Wed, September 16, 2026

عشقِ عمران کا دورئہ پنجاب اور مایوسی کی سونامی 

عشقِ عمران کا دورئہ پنجاب اور مایوسی کی سونامی 

آئین پاکستان کسی شہری سے امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود پاکستان ”امتیازات “سے اٹی پڑی ریاست ہے۔ مذہبی امتیاز سب سے لے کر سیاسی امتیاز اور معاشی امتیازسے لے کر روزگاری امتیاز ¾ طبقاتی تضاد نے تو تعظیمی امتیازکی لعنت کوبھی فروغ دے رکھا ہے۔ یہ سماج اتنا طبقاتی ہو چکا ہے کہ آپ کا طبقہ دیکھ کر ہی آپ کوزندگی کی ضرورتیں اورسہولتیں فراہم کی جاتی ہیں ۔ دشمن اگر فضائی حدود بھی عبور کرکے پاکستان میں داخل ہو جائے تو اُسے چائے پیش کی جاتی ہے جب کہ پاکستان کے عام شہریوں کو ذلیل و رسوا کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد ¾دریافت اور تخلیق کیے جاتے ہیں ۔ پسے ہوئے طبقات کے حوالاتیوں اور قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں وہ سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ اُس پر انسانیت شرمند ہ ہو رہی ہوتی ہے لیکن اُس کے برعکس اگر آپ فوج پر حملہ کریں گے تو آپ کو جیل میں 9کمرے ¾ مشقتیوں کی فوج ¾بہترین کھانے اورجیل کے باہر آپ کے ہمدردوں کواعلیٰ ترین پروٹوکول دیئے جائیں گے ۔ بدترین ریاست مخالف کی بیرک کے ساتھ اگر کوئی کھانس رہا ہوتو اُس کی بیرک تبدیل کردی جاتی ہے تاکہ ملک دشمن کی نیند میں خلل پیدا نہ ہو۔ پاکستانی عوام کے ٹیکس سے چلنے والی جیلوں میں پاکستان کے عام آدمی کو کالے یرقان اور ایڈز پھیلانے والے سامان سے بھی محفوظ نہیں کیا جاتا ہے۔ جس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ سہولتیں لینے کیلئے ملک دشمنی لازمی شے ہے لیکن اس کی اجازت بھی بالادست طبقے کو ہی دی جاتی ہے کہ عام آدمی اگر ان کا مدد گار یا معاون بھی ہو تو ذلت آمیز جیل قوانین اُس پر لا گو کردیئے جاتے ہیں ۔ عنقریب شاہ محمود قریشی کے خلاف بھی غداری اور عمران دشمنی کی کمپین پی ٹی آئی خود لانچ کرے گی کہ اس بارے میں سرگوشیاں شروع ہو چکی ہیں ۔
وزیر ِ اعلیٰ کے پی کے مسٹر سہیل آفریدی المشہور عشقِ عمران اپنے ساتھیوں کے ساتھ لاہور پریلغار کرچکا ہے جس میں اُس کے ساتھ وزیرِ ہائیر ایجوکیشن کے پی کے مسٹر مینا خان آفریدی بھی موجود ہیں جو مشہور آئس ڈیلرحاجی نواب آفریدی کے بھائی ہیں اور اُن کی گفتگو سن کر خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے معیارات کا پتہ چلتا ہے ۔ کیا کے پی کے حکومت پنجاب کے کسی وزیر کو کے پی کے میں پنکی پیرنی یا ٹیریان کے بارے میں ایسی گفتگو کی اجازت دے گی ؟ یقینا وہ اتنے دل گرد ے والے لوگ نہیں ہیں ۔ازاں بعد مینا خان آفریدی نے بتایا کہ اُس نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن اُس بیوقوف کو یہ علم ہونا چاہیے کہ جس بات کی طرف وہ اشارہ کر رہا تھا یہ سب کچھ بھی انہی کے میڈیا سیل کی کارستانی تھی ۔بے شرم گفتگو کرتے ہوئے مینا آفریدی کی باڈی لینگوئج اور چہرے پر غصہ دیکھنے لائق تھی یہ وہی نفرت تھی جو کبھی پنجاب پر حملہ آور ہونے والے لٹیروں کے چہروں پر ہوا کرتی تھی ۔ یہ وہ چھوٹے لوگ ہیں جن کو بڑے عہدوں پر عمران نیازی نے صرف اسی لئے رکھا ہے کہ وہ اپنی اوقات سے بڑھ کر باتیں کریں حالانکہ ایسی گفتگو خود پختون روایات کے بھی خلاف ہیں لیکن وہ پرانے پختون رہے اور نہ وہ روایات ۔باچا خان کی سیاسی جماعت کے پی کے میں سکڑنے کے نتیجہ میں یہی گند بلا پیدا ہونا تھا ۔ مجھے سہیل آفریدی کی اوقات کااندازہ تو اُسی وقت ہو گیا جب منصور علی خان سے بات کرتے ہوئے اُس نے عمران نیازی کے خوف اوردبدبے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں دیکھ کر میں ہر بات بھول جاتا ہوں ۔اب ایسا شخص جب آپ کروڑوں لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے نامزد کردیں گے تو پھر اُن کروڑوں لوگو ں کی روحوں کی روحیں بھی آپ کیلئے بددعائیں ہی کر رہی ہوں گی۔
سہیل آفریدی بار بار پیسوں کا مطالبہ کررہا ہے جو اُسے ”قیمتی جانیں“ بچانے کیلئے چاہئیں حالانکہ پیسوں کی تو انہیں کوئی کمی نہیں اسرائیل سے لے کر بھارت تک کون ہے جو انہیں فنڈنگ نہیں کر رہا ؟جس کے پاس وادی آئس کی کمائی کا اربوں روپیہ روزانہ کی بنیاد پر اکھٹا ہو رہا ہے ۔ جو کروڑوں روپے روزانہ ہیش ٹیگ کی پرموشن پرخرچ کرسکتے ہیں ¾ کروڑوں روپے میڈیا سیل میں کمپین لانچ کرنے کیلئے بلا دریغ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔جس کے ہزاروں میڈیا واریئر اربوں میں تنخواہ لیتے ہیں۔ جو برطانیہ میں بیٹھے یوٹیوبر کی کمائی سے عمران نیازی کا حصہ وصول کر رہے ہیں ¾ جن کے پاس کے پی کے جیسی سونے کی کان موجود ہیں جہاں اربوں کے میگاپروجیکٹ کی کرپشن سامنے آ رہی ہے ¾ جہاں بالٹیوں میں سے اربوں روپے برآمد ہو رہے ہیں انہیں پیسوں کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟یہ مجیب الرحمان کا بدلا ہوا بیانیہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی کمائی مغربی پاکستان پرخرچ ہو رہی ہے اور ہمیں کچھ نہیں دیا جا رہا ۔اُسے ہی تھوڑا سا تبدیل کرکے نیا بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ پنجاب ہماری مدد نہیں کررہا ¾ ہمارے حصے کے پیسے نہیں دے رہے ¾ مشکل میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ پاکستان سے روپیہ دنیا میں لابنگ فرمز ¾ غیر ملکی صحافیوں ¾ غیر ملکی میڈیا اوریوٹیوبرز کو دیا جا رہا ہے او ر حیران کُن تو یہ ہے کہ انڈین میڈیا اپنی وصولی اسرائیل سے کر رہا ہے ۔ ان حالات میں ان لوگوں کو کیسے محب وطن تسلیم کیا جا سکتا ہے یہ ایک چھوٹا سے ٹولہ ہے جو پیسے کے بل بوتے پر روزانہ کی بنیاد پراپنا بیانیہ بنا کر اپنے ناجائز کاروبار کو تحفظ دے رہا ۔ باقی سب خیر ہے۔
اب خیبر پختونخوا کے وسائل پنجاب کے ایم این ایز اور ایم پیز کے علاوہ وکلا میں بھی تقسیم ہوں گے تاکہ سوئی ہوئی پی ٹی آئی کو بیدار کیا جا سکے لیکن انہیں معلوم نہیں کہ سونے جاگنے کا عمل تربیت یافتہ سیاسی ورکرز کی زندگی میںہوتا ہے کہ یہ پھیپھڑوں کی طرح سُکرتے اور پھیلتے رہتے ہیں جس کے بارے میں اقبال نے بھی کہا تھا کہ اہل ِ ایمان سورج کی طرح ہوتے ہیں اگر ایک طرف ڈوبیں تو دوسری طرف نکل ابھرآتے ہیں لیکن کسی کلٹ کے بارے میں ایسی رائے رکھنا انتہائی احمقانہ خیال ہے کہ جو ہجوم حادثہ پیدا کرتا ہے اُسے دوسرا حادثہ ختم کردیتا ہے ۔بدتہذیبی اور بدتمیزی ان کا ٹریڈ مارک ہے لاہور پریس کلب کی جانب سے جاری مذمتی بیان میں بھی سہیل آفرید ی کے گارڈز کی جانب سے تشدد ¾ گالی گلوچ جیسے واقعات دراصل ردِ عمل کا مطالبہ کر رہے ہیں جیسا کہ عمران نیازی کو 9مئی کو پنجاب میں لاشیں چاہئے تھیں جو فوج نے بہترین حکمت ِ عملی سے اُسے نہیں دیں اور اُس کا اگلا پلان چوپٹ ہو گیا۔ عشقِ عمران کا دورہ پنجاب صرف مایوسی کی سونامی کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوا۔

ٹیگز: