Wed, September 16, 2026

تاریخ لمحہ موجود کا عکس ہوتی ہے

تاریخ لمحہ موجود کا عکس ہوتی ہے

تاریخ لمحہ موجود کا عکس ہے۔ اس عکس کو وہی پہچان سکتا ہے جس نے وقت کے نشیب و فراز کو جیا ہو، جس نے لمحوں کو صرف گزارا نہ ہو بلکہ ان کے زخم، ان کی خوشبو اور ان کی تلخیاں اپنے وجود میں سمیٹی ہوں۔ بیجنگ کے تیانمن اسکوائر پر ہونے والی شاندار پریڈ دراصل اسی عکس کا ایک اور باب تھی، جہاں ماضی کی یاد اور حال کی سیاست ایک دوسرے میں گندھ کر مستقبل کی سمت کا تعین کرتی نظر آئیں۔ یہ پریڈ بظاہر جاپان پر چین کی فتح کی یاد تھی لیکن اس کے مناظر نے صاف بتا دیا کہ دنیا کی طاقتیں کس طرح اپنے دوست اور دشمن چن رہی ہیں۔ آٹھ دہائیوں پہلے کی جنگ عظیم دوم نے ایشیا کو لہو اور راکھ میں ڈبویا تھا۔ آج اسی ایشیا کے دل میں چین نے اپنی عسکری طاقت کا وہ مظاہرہ کیا جس نے واضح کر دیا کہ تاریخ کے زخموں کو وہ بھلا نہیں پایا بلکہ انہیں اپنی قوت اور وقار کا استعارہ بنا لیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا اس پریڈ میں شریک ہونا محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ پاکستان ایک بار پھر اس خطے کی بدلتی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین اور پاکستان کی دوستی اب صرف ایک نعرہ نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی سطح پر طاقت کے توازن میں ایک حقیقت بن کر ابھر رہی ہے اور جب پاکستان کے وزیراعظم دنیا کے بڑے رہنماؤں کے ساتھ کھڑے نظر آئے تو یہ دراصل تاریخ کے عکس میں ایک نئی جھلک تھی۔ ایک ایسا لمحہ جس نے پاکستان کو عزت دی، وقار دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ خطے کے فیصلے اس کے بغیر مکمل نہیں۔
لیکن سب سے دلچسپ پہلو بھارت کی غیر موجودگی تھی۔ وہ بھارت جو خود کو "ابھرتی ہوئی سپر پاور" کہلواتا ہے، جو ہر عالمی فورم پر اپنی موجودگی کو لازم سمجھتا ہے، اسے اس تقریب میں جگہ تک نہ دی گئی۔ مودی جی کی غیر موجودگی دراصل اس حقیقت کی عکاسی تھی کہ خطے کی سیاست میں سب کچھ دولت یا دعووں پر نہیں چلتا۔ کبھی کبھی دوستوں کی قربت اور دشمنوں کی حرکتیں ہی یہ طے کرتی ہیں کہ کون سا ملک کہاں کھڑا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنی فوجی طاقت دکھائی بلکہ ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا کہ تاریخ بھولنے والوں کے لیے مستقبل میں جگہ کم رہ جاتی ہے اور یہ بھی محسوس ہوا کہ تالیوں کی گونج تو بیجنگ میں تھی لیکن خاموشی دہلی میں۔
اسی بیجنگ پریڈ کے تناظر میں اگر ہم مئی کے حالیہ دنوں کو یاد کریں تو تصویر اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر اپنی پرانی عادت کے مطابق الزام تراشی کا سہارا لیا۔ پہلگام کے واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر انگلیاں اٹھائیں، سفارتی شور مچایا اور میڈیا کے ذریعے نفرت کا بازار گرم کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت اکثر ایسے من گھڑت واقعات کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے تاکہ دنیا کی توجہ اپنی اندرونی کمزوریوں اور ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے۔ لیکن اس بار کھیل ذرا مختلف ہوا۔
بھارت نے روایتی غرور کے ساتھ سرحدی محاذ پر دباؤ بڑھایا اور پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی۔ لیکن پاکستانی افواج اور عوام نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ وطن کے دفاع میں کوئی کمزوری نہیں۔ چند ہی دنوں میں بھارت کو اندازہ ہو گیا کہ اس کی مہم جوئی کا نتیجہ رسوائی کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاع میں کامیابی حاصل کی بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ ہم پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ بھارت کی نام نہاد "بڑی فوج" ایک بار پھر زمینی حقائق کے سامنے کمزور اور بے بس دکھائی دی۔ یوں مئی کے مہینے میں ایک اور فتح پاکستان کے حصے میں آئی اور بھارت کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان کے عزم اور جرأت کو کبھی ہلکا نہ لیا جائے۔
یہ تمام صورتحال ایک بڑے پس منظر میں جڑتی ہے اور وہ ہے پاک چین تعلقات کا۔ چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 1965ء کی جنگ ہو یا 1971ء کے بعد کی سفارتی تنہائی، ہر موقع پر چین پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ آج بھی جب بھارت ہر فورم پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرتا ہے، چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی آواز بنتا ہے۔ سی پیک اس دوستی کی معاشی بنیاد ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی کا نیا باب ہے۔ دفاعی میدان میں بھی چین کی حمایت پاکستان کو وہ اعتماد دیتی ہے جو کسی اور ملک سے حاصل نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ بیجنگ کی پریڈ میں پاکستان کی موجودگی محض ایک علامتی اشارہ نہیں تھی بلکہ ایک گہرا پیغام تھا۔ دنیا کو یہ بتانا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ایک وقتی سہولت نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سٹرٹیجک حقیقت ہے۔ یہ تعلقات اس خطے کے توازن کو طے کرتے ہیں اور یہی وہ حقیقت ہے جسے بھارت سب سے زیادہ ہضم نہیں کر پا رہا۔ مودی سرکار نے لاکھ کوشش کی کہ پاکستان کو سفارتی طور پر الگ تھلگ کیا جائے لیکن بیجنگ کا منظر اس کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ یقیناً باعثِ فخر ہے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ تاریخ کے عکس میں اپنی جگہ پانے کے لیے صرف ایک پریڈ میں شریک ہونا یا ایک جنگ جیت لینا کافی نہیں۔ اصل امتحان اس دوستی اور ان کامیابیوں کو معاشی استحکام، علاقائی امن اور عوامی خوشحالی میں بدلنے کا ہے۔ ورنہ محض تصویریں اور خبریں وقت کے ساتھ مدھم ہو جاتی ہیں۔فی الحال تو اتنا کہنا کافی ہے کہ بیجنگ کی شام میں گونجتی ہوئی عسکری دھمک اور پریڈ کی شان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ تاریخ کا عکس کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اس عکس میں اس بار پاکستان نمایاں تھا اور بھارت غائب اور یہی وہ لمحہ ہے جو آنے والے برسوں میں نئی تاریخ لکھنے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔مئی کی فتح نے اس عکس کو اور بھی واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی قربانیوں اور جرأت کے ساتھ آج بھی زندہ قوم ہے اور یہی لمحے آنے والے برسوں میں نئی تاریخ لکھنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ باقی رہی بات مودی جی کی تو شاید انہیں اگلی بار پریڈ دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدنا پڑے۔ وی آئی پی پاس اب نہیں ملنے والا۔

ٹیگز: