Wed, September 16, 2026

سیمسن آپشن

سیمسن آپشن

امریکی بحری بیڑا جس انداز میں متحرک ہونے کے بعد خلیج فارس اور بحرہند کے پانیوں کو چھوڑتا ہوا اومان کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب لنگرانداز ہوا ہے، اس کے مختلف مطلب لئے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس بحری بیڑے میں جس قسم کے جہاز آبدوزیں کیرئیر شامل ہیں، وہ اس سے پہلے کسی ایک جگہ تعینات نہیں کئے گئے۔ اس قسم کے انتظامات و اقدامات جنگی تیاریوں کے ذمرے میں آتے ہیں تو کیا امریکہ نے ایران پر کسی نہ کسی درجے کا حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہمیں امریکی صدر کی طرف سے جاری کئے گئے بیانات اور دعوﺅں پر ایک نظر ڈالنا ہو گی۔ گزشتہ سال امریکہ کے ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر نے اپنی کامیابی پر تقریباً لڈیاں ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں اور ایران کی نیوکلیئر تنصیبات کو مکمل تباہ کر دیا ہے۔ گویا امریکہ نے جس مقصد کے لئے حملہ کیا وہ حاصل ہو گیا لیکن ٹھیک چند ماہ بعد امریکہ نے ایک مرتبہ پھر ایران کو دھمکانا شروع کر دیا پھر وہاں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ہائی جیک کرنے کے لئے اور اسی بہانے رجیم چینج کے لئے سرتوڑ کوششیں کیں جو ناکام ہوئیں۔ ایرانی حکومت نے شرپسندوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا تو امریکہ اپنے شرپسندوں اور ایجنٹوں کو بچانے کے لئے پھر میدان میں آگیا۔ مکمل ناکامی سے پہلے ٹرمپ نے کہا مدد راستے میں ہے، ڈٹے رہو اور اداروں کے اندر گھس کر ان پر قبضہ کر لو۔ جب منصوبہ ناکام ہو گیا تو تخریب کاروں کو پھانسی کے پھندے سے بچانے کے لئے ایک مرتبہ پھر دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس کے جواب میں ایران نے واضح کیاکہ وہ شرپسندوں پر کھلی عدالت میں مقدمات چلائے گا لیکن کسی کو سزائے موت دینے کا فوری طور پر کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد امریکی صدر کی جان میں جان آئی اور انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیونکہ ایران نے گرفتار شدگان کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کر دیا ہے لہٰذا اب امریکہ اس پر حملہ نہیں کرے گا۔ امریکہ کی طرف سے یہ کہنے کو تو کہہ دیا گیا لیکن ایسے شواہد نہیں ملتے جن سے یقین کر لیا جائے کہ امریکہ ایران پر حملے سے باز آگیا ہے۔
امریکی بحری بیڑے کے ایران کے قریب پہنچنے کے بعد دوسری سوچ یہ ہے کہ امریکہ حملہ نہیں کرے گا لیکن ایرانی حکومت پر دباﺅ بڑھاتے ہوئے یہ چاہے گا کہ وہ خوفزدہ ہو کر خود ہی حکومت کی تبدیلی کا عندیہ دے دیں یوں امریکہ کو بغیر جنگ کے ایک ہدف حاصل ہو جائے اور نئی حکومت سے مذاکرات کے بعد ایرانی تیل پر صرف امریکہ کا حق یعنی قبضے کا دیرینہ خواب اس کی تعبیر تک پہنچ جائے جبکہ ایک اور سوچ کے مطابق امریکہ حملہ تو کرنا چاہتا ہے لیکن ایسے وقت جب ایرانی دفاع قدرے غافل ہوتا کہ کامیابی کا امکان بڑھ جائے امریکہ کو اس بات کا بھی انتظار ہے کہ جس طرح وینزویلا کی فوج نے اس کی کامیابی کا راستہ ہموار کیا اور وینزویلا کی نائب صدر نے امریکہ کا ساتھ دیا، بالکل اسی طرح اسے ایران کے اندر سے کوئی ساتھی میسر آجائے اور اس کا کام آسان کر دے۔ وینزویلا کی نائب صدر کو غداری کا انعام دیتے ہوئے وینزویلا کی صدر بنا دیا گیا ہے جو اب امریکہ پہنچ کر وینزویلا کے مفادات کا اگلا سودا کرنے والی ہیں یوں جب تک ٹرمپ اقتدار میں ہے وہ بھی اقتدار میں رہیں گی۔
یہاں اسرائیل کی طرف سے روس کے ذریعے بھجوائے گئے پیغام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جس میں اس کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ہم ایران پر پہلے حملہ نہیں کریں گے۔ کیا اسرائیل اس وعدے کا پاس کرے گا تو جواب ہے بالکل نہیں۔ یہ بھی ایک بلف ہے۔ امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ اس میں شامل ہو گا۔ سب سے اہم سوال اب ایران کے پاس کیا آپشنز ہیں؟ ایران نے ایک سے زائد مرتبہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔ وہ حملے میں پہل نہیں کرے گا۔ یہاں اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ امریکہ ایک فالس فلیگ آپریشن کرتے ہوئے خود ہی اپنا ایک بحری جہاز غرق کر دے اور اس کا الزام ایران پر لگاتے ہوئے اپنے حملے کو جوابی کارروائی قرار دے ڈالے۔
ایران نے پہلی مرتبہ واضح کیا ہے کہ وہ ”آل آﺅٹ وار“ کی طرف جائے گا اور ”سیمسن آپشن“ استعمال کرے گا۔ یہ نعرہ کبھی اسرائیل نے بھی لگایا تھا لیکن اسے پھر اس آپشن کو استعمال کرنے کی ہمت نہ ہوئی لیکن ایران نے یہ کہا ہے تو وہ یقینا کر دکھائے گا۔ سیمسن آپشن کیا ہے اسے سمجھنے کے لئے پچاس کی دہائی میں بنائی گئی فلم ”سیمسن اینڈ ڈیلائیلا“ کو یاد کر لیجئے جس کے ہیرو وکٹرمیچور تھے جو اس زمانے میں ”مسٹر یونیورس“ منتخب ہوئے تھے۔ وہ فلم کی ہیروئن ڈیلائیلا سے محبت کرتے تھے۔ فلمی سکرپٹ کے مطابق ساڑھے چھ فٹ دراز مسٹر یونیورس، وکٹر میچور کی طاقت ان کے بالوں میں تھی، انہیں گھیر گھار کر نشہ پلا کر کے ہوش کر دیا جاتا ہے اور اسی بے ہوشی میں ان کے بال کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ وہ بیدار ہوتے ہیں تو ان کی طاقت صفر ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ مٹی کے مادھو بن جاتے ہیں پھر وہ اپنے بالوں کے اگنے کا انتظار کرتے ہیں، جونہی وہ اپنے بالوں کی پونی ٹیل بنانے کے قابل بال حاصل کر لیتے ہیں، ان کی کھوئی ہوئی طاقت لوٹ آتی ہے پھر وہ ایک نئے عزم کے ساتھ زمین سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور جہاں انہیں قید کیا گیا ہوتا ہے وہاں اس قیدخانے اور بعدازاں اپنے دشمن کے محلات کو اپنے زور بازو سے گرانا شروع کرتے ہیں اور بالآخر دشمنوں کو شکست سے دوچار کرتے ہیں۔ سیمسن کی شخصیت اس کی باڈی قد کاٹھ اور اس کی طاقت کو جس طرح دکھایا گیا وہ سب کچھ فلم کی کامیابی میں بہت اہم کردار رکھتا تھا۔ سیمسن آپشن آخری دم تک لڑنے یا دوسرے لفظوں میں دشمن پر حتمی فتح تک یلغار جاری رکھنے کا آپشن ہے۔ ایران کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں اس آپشن میں اسے بھی کچھ نقصان ہو گا لیکن وہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے اس معرکے میں مسلمان ممالک کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا وہ پہلے کی طرح ایرانی میزائلوں کو راستے میں روکتے رہیں گے یا اس مرتبہ ان کا کردار کچھ مختلف ہو گا؟۔

ٹیگز: