Wed, September 16, 2026

جنگ جب لازم ہو جائے

جنگ جب لازم ہو جائے

جب سے وطن عزیز دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا ہے ہندوستان نے کبھی اسے قبول ہی نہیں کیا ان کی ہر پل کوشش رہی ہے کہ جب بھی موقع ملے پاکستان کو مٹا دیا جائے اس نے پہلا وار 1948 پھر 1965 پھر 1971 میں کیا اور وطن عزیز کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اس سے پہلے اور بعد میں ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح پاکستان کو توڑ دیا جائے انہوں نے کبھی پاکستان میں دہشت گردی کرا کے کبھی بی ایل اے کبھی پاکستان تحریک طالبان بنا کر پاکستان پر حملے کیے اور جب کبھی پاکستان پر حملہ کرنے میں ناکام رہے تو اپنے ہی ملک میں کوئی نہ کوئی حملہ کر کے الزام پاکستان پر لگا دیا کبھی بمبئی ہوٹل پر حملہ کیا کبھی پلوامہ اور اب پہلگام ڈرامہ جس میں ہندوستان بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں جس طرح بھارتی وزیراعظم نے دریائے سندھ کا پانی بند کرنے اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی بات کی ہے یہ تو آج سے دس سال پہلے کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس میں ورلڈ بینک بھی ایک فریق ہے اب موجودہ صورتحال، اس کی وجہ اور اس کے پیچھے چھپے ہندوستانی عزائم کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
درحقیقت پہلگام ڈرامہ صرف اور صرف چین پاکستان سی پیک کو روکنے کے لیے رچایا گیا ہے اس میں ہندوستان اکیلا نہیں بلکہ امریکہ اسرائیل فرانس اور بہت سے ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو پاکستان کی نسبت ہندوستان سے زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں لیکن میرے اندازے کے مطابق یہ جنگ نہیں ہوگی اور اگر ہوئی بھی تو یہ بہت محدود پیمانے کی ہوگی ہندوستان بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی اور جنگی ساز و سامان میں پاکستان سے بہت پیچھے ہے وہ صرف بڑھکیں مار رہا ہے کیونکہ مودی بھی ہندوستان کا عمران خان ہے جس نے اپنے تین دور حکومتوں میں کچھ نہیں کیا آئندہ الیکشن میں جانے کے لیے اس کے پاس کوئی ایسا پروجیکٹ نہیں ہے جو وہ اپنی عوام کے سامنے رکھ سکے سوائے پاکستان کے ساتھ جنگ کے جس طرح ہر پل حالات بدل رہے ہیں آج تو جنگ کا منظر نامہ ہی تبدیل ہو گیا چین نے اپنی دو ڈویژن فوج لداخ میں اتار دی ہے ادھر پاکستان مکمل تیاری میں ہے اگر بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال سے بھی محاذ کھل جاتا ہے تو ہندوستان کو بہت بڑی شکست ہو سکتی ہے اور بڑی جنگ کی صورت بھی ہندوستان کا زیادہ سے زیادہ نقصان ہوگا کیونکہ پاکستانی ایٹم بم اور میزائل جس ٹیکنالوجی سے لیس ہیں ہندوستان سے بہت ایڈوانس ہیں اس کے ساتھ ساتھ چین کی مالی جنگی اور ٹیکنالوجی کی مدد ،ترکی کے ڈرون اور پاکستان کی جنگی حکمت عملی ہندوستان کو برباد کر دے گی ۔
 پاکستان نے آج ایک بڑی پیشکش کی ہے اور یقینا دنیا کا ہر ذمہ دار ملک ایسا ہی کرتا ہندوستان سے کہا ہے کہ آؤ مل کر دہشت گردوں کو ڈھونڈتے ہیں پہلگام واقعے اور جعفر ایکسپریس دونوں حملوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کراتے ہیں لیکن ہندوستان اس طرف نہیں آئے گا کیونکہ وہ جھوٹے ہیں اس کے باوجود بھی مودی جنگ چاہتا ہے وہ ہر حال میں اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بچانے کی کوشش کرے گا ۔
 اگر جنگ شروع ہو جاتی ہے تو پاکستان کو چاہیے کہ سب سے پہلے ان دونوں ڈیموں کو نشانہ بنائے جو انہوں نے دریائے جہلم اور چناب پر اوڑی اور سلام آباد کے مقام پر بنائے ہوئے ہیں کیونکہ جب جنگ شروع ہو جائے تو پھر کوئی قانون نہیں ہوتا اگر چین بنگلہ دیش اور سری لنکا سے بھی محاذ کھول دیئے جائیں چین اور پاکستان مل کر یہ جنگ لڑیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے ساتھ ساتھ خالصتان بھی بنا جائیں گے مشرق کی طرف سے چین ہندوستان کی چکن نک کاٹ دے تو ایک ہی دن میں ہندوستان کی آٹھ ریاستیں اور تقریباً چار کروڑ لوگ ہندوستان سے علیحدہ ہو جائیں گے اور اس کے ساتھ ہندوستان میں پندرہ کے قریب علیحدگی پسند تحریکوں کو سپورٹ دے دی جائے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر بھی ہندوستان کو نہیں بچا سکیں گے ۔
ہندوستان نے شاید عاصم منیر کو سٹڈی کرنے میں غلطی کر دی یہ جنرل باجوہ نہیں ہیں جنرل باجوہ کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہئے تجارت ہونی چاہیے لیکن جنرل عاصم منیر کا فارمولا ہی علیحدہ ہے ان کے نزدیک سب سے پہلے باوقار پاکستان اور اس کے بعد سب کچھ چین کی طرف سے جنگ میں شمولیت سے لگتا ہے کہ اب بڑی جنگ نہیں ہوگی کیونکہ ہندوستان چین سے بہت چالو ہے بہرحال جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ہے یہ بہت مہنگی مشق ہے اور جنگ وہ واحد میدان ہے جس میں دونوں فریق ہی ہار جاتے ہیں جنگ مسئلوں کا حل نہیں کیونکہ جنگ تو خود ایک بڑا مسئلہ ہے پاکستان تو یہ بات بخوبی جانتا ہے لیکن ہندوستان بھی جان جائے تو بہتر ہوگا پاکستان تو مجبوری میں یہ لڑائی لڑ رہا ہے کیونکہ لڑنا تو پڑتا ہے جنگ جب لازم ہو جائے ۔

ٹیگز: