اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرایہ داری کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مالک کا انتقال ہو جائے تو اس کے قانونی وارث خود بخود نئے مالک بن جائیں گے اور کرایہ داروں کے لیے نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے بے دخلی کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس میں کرایہ داروں کو دکانیں ساٹھ دن کے اندر مالکان کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف کرایہ داروں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی، جس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جب اصل مالک کا انتقال ہو گیا، تو اس کے قانونی وارث نے کرایہ داروں کو نوٹس بھیجا تھا اور کرایہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا، مگر کرایہ داروں نے کرایہ قانونی وارث کو نہیں دیا اور وہ کرایہ متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرتے رہے۔ سپریم کورٹ نے اس عمل کو جان بوجھ کر کرایہ نہ دینے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ ایسے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔
سپریم کورٹ کے مطابق، قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی مالک کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانوناً ادائیگی نہیں تصور کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے بعد کرایہ داری کے معاملات میں مزید وضاحت آئے گی اور مالکان کو اپنے حقوق کے تحفظ میں آسانی ہوگی۔ کرایہ داروں کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ متوفی مالک کے بجائے اس کے قانونی وارث کو کرایہ ادا کریں، تاکہ بے دخلی سے بچا جا سکے۔