Wed, September 16, 2026

ایک کالم ناصر کاظمی کے نام

ایک کالم ناصر کاظمی کے نام

پاکستان کے نامور شعرا میں ایک بڑا نام ناصر کاظمی ایک مست ملنگ، دنیا سے بے نیاز اپنی ہی دنیا بساتے بساتے شاعری کے کئی شہر بسا گیا۔ ساری زندگی کبھی اس در کبھی دربدر والی بات جہاں ٹھہرا وہیں رات بسر کر لی۔ ناصر کاظمی ایک عام انسان نہیں تھا اس کی شاعری کے انداز اس کی تمام تر زندگی کا احاطہ کرتے ہیں وہ جو ظاہر تھا اس باطن میں ناصر کاظمی کو بھی جگہ دیئے ہوا تھا اور اس نے تمام عمر سادہ زندگی کے اندر رہتے ہوئے ناصر کو دیکھا اس کو جانا اور پھر اس کو اسی طرح گزارا اور اس نے ہر پرت کے اندر کئی پرت کھول دیئے۔ وقت حاضر کا وہ کیا انسان اور لاجواب شاعر تھا۔ آج کا کالم اس ہستی کے نام لکھنے کا مقصد کہ کتنی سادگی سے جیا اور کتنی سادگی سے مر گیا۔ 
ناصر کاظمی ہجرت کے بعد لاہور آئے تو ان کے خاندان کو سر چھپانے کے لیے پرانی انارکلی میں ٹھکانہ ملا۔ یہ لوگ جہاں سے آئے تھے وہ کشادہ ماحول تھا لیکن نئی سرزمین پر نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان آئے تو ناصر کی عمر اس وقت 22 برس تھی۔ 
لاہور میں پہلے پہل فین روڈ پر ایک سرکاری کوٹھی میں وقتی پناہ ملی لیکن پھر وہ خالی کرا لی گئی کہ کسی دوسرے افسر کو الاٹ ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ناصر کاظمی کا کنبہ پرانی انارکلی کے اس گھر میں اٹھ آیا۔ اس ہجرت پر ناصر نے اپنی ڈائری میں لکھا:
’’چرچ روڈ کے پیچھے… تھوڑی دْور تھانے سے… اِک گلی ہے اندھیاری… اْس گلی کے کونے پر… کْہنہ لال اینٹوں کا… گھر ہے اِک پرانا سا… میرا گھر۔ پرانی انارکلی۔ 3 بھگوان سٹریٹ۔ لاہور۔‘‘
اس گھر میں صرف دو کمرے ناصر کاظمی کے خاندان کو ملے، ان میں سے ایک ان کے تصرف میں تھا۔ اس مکان میں ناصر کے اہل خانہ نے بہت کڑا وقت کاٹا، مصائب کی یورش نے انہیں چین سے رہنے نہ دیا۔ اس عہد کی تصویر ناصر کاظمی کی خالہ صغرا بی بی نے بڑے موثر انداز میں کھینچی وہ ایک جگہ لکھتی ہیں۔
’’جس طرح ہو سکا ناصر کے والد نے گزارا کیا۔ کیونکہ سب نازک مزاج اور کھلی ہوا کے رہنے والے تھے اس واسطے تمام دن، صبح شام، موری میں پانی ڈالتے اور دھوتے کہ بدبو نہ آئے۔ اْدھر پیسے کی تنگی۔ اشرفیوں کا ہار توڑا، ایک ایک کر کے فروخت کیا اور وقت گزارا۔ ناصر نے نوکری کی جستجو شروع کر دی۔ سیالکوٹ میں ملازم بھی ہو گیا۔ مگر اچانک ناصر کے والد بیمار ہو کر ہسپتال داخل ہو گئے۔ ناصر کو اطلاع دی گئی۔ ناصر فوراً پہنچا مگر اگلے روز ہی والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔
اس دوران ناصر نے اپنا نیا سلسلہ شروع کیا اور ’’اوراقِ نو‘‘ نکالنے کی ٹھانی۔ پیسہ نہیں تھا اور نہ ہی والد صاحب کی پنشن ملتی تھی۔ والدہ کے زیورات لے جانا شروع کر دیئے۔ 16 تولے کے سونے کے کڑے، چمپا کلی، نتھ اور آرسی وغیرہ۔ چاندی کے بہت زیور تھے جو فروخت کر کے گھر کا گزار ا بھی کرتے رہے۔ والدہ نہایت غم زدہ تو تھیں ہی مگر ناصر کی بے روزگاری اور آوارہ گردی دیکھ کر دل برداشتہ ہو گئیں۔ تمام دن قرآن شریف اور دعائیں پڑھنا اْن کا شغل ہو گیا۔ آخر نہ برداشت کر سکیں۔ دماغ کی رگ پھٹ گئی اور پانچ دن کی علالت کے بعد مر گئیں۔ ‘‘
ناصر کاظمی کے پہلے شعری مجموعے ’’برگِ نے‘‘ میں شامل یہ شعربھی اسی غم کدے میں لکھے گئے… یہاں تک بڑھ گئے آلامِ ہستی… کہ دل کے حوصلے شل ہوگئے… کہاں تک تاب لائے ناتواں دل… کہ صدمے اب مسلسل ہوگئے ہیں… ناصر کی ڈائری سے یہ اقتباس بھی ملاحظہ ہو:
لاہور میں غیر معمولی بارش۔ دفتر سے آکر گھر سے نکلا ہی تھا کہ سیلاب پرانی انارکلی کے تھانے تک آ پہنچا۔ گھر گیا تو پانی دروازے تک آچکا تھا۔ ایسا سیلاب لاہور میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ ناصر نے اس گھر میں رہ کر بہت رنج اٹھائے، دکھ بھگتے، روکھی سوکھی کھائی، ان کی ڈائری میں ایک دن سادہ پانی سے ناشتہ کرنے کا ذکر ہے، ایک اور جگہ لکھا :دھوبی نے ادھار کپڑے دینے سے انکار کردیا۔ میلے کپڑے پہن کر دفتر روزنامہ ’’امروز‘‘ کے گیا۔ یا پھر ’’کل رات نور عالم میرے ہاں سو گیا۔ مچھر اور کھٹمل اسے کاٹتے رہے۔ ساری رات وہ سو نہ سکا پھر بخار ہوگیا۔ افسوس میں اپنے پیارے دوستوں کو آج ایک رات مہمان بھی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن کتنے بلند اور پیارے ہیں میرے بعض دوست۔ ‘‘
یہ گھر چھوڑنے پر ناصر کاظمی کے تاثرات یوں سامنے آئے :
’’مارچ 1957ء کو پرانی انارکلی کے زنداں سے رہائی ہوئی۔ اس گھر میں ہم نے اس قدر تکلیفیں اٹھائی ہیں کہ ان کے تصور سے دل کانپتا ہے۔ میرے والدین نے اسی گھر میں وفات پائی۔ 29 مئی 1949ء کو والد اور 26 ستمبر 1949ء کو والدہ ہمیں چھوڑ گئیں۔ ‘‘ ناصر کے عزیز دوست اور ممتاز ادیب انتظار حسین نے اس گھر کاذکر اپنے مخصوص اسلوب میں کیا ہے: ویسے کبھی کبھی ناصر کو گھر کی طرف جاتے ہوئے بھی دیکھا جاتا تھا۔ اس گھر کی صورت یہ تھی کہ پرانی انارکلی کی ایک گلی میں کسی پرانے سے مکان کا بس ایک کمرہ ناصر کے تصرف میں تھا۔ یہ کمرہ ایسا تھا کہ دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں نظر آتا تھا۔ ساز و سامان کے نام کچھ کتابیں کچھ کاغذ جہاں تہاں بکھرے ہوئے۔ ایک پلنگ اور ایک تتر بتر بستر۔ ’’کلیاتِ میر‘‘ اس بستر کا تکیہ تھا۔ والد صاحب پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ والدہ انہی برسوں میں دنیا سے سدھاری تھیں۔ ناصر اب اکیلا تھا۔ اس کے سر پر کوئی سایہ نہیں تھا۔ ہاں وہ خود ایک چھوٹے بھائی کے سر کا سایہ تھا۔ جانے وہ اس ذمے داری کو کیسے نبھاتا تھا۔
اے حمید نے بھی ناصر کا کمرہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کا نقشہ انہوں نے کچھ اس طرح سے کھینچا ہے۔:
’’ناصر کاظمی کو پرانی انارکلی میں ایک کمرہ الاٹ ہوگیا تھا۔ وہاں بجلی نہیں تھی۔ وہ رات کو موم بتی جلا کر لکھتا پڑھتا۔ ایک پرانا سا پلنگ تھا۔ سرہانے کی طرف ایک میز تھی جس پر جلی ہوئی موم بتیوں کی موم جمع تھی۔ الماری کے دونوں پٹ غائب تھے۔ وہاں چند ایک گرد آلود کتابیں تھیں۔ بے ترتیبی تھی۔ بے یقینی تھی۔ کس ٹکڑے کو کس ٹکرے کے ساتھ جوڑیں؟ کس چراغ کو کس چراغ سے روشن کریں۔ کہاں تھے کہاں آگئے۔ اب کہاں جائیں گے؟‘‘ اس گھر کے ساتھ ناصر کاظمی کی تلخ یادیں اپنی جگہ حقیقت ہیں لیکن تخلیقی اعتبار سے یہ دور بہت ثمرآور رہا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’برگِ نے‘‘ اسی گھر میں تخلیق ہوا۔ ’’سْر کی چھایا‘‘ اور ’’نشاطِ خواب‘‘ بھی یہیں لکھی گئیں۔ دیوان کا کچھ حصہ بھی یہیں رقم ہوا۔ میر تقی میر کے کلیات کا انتخاب بھی اسی گھر سے یادگار ہے۔ اس کمرے میں ناصر نے میر کے کلیات (آسی ایڈیشن) کو خوب ڈوب کر پڑھا۔ سوتے وقت یہ کلیات بستر کے تکیے کا کام بھی دیتا۔ کیا عجیب انسان تھا، کوچہ کوچہ، گلی گلی ساری زندگی اسی عالم میں گزار دی پھر آخری چند ایام بھائی صاحب کی سنی پھر میر کی اور پھر ہمیشہ کے لئے اس مٹی کو اپنے اوپر اوڑھا کر بغیر کسی شکایت رجسٹر کرائے وہ خود ہی کہہ گیا۔ 
وہ ہجر کی رات کا ستارہ، وہ ہم نفس، ہم سخن ہمارا
صدا رہے اس کا نام پیارا، سنا ہے کل رات مر گیا وہ 

ٹیگز: