طلوع سحر کا آخری لمحہ جنت البقیع مدینہ میں گزار کر ہم میدان احد تک چلے آئے۔ ہماری گاڑی چند فلائی اوور، کچھ پل اور کچھ النگ طے کر کے خشک و سنگلاخ چٹانوں والے مبارک پہاڑ کے پہلو سے گزرتی سڑک کو چھوڑ کر بائیں جانب مڑ گئی۔ ہم گاڑی سے اترے اور چند قدم مٹی سے اٹے راستے پر چلنے کے بعد صدیوں پہلے کے مدینہ میں پہنچ گئے۔ یہ گیارہ شوال تین ہجری کے زمانے تھے اور ہفتہ کا روز، جب کتاب الٰہی کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر ایک سو ستاسٹھ نے منافقین کے چہروں سے نقاب الٹے تھے اور اعلانیہ اپنے محبوب کو بتا دیا تھا کہ یہ جو باتیں تمہارے سامنے کہتے ہیں وہ ان کے دل میں نہیں ہیں۔
یہی احد پہاڑ تھا جس کے بارے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم احد سے۔ وہ احد کا میدان ہی تھا جہاں رسول برحق ہادی عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھ دینے والے خون کی پہچان ہوئی تھی اور ان کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ کی لاش کے مختلف اعضا کاٹ کر ہار پہننے والی ہندہ نے بلند آواز میں ایسے اشعار پڑھے جس میں حضرت حمزہ رضی اللہ کے قاتل وحشی کی تعریفیں تھیں اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکست کی خوشی۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں ملنے والی ہر فتح و کامرانی کے باوجود اپنے چچا حمزہؓ کی درد ناک شہادت نہیں بھول سکے اور اکثر انہیں یاد کر کے رو دیتے۔
مسلمانوں کی تاریخی فتح بدر کے بعد مشرکین مکہ ابو جہل سمیت اپنے ستر سرداروں اور جنگجوو¿ں کی موت کا بدلہ لینے کے لیے تین ہزار سپاہی، تین ہزار اونٹ، دو سو گھوڑے اور بھاری جنگی سامان لے کر مدینہ کے مضافاتی علاقے میدان احد میں پہنچے تھے۔ پندرہ عورتیں بھی ساتھ تھیں جو اشعار اور گیت گا کر کفار کے جذبات بھڑکاتی تھیں ان پندرہ عورتوں کی سربراہ ہندہ تھی۔ ابو سفیان اور اس کی بیوی ہندہ کو بدر میں ملنے والی شکست کا بہت غصہ تھا اس لیے وہ مسلمانوں کو شکست دینے کا ہر ہنر آزما رہے تھے۔ احد میں مشرکین اپنے ساتھ اپنا معروف معبود ہبل بھی لائے تھے، ہبل بنو امیہ کا معبود تھا۔
مسلمانوں کے پاس کل ایک ہزار سپاہی تھے اور منافقوں کا سردار عبداللہ ابن ابی سلول اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر واپس مکہ کی جانب مڑ گیا تھا اور عین اس وقت رسول برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دھوکا کر گیا تھا جب جنگ شروع ہونے والی تھی۔ عبداللہ ابن ابی کی طرف سے دھوکا ملنے کے بعد باقی صرف سات سو افراد رہ گئے تھے۔
میں دانش علی کے بلانے پر تین ہجری سے 2025 عیسوی میں لوٹ آیا کہ میرے دونوں ساتھی مجھے آسمان کی طرف اور کبھی جبل احد کی طرف گھورتے ہوئے دیکھ کر نیم پاگل سمجھ رہے تھے۔ میرے دائیں جانب احد کی وہ جگہ تھی جہاں شہدائے احد کے خون کے مقدس چھینٹے تھے اور کہیں حضرت حمزہ رضی اللہ کے جگر کو چبانے والی ہندہ کے فاتحانہ گیتوں کی بازگشت۔ آنکھوں کے سامنے مقتل گاہ کو چار فٹی دیوار پر آہنی سلاخوں اور شیشے کے فریم سے بند کر دیا گیا تھا کیونکہ اندر جناب حمزہ رضی اللہ دفن تھے۔ چند عشرے قبل تک تو یہاں پر باقاعدہ مزار ہوتا تھا جسے بعد میں حکومت نے اپنے عقیدے کی پیروی میں زمین بوس کر دیا۔
ایک طرف عینین نامی ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جو احد اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ یہ وہی بلندی ہے جس پر رسول برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پچاس تیر اندازوں کو کھڑا کرتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ جنگ ہار جائیں یا فتح ہمارا مقدر بنے، تم حکم ثانی تک اس جگہ سے نہیں اترو گے، یہ حکم اس لیے تھا کہ دشمن مدینہ کا رخ نہ کریں۔ اسی پالیسی کے سبب کفار کے پاو¿ں اکھڑ گئے اور وہ اس طرح بھاگے کہ بنو امیہ کا معبود ہبل بت اونٹ سے گر کر چکنا چور ہو گیا۔ پھر وہ تیر انداز مال غنیمت سمیٹنے کے لیے حکم عدولی کرتے ہوئے نیچے اتر آئے اور جیتی ہوئی جنگ ہار میں بدل گئی۔ خالد بن ولید نے اسلام کی فوج پر یوں حملہ کیا کہ ستر اصحابؓ شہید ہوئے۔ بنی ہاشم کے اہم مجاہد اور رسول اللہ کے محبوب چچا جناب حمزہ رضی اللہ ہندہ کے ساتھ آئے ہوئے غلام وحشی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ وہ سب یہاں دفن تھے۔ کچھ شہدا کو ان کے رشتہ دار مدینہ کے قبرستان بقیع میں دفن کر آئے اور زیادہ احد میں دفن ہوئے۔ عینین کی پہاڑی اور جناب حمزہ رضی اللہ کے مدفن کے درمیان لگے بورڈز پر تیر اندازوں کی حکم عدولی کی داستان عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں رقم تھی، سرکار دو عالمﷺ کی حکم عدولی کوئی عام بات نہ تھی اور پھر ان کی حکم عدولی کے سبب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ بھولنے والا دکھ ملا اور میدان کی شکست الگ ملی۔ (جاری ہے)