Wed, September 16, 2026

پاکستان میں بجلی کی شفاف تجارت کے لیے آزاد مارکیٹ متعارف

پاکستان میں بجلی کی شفاف تجارت کے لیے آزاد مارکیٹ متعارف

اسلام آباد: ملک میں بجلی کی خرید و فروخت اب ایک نئے اور آزاد مارکیٹ ماڈل کے تحت کی جائے گی، جس کے تحت نیپرا نے آزاد سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ASMO) کو لائسنس جاری کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا لائسنس آزاد مارکیٹ آپریٹر کو منتقل کر دیا ہے، جس کے بعد بجلی کی تجارت کا نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔

اس نئے نظام کے تحت بجلی کے خریداروں کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی سپلائر سے براہِ راست بجلی خرید سکیں گے۔ اس سے نہ صرف مسابقت میں اضافہ ہوگا بلکہ شفافیت بھی ممکن بنے گی۔ روایتی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اب واحد آپشن نہیں رہیں گی۔

علاوہ ازیں، یہ ماڈل حکومت کے واحد خریدار کے کردار کو ختم کرے گا اور ایک کئی فریقین پر مبنی مارکیٹ وجود میں آئے گی جہاں متعدد خریدار اور بیچنے والے شامل ہوں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، نئے ادارے آزاد مارکیٹ آپریٹر کے آغاز میں تین ڈائریکٹرز ہوں گے جن کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھا کر 11 یا اس سے زائد کی جائے گی۔ سید زکریا علی شاہ کو ادارے کا پہلا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔

ادارے کے دیگر ڈائریکٹرز میں سیکریٹری پاور محمد فخر عالم اور جوائنٹ سیکریٹری خزانہ سجاد حیدر شامل ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں وفاقی کابینہ نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو تین علیحدہ اداروں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی تھی، جن میں سے ایک کا نام اب "آزاد سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر" رکھا گیا ہے۔

ٹیگز: