حالیہ سیلاب اور بارشوں نے پاکستان میں تباہی اور بربادی کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی خیبر پختون خواہ میں تباہی پھیلانے کے بعد پانی کے بڑے ریلے پنجاب میں داخل ہوئے ۔1988 کے بعد پنجاب میں اتنا بڑا سیلاب نہیں آیا پنجاب کے سبھی دریا یوں بے قابو ہوئے کہ متعدد دیہات کو ملیامیٹ کر کے آگے نکلتے گئے پنجاب کا اس وقت تقریباً ساٹھ فیصد حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے جو اس وقت اپنے علاقوں میں موجود خشک جگہوں پر بے یار و مددگار بیٹھے ہیں ان کے پاس سر چھپانے کو چھت ہے اور نہ کھانے کو راشن اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پنجاب اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن بہت سے علاقوں میں کوئی مددگار اور نہ ہی غیر سرکاری تنظیمیں پہنچ پائیں میں تمام غیر سرکاری تنظیموں سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ اپنا فوکس صرف لاہور پر نہ رکھیں بلکہ جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ،کمالیہ، شور کوٹ ، ڈیرہ غازی خان کے ساتھ جتنے علاقے بھی سیلاب کی آفت سے نبرد آزما ہیں وہاں جائیں وہ آپ کے منتظر ہیں ۔
بہرحال اس آفت کے دور میں ریسکیو اداروں ، پنجاب حکومت ،پاک فوج ،سول ڈیفنس اور غیر سرکاری تنظیموں کے رضاکاروں کا کردار بہت مثبت رہا این ڈی ایم اے کی بروقت اطلاع اور حکومت پنجاب کی بہترین کارکردگی سے پنجاب بڑے جانی نقصان سے محفوظ رہا الحمدللہ۔
حکومت پنجاب کے اعلان نے مجھے حیرت میں ڈال دیا وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ہم سیلاب متاثرین کے نقصان کا ازالہ کریں گے مجھے تو یہ صرف اعلان ہی لگ رہا ہے کیونکہ ایسا ممکن نہیں اس وقت پنجاب میں جو آفت برپا ہے اس نے سارے سارے دیہات جن کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے ملیا میٹ کر دیئے ہیں لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں برباد ہو گئی مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکے ہیں پچیس لاکھ کے قریب خاندان بے گھر ہو چکے ہیں یہ تو وہ نقصان ہیں جو سب کو نظر آ رہے ہیں لیکن کیا حکومت پنجاب حاجی
فضل دین کی ساری زندگی کی محنت اور جمع پونجی سے بنایا گیا گھر واپس تعمیر کر سکتی ہے؟ کیا اسحاقے تیلی کی کریانے کی دکان دوبارہ بھرنے میں مدد کر سکتی ہے؟ کیا مائی بلقیس کی بیٹی کا جہیز راوی سے وصول کر کے دے سکتی ہے؟ کیا کرامت بھٹی کی بھینسیں سیلاب سے واپس دلوا سکتی ہے؟ کیا چاچے نواز کی زمین کا ٹھیکہ زمیندار سے واپس دلوا سکتی ہے؟ کیا جواد حسین کا برگر شوارمے کا اڈا ڈھونڈ کر دے سکتی ہے؟ کیا مکھے کمار کی سبزی کی دکان بنانے میں مدد کر سکتی ہے؟ کیا جیرے ترکھان کا آرا خریدنے میں ساتھ دے سکتی ہے ؟کیا ان لوگوں کو کوئی حوصلہ دیا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر ڈبل نوکریاں کر کے حاجی خوشی کی رہائشی سکیم میں قسطوں پر پلاٹ لے کر گھر بنایا تھا اور وہ سیلاب میں بہہ گیا میرا خیال ہے نہیں حکومت ایسا کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور ابھی تک بہت کم ممالک امداد کا اعلان کرنے آئے ہیں اگر یہ امداد پاکستان پہنچ بھی جاتی ہے تو عین ممکن ہے کہ گزشتہ سیلابوں کی طرح امداد کی رقم سے زیادہ خرچہ اسے حقداروں تک پہنچانے میں آجائے آخر ایسا کب تک چلتا رہے گا کب تک لوگوں کے خواب خوشیاں امیدیں امنگیں ہمت حوصلے سیلاب کی نذر ہوتے رہیں گے اب اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے حکومت اگر واقعی سیلاب زدگان کی مدد کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی ترجیحات کو تبدیل کرنا ہوگا ۔
کل سے ہی ایسے پروجیکٹس پر کام شروع کرنا ہوگا کہ آئندہ ان سیلابوں کا مستقل سد باب کیا جا سکے کیونکہ اگر اب بھی حکومت سیلابوں کی روک تھام کے لیے کوئی جامع پلان نہ بنا سکی تو پھر کبھی نہیں بنا پائے گی جس طرح حکومت پنجاب اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پنجاب میں آٹھ ڈیم یا واٹر ریزروز بنانے جا رہی ہے اللہ کرے یہ منصوبہ حقیقت کا روپ اختیار کر لے حکومت پنجاب خوری ڈیم اٹک کے قریب خوری گاؤں کے ساتھ بنانے جا رہی ہے جس میں سیلابوں کے پانی کو جمع کر کے سارا سال کاشتکاری کے لیے استعمال کیا جائے گا دوسرا واٹر ریزرو بوپن کے مقام پر چک بیلی کے ساتھ دریائے سواں پر بنایا جائے گا جس سے صاف پانی ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزار کر راولپنڈی اسلام آباد کو دیا جائے گا تیسرا اور بڑا ڈیم مورج ڈیم جو راجن پور میں بنایا جائے گا جو کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلوں سے بھرا جائے گا اگر یہ ڈیم بن جاتا ہے تو ہمارے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہوگا اور اس کے ساتھ راجن پور ڈی جی خان کے ساتھ بہت سے علاقوں کو سیلابوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا جائے گا چوتھا ڈیم پوٹھوار ریجن میں سواں ڈیم کے نام سے بنایا جائے گا جو دریائے سواں کے ساتھ پہاڑوں سے آنے والے ریلوں کو روکنے میں مدد کرے گا پانچواں ڈیم جہلم کے ساتھ روہتاس کے علاقے میں دریائے کہان پر بنایا جائے گا اور اس کے ساتھ تین چار بڑے واٹر ریزروز لاہور کے ساتھ بنائے جائیں گے یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تمام کے تمام منصوبے تبدیلی کے دور سے پہلے بنائے گئے تھے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔
دوسرے مرحلے میں ہمارے پاس گنڈا سنگھ والا کے ساتھ کنگن پور سے چولستان تک لاکھوں ایکڑ زمین خالی پڑی ہے وہاں اگر دریائے ستلج کے ساتھ پانی روکنے کے لیے پچاس پچاس مربع ایکڑ پر پچاس پچاس فٹ گہرے سو سے زیادہ واٹر ریزروز بنا لیے جائیں تو ستلج کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ ہوا جا سکتا ہے بارشوں اور سیلابوں کا یہ آخری سال نہیں کیونکہ یہ موسمیاتی تبدیلیوں کی ابتدا ہے اس سال صرف سترہ فیصد اضافی بارشیں ہوئی ہیں اور اگلے سال پشین گوئی موجود ہے کہ وطن عزیز میں بائیس فیصد تک اضافی بارشیں ہو سکتی ہیں اگر یہ پشین گوئی درست ثابت ہو جاتی ہے تو حکومت کے پاس صرف آٹھ ماہ ہیں اگر تو حکومت پنجاب فوراً بغیر وقت ضائع کیے ان منصوبوں پر کام شروع کر دیتی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ پنجاب اب محفوظ ہاتھوں میں ہے اس کے ساتھ مرکز اور باقی صوبوں کو بھی واٹر ریزرو پر کام کرنا ہوگا کیونکہ اب اس کے بغیر گزارا ناممکن ہو چکا ہے ۔
جناب وزیراعلیٰ پنجاب برائے کرم اپنے اعلان کردہ منصوبہ پر فوری کام شروع کرائیں اس کے لیے اگر پنجاب کو چین ترکی یا امریکہ سے بھی مدد لینا پڑتی ہے تو لے جائیں اور بے شک پنجاب کے تمام ترقیاتی منصوبے دو سال کے لیے مؤخر کر دیں کیونکہ زندہ رہے تو ترقی کے اور بھی مواقع مل جائیں گے کچھ بھی کریں میرے پنجاب کو دوبارہ اجڑنے سے بچا لیں اللہ کریم آپ کا حامی و ناصر اور مددگار ہو۔