جب آپ کی خبر کے ذرائع معتبر نہیں ہیں تو آپ کیسے اپنی خبر کو معتبر بنا سکتے ہیں ۔ صحافی اور سی آئی اے پولیس کے حوالدار میں فرق ہو نا چاہیے ۔گو انہوں نے اپنے وی لاگ میں ساتھ ساتھ تردید بھی کی لیکن جب تک آپ کا رابطہ فریق ثانی سے نہیں ہوا تو آپ کو من گھڑت الزامات کی بارش کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ یہ مسئلہ موصوف کے ساتھ پی ٹی آئی میں بھی تھا کہ غیر مصدقہ خبریں اپنے کالمز کا حصہ بناتے رہتے تھے ۔عبد العلیم خان ایک انتہائی محنتی سیاست دان ہیں جو ایک طرف وفاقی وزارت کوخوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں تو دوسری طرف اپنے وسیع کاروبار کو بھی دیکھتا ہے ۔ وہ اپنے نیوز چینل پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور عوامی فلاح کے عظیم الشان منصوبے عبد العلیم خان فائونڈیشن کی کارکردگی سے بھی مکمل باخبر رہتے ہیں جبکہ اس دوران اُنہیں کئی کئی دن پاکستان سے باہر گزارنا پڑتے ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ عبد العلیم خان کسی قسم کی کوئی مراعات حکومت پاکستان سے وصول نہیں کرتے بلکہ پاکستان کے اندر اور باہر ہونے والے تمام اخراجات خود برداشت کرتے ہیں ۔پاکستان کو ایسے ہی سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو قومی خزانے کی مکمل حفاظت کرسکیں اور اُس کے بعد بھی اپنے آپ کو پاکستان کی عدالتو ں کے سامنے جوابدہ سمجھیں۔

ٹیگز: