اگلے روز قبلہ محمد صادق صاحب سے شرف ملاقات حاصل ہوا، تصوف و معرفت، فہم قرآن اور آقا کریمﷺ کا ذکر چھڑا تو بات چلتے چلتے قرآن عظیم کے ترجمے کی آئی جو انگریزی زبان میں مارما ڈیوک کا ذکر آ گیا۔ انگریز جو ہمارے حاکم تھے، کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی اس ہستی نے پورے عروج میں سرکار کریمﷺ کی غلامی اختیار کی اور اسلام قبول کیا۔ قرآن جس کا حرف سچا اور ایک ایک پکار میں کئی کئی تہیں رکھتا ہے، گہرائی میں کئی قلزم ماند پڑ جائیں، کا تذکرہ ہو اور پھر میرے آقا کریمﷺ کا تذکرہ ہو تو پھر بات اسی پر ہوتی ہے۔
بات کرے ہم سے کوئی تو ذکرِ مصطفی کرے
ورنہ پھر ہم سے گفتگو نہ کرے
ذکر اگر قبلہ محمد صادق صاحب کر رہے ہوں تو پھر انوارات محسوس کرنا خوش بختی ہے۔ ذکر ہو رہا تھا محمد مارما ڈیوک کا جنہوں نے اپنے نام کے ساتھ آقا کا نام لگایا۔
دنیا کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی نہ صرف اپنے زمانے کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعل راہ بن جاتی ہے۔ ان میں ایک نایاب شخصیت مارما ڈیوک پکتھال ہیں، جنہوں نے نہ صرف اپنے علم اور فہم کی روشنی کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچایا بلکہ عشقِ رسولﷺ اور قرآن کی تعلیمات کو ہر دل تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ پکتھال 1875 میں لندن کے ایک مذہبی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، جہاں ابتدائی تعلیم و ادب کے ساتھ روحانیت کا اثر ان کی شخصیت میں رچ بس گیا۔
مارما ڈیوک کی زندگی میں سب سے بڑا انقلاب تب آیا جب انہوں نے اسلام کی حقیقت سے روشناس ہوئے۔ پہلی جنگ عظیم کے زمانے میں، جب دنیا سیاسی اور معاشرتی اضطراب میں مبتلا تھی، پکتھال نے حقیقت کی تلاش میں گہرائی سے غور کیا اور محسوس کیا کہ مغربی معاشرہ اخلاقی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ انہوں نے پایا کہ انسانی فہم و فکر میں کامل رہنمائی کے لیے ایک مکمل اور بامعنی دین کی ضرورت ہے، اور یہی وہ لمحہ تھا جب ان کی نگاہ قرآن و سنت کی طرف مرکوز ہوئی۔
1917 میں پکتھال نے علانیہ اسلام قبول کیا۔ یہ فیصلہ ان کی ذاتی زندگی کا سنگِ میل تھا، کیونکہ اس وقت وہ ایک ایسے معاشرے اور خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو مذہبی اور سیاسی طور پر برطانیہ کی رائل اور علمی روایت سے وابستہ تھا۔ اس معاشرتی پس منظر میں اسلام قبول کرنا نہ صرف ایک روحانی اقدام تھا بلکہ ایک بڑی جرا¿ت بھی تھی۔ انہوں نے اپنے دل و دماغ میں قرآن کی محبت اور رسولﷺ کے عشق کو بسایا اور اس پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لیے عملی قدم اٹھایا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد پکتھال نے اپنی تمام توانائیاں اس کام میں صرف کر دی کہ قرآن کے پیغام کو صحیح، بامقصد اور ہر انسان کے دل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے دیکھا کہ مغربی دنیا میں قرآن کے تصورات اکثر غلط فہمی یا جزوی معلومات کی بنیاد پر پہنچتے ہیں، جس سے دین کی حقیقی روح واضح نہیں ہو پاتی۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے پکتھال نے انگریزی میں قرآن کا ترجمہ کیا۔ ان کا ترجمہ The Meaning of the Glorious Koran محض لفظی ترجمہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی سفر ہے، جس میں ہر آیت، ہر لفظ، ہر جملہ اپنی اصل روح کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
ان کے ترجمے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کے اصل عربی متن کے ساتھ ترجمہ پیش کیا۔ یہ امتزاج قاری کو نہ صرف الفاظ کی سطح پر بلکہ معنوی اور روحانی سطح پر بھی قرآن کے قریب لے آتا ہے۔ مارما ڈیوک پکتھال نے اپنی انگریزی کو سادہ، واضح اور مو¿ثر بنایا تاکہ غیر عرب قاری بھی قرآن کے پیغام کو براہِ راست سمجھ سکے۔ ہر صفحہ، ہر آیت ایک پُرسکون وقار کے ساتھ اخلاقی اور روحانی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
پکتھال کی شخصیت میں عشقِ رسولﷺ ایک بنیادی ستون تھا۔ ان کے نزدیک قرآن کی حقیقی سمجھ رسولﷺ کی سیرت، ان کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کے بغیر نامکمل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ترجمے میں اخلاق، عدل، محبت اور انسانی فلاح کے اصول واضح طور پر جھلکتے ہیں۔ انہوں نے دکھایا کہ قرآن صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک زندہ رہنما ہے، جو انسان کی روزمرہ زندگی، کردار، سوچ اور عمل میں روشنی ڈالتی ہے۔ مارما ڈیوک پکتھال کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ جب دل میں عشقِ رسولﷺ اور قرآن کی محبت ہو، تو علم عبادت بن جاتا ہے۔ ان کی علمی کاوش نے یہ ثابت کیا کہ قرآن فہمی صرف لفظی مطالعہ نہیں بلکہ روحانی اور عملی زندگی کی رہنمائی ہے۔ ان کے ترجمے میں قرآن کی ہر تعلیم کو زندگی کے ہر شعبے سے جوڑا گیا نماز، روزہ، اخلاق، عدل، محبت اور انسانیت کے اصول سب ان کے ترجمے میں واضح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ترجمہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم قاری کے لیے بھی دین کی گہرائی اور روحانیت کی روشنی کا ذریعہ بنتا ہے۔
پکتھال نے اپنی زندگی میں یہ پیغام بھی دیا کہ عشقِ رسولﷺ اور محبتِ قرآن کے بغیر علم مکمل نہیں ہوتا۔ ہر عمل، ہر کوشش اور ہر قلم نور کا ذریعہ بن سکتا ہے اگر دل میں خالص عقیدت اور محبت موجود ہو۔ ان کی زندگی، ترجمہ اور علمی خدمات آج بھی ہر قاری کے دل و دماغ کو منور کرتی ہیں اور انہیں قرآن و سنت کے حقیقی پیغام سے روشناس کراتی ہیں۔ مارما ڈیوک پکتھال کی شخصیت اور ان کی خدمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اسلام کا حقیقی مفہوم سمجھنے کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں، بلکہ دل میں عشقِ رسولﷺ، محبتِ قرآن اور عملی زندگی میں اس کی رہنمائی کو اپنانا ضروری ہے۔ ان کی زندگی، ان کے ترجمے اور عشقِ رسولﷺ کے جذبات آج بھی ہر دور کے مسلمان کے لیے مشعل راہ ہیں اور یقینا نسل در نسل روشنی بکھیرتی رہیں گے۔