Wed, September 16, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خطے کی صورتحال پر اہم رابطہ

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خطے کی صورتحال پر اہم رابطہ

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلیفون پر اہم گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے مارکو روبیو کو پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی صورتحال پر پاکستان کے مؤقف سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی، جبکہ ملک کو 152 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

وزیر اعظم نے بھارت کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کو افسوسناک اور باعث تشویش قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی اشتعال انگیزی کا مقصد پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے عالمی توجہ ہٹانا ہے، خاص طور پر ایسے گروپس کے خلاف جیسے داعش خراسان (ISKP)، تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA)۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے پہلگام واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا اور غیر جانبدار، شفاف اور قابل بھروسہ تحقیقات پر زور دیا۔

انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنائے۔

وزیر اعظم نے بھارت کی طرف سے آبی ذخائر پر یکطرفہ اقدامات کو "آبی جارحیت" قرار دیا، اور یاد دہانی کرائی کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی فریق کو یکطرفہ دستبرداری کا اختیار حاصل نہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے کا پرامن حل ہی جنوبی ایشیا میں مستقل امن کی ضمانت ہے۔

گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان 70 سالہ دوستی اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک انسداد دہشت گردی، معاشی بہتری اور معدنیات کے شعبے سمیت مختلف میدانوں میں تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے اہم معاشی اصلاحات کی ہیں اور ملک اب اقتصادی بحالی کی جانب گامزن ہے۔

آخر میں وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں مل کر کام کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

ٹیگز: