Wed, September 16, 2026

اور اب لاہور بھی

اور اب لاہور بھی


ابھی کراچی کے گل پلازہ کا غم تازہ تھا کہ لاہور میں بھی ایک اندوہ ناک واقعہ پیش آ گیا۔ بھاٹی چوک کے قریب ایک نوجوان خاتون اور اس کی شیرخوار بیٹی سیوریج کے مین ہول میں گر کر لقمہ اجل بن گئیں۔ یہ واقعہ جس جگہ پیش ایا وہاں داتا دربار کے توسیعی منصوبے پر کام جاری ہے جس کی وجہ سے کچھ پرانی تعمیرات کو منہدم کیا گیا ہے۔ بہت سی اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دینے والے زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ 
بھاٹی چوک کے قریب سیوریج میں گرنے سے جاں بحق ماں بیٹی کے افسوس ناک واقعے میں کئی طرح کی انتظامی نااہلیاں سامنے آئی ہیں۔ سب سے پہلی نا اہلی تو یہ ہے کہ جس جگہ ترقیاتی کام ہو رہا ہے وہاں عام لوگوں کو آنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ دوسری نااہلی یہ ہے کہ اگر لوگوں کو آنے کی اجازت دی گئی تو وہاں حفاظتی انتظامات کیوں نہیں تھے۔ تیسری نااہلی یہ ہے کہ جب حادثے کا علم ہو گیا تو اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیوں کیا گیا اور چوتھی نااہلی یہ ہے کہ متاثرہ خاندان ہی کو سزا کا نشانہ کیوں بنایا گیا۔
پہلی نااہلی کی بات کریں تو عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جس جگہ کوئی ترقیاتی کام ہو رہا ہو وہاں لکھ کر لگا دیا جاتا ہے کہ یہاں احتیاط کریں کام ہو رہا ہے اور لوگوں کو وہاں تک جانے سے روکنے کے لیے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے لیکن داتا دربار میں کسی کے آنے جانے پر پابندی نہیں۔ لوگ جاری کام میں اسی طرح بے دھڑک دربار کے اندر آتے جاتے ہیں جس سے کسی بھی وقت حادثے کا اندیشہ موجود رہتا ہے۔ اگر مزار کو بند نہیں کرنا تو کم از کم لوگوں کو ہی کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کر دی جائے۔
جہاں تک دوسری نااہلی کی بات ہے تو اس کا تعلق بھی پہلی نااہلی ہی سے ہے اور وہ یہ ہے کہ جہاں کوئی ترقیاتی کام ہو رہا ہ وہاں حفاظتی دیواریں اور رات کے وقت روشنی کا انتظام بھی موجود ہوتا ہے۔ لاہور میں اور بھی کئی جگہوں پر ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جن میں داتا دربار توسیعی منصوبے کے علاوہ ناصر باغ، نیلا گنبد، لاہور ریلوے سٹیشن، کشمیری دروازے کا علاقہ شامل ہیں۔ ان تمام جگہوں پر حفاظت کے لیے آہنی دیواریں یا سبز رنگ کی چادریں لگائی گئی ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ داتا دربار کا توسیعی منصوبہ جہاں اس قسم کے تمام تر حفاظتی انتظامات موجود ہیں وہاں اس ایک مقام کو کیوں کھلا چھوڑ دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مقام اس منصوبے کا حصہ نہیں تھا کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس جگہ روشنی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے گہرا اندھیرا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں رکشوں کی پارکنگ بھی تھی جہاں باقاعدہ پارکنگ فیس بھی وصول کی جا رہی تھی حالانکہ جہاں تعمیراتی کام چل رہا ہو وہاں کسی صورت گاڑیوں کی پارکنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ معلوم یہ ہوا ہے کہ مرنے والی خاتون کے شوہر کا رکشا بھی اسی پارکنگ میں کھڑا تھا جسے لینے کے لیے وہ اور اس کا شوہر اس جگہ گئے تھے کہ اندھیرے کے باعث خاتون مین ہول نہ دیکھ سکی اور بیٹی سمیت اس میں جا گری۔ 
تیسری نااہلی یہ سامنے آئی ہے کہ واقعے کے بعد خاتون کو تلاش کرنے والے ریسکیو اہلکار اس کے شوہر سے یہ بھی پوچھتے رہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش بھی آیا ہے یا نہیں۔ ویسے آفرین ہے یہ سوال کرنے والوں پر بھی۔ بجائے اس کے کہ وہ متاثرہ شخص کی دادرسی کرتے، اس کی شکایت کا ازالہ کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے وہ اس کی بات پر ہی شک کرنے لگ گئے۔ یقینی طور پر ریسکیوعملے کا یہ ابہام بھی امدادی کارروائی میں سست روی کا باعث بنا ہو گا۔ سوچنے والی بات ہے کہ کوئی شخص بھلا اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولے گا کہ اس کی بیوی اور بچی گٹر میں گر گئی ہیں۔
چوتھی نااہلی یہ ہے کہ پولیس نے بھی متاثرہ شخص کی مدد کرنے کی بجائے اسے حراست میں لے لیا اور سنا ہے کہ اس پر تشدد بھی کیا گیا کہ اس نے خود اپنی بیوی کو غائب کر دیا ہے۔ یہ کیسا اندھیر ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی اور بیٹی کے مین ہول میں گرجانے پر صدمے کا شکار ہے اور اس کی مدد کرنے کی بجائے، اسی کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جا رہا ہے۔ یہاں تو پنجاب پولیس نے اپنا وہی روایتی کردار ادا کیا جس کے لیے وہ دنیا بھر میں بدنام ہے۔
اس واقعے میں کچھ سیاسی رہنماو¿ں کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے جو اسے فیک نیوز قرار دیتے رہے۔ یہ تو انتہا درجے کی سفاکی ہے۔ اگر ان تک غلط معلومات بھی پہنچ رہی تھیں تو ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کی بجائے مختلف ذرائع سے ان کی تصدیق کرنی چاہیے تھی کہ معاملہ دو انسانی زندگیوں کا تھا۔ اپنے مخالفین کی طرف سے پھیلائی جانے والی افواہوں کو تو فیک نیوز قرار دیا جا سکتا ہے لیکن جہاں معاملہ انسانی زندگی کا آ جائے، وہاں تو سب سے پہلی ترجیح اس کی جان بچانا ہونی چاہیے، باقی باتیں بعد کی ہیں۔ کسی عام آدمی کی زندگی سے متعلق بھلا کیوں فیک نیوز پھیلائی جائے گی۔
یہ بات لائق ستائش ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے تین متعلقہ افسروں کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انھیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا یہ اقدام خوش آئند ہے البتہ انھیں ان تینوں افسروں سے بھی پوچھنا چاہیے کہ انھوں نے غفلت کا مظاہرہ کس وجہ سے کیا۔ ممکن ہے اس سوال کے جواب میں اصل قصور وار اعلیٰ ترین افسران ہی نکلیں۔ 
یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی بے جا نہیں ہو گا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے تمام منصوبوں کی خود کڑی نگرانی یقینی بنائیں کیونکہ بیوروکریسی اور انتظامیہ کی ذرا سی غفلت بھی عوامی فلاح کے لیے کیے جانے والے ان کے اقدامات کی ساکھ پر پانی پھیر سکتی ہے۔

ٹیگز: