غزہ میں اسرائیل کی جانب سے گزشتہ 23 ماہ میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی نوجوانوں ،بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی شہادت کے بعد بالآخر مغربی ممالک جاگ اٹھے۔ فرانس اور برطانیہ نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرکے اسرائیل کی ہشت پناہی پر مبنی اپنی پالیسی سے دوری اختیار کرنے کا پیغام دے دیا ہے۔برطانیہ وہ ملک ہے جس نے اسرائیلی ریاست کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔یہ سلسلہ 1914 میں پہلی جنگ عظیم سے شروع ہوا جب فرانس ، روس اور برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے لیے خفیہ منصوبوں پر کام کیا۔ دوران جنگ 1916 میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف عربوں کی بغاوت کے نتیجے میں برطانوی جنرل ایڈمنڈ نے فلسطینی علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد 1917 میں بالفور ڈیکلریشن میں اس وقت کے برطانوی سیکرٹری خارجہ آرتھر بیلفور نے فلسطین میں یہودیوں کے لئے الگ گھر کے قیام کا مطالبہ کیا۔ یوں 1948 میں اسرائیل کی الگ ریاست بننے تک برطانیہ اس مشن میں پیش پیش رہا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ سپر پاور کے روپ میں سامنے آیا مشرق وسطیٰ کی ذمہ داری برطانیہ سے امریکہ کی جانب منتقل ہوگئی بعدازاں امریکہ اسرائیل کی بقا کا سب سے بڑا ضامن بن گیا۔
آج اگر یورپ کے ان ممالک نے اپنی عوام کے دباؤ میں آ کر اور اپنی سیاست بچانے کے لئے یہ اہم قدم اٹھایا ہے تو یہ فلسطین پر ان کا احسان نہیں بلکہ وہ قرض اتارنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔
غزہ کے معاملہ پر واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مایوسی رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کھل کر سامنے آئی ہے۔ دباؤ کے باوجود امریکی اتحادیوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اس وقت اسرائیل کو صرف امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ایسا لگتا ہے ٹرمپ امریکا فرسٹ پالیسی کو بھول کر اسرائیل فرسٹ پالیسی پر گامزن ہیں۔ موجودہ حالات میں مغربی ممالک کا یہ خودمختار فیصلہ ویلکم کرنا چاہیے ، تاکہ فلسطین کی مکمل آزادی کی راہ ہموار ہو سکے۔ اسرائیل اس وقت دنیا میں بڑی فوجی صلاحیت کے باوجود سفارتی سطح پر اکیلا ہوتا جا رہا ہے جس کا فائدہ فلسطین کو پہنچے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے موجودہ دور اقتدار کے آغاز میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کو جلد ہی ختم کر دے گا مگر اب ٹرمپ نیتن یاہو کو لگام ڈالنے میں مکمل ناکام نظر آ رہا ہے۔ واشنگٹن کی آشیر باد سے اسرائیلی افواج فلسطینیوں کے علاقے میں اپنے حملوں کو بڑھا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی حالیہ تحقیقات نے اسرائیل کے عزائم کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل غزہ پر مستقل کنٹرول چاہتا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودیوں کی اکثریت کو یقینی بنانے کا واضح ارادہ رکھتا ہے۔ ٹرمپ کی اب تک غزہ جنگ بندی میں ناکامی اور جارحانہ فیصلوں کی وجہ سے دنیا اب ٹرمپ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور سمجھتی ہے کہ ٹرمپ کے ذریعے امریکہ کا زوال شروع ہو گیا ہے۔لہٰذا ، ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود امریکی اتحادیوں برطانیہ، فرانس، کینیڈا ، پرتگال اور آسٹریلیا نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر کے مشرقی وسطیٰ سے متعلق اپنی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ اسرائیل کی حمایت کرنے والے ان ممالک کی خارجہ اور سفارتی پالیسی میں ایک بڑا ڈرامائی شفٹ ہے جس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس کئی یورپی ممالک آئرلینڈ، ناروے، اسپین ، سلووینیا اور آرمینیا نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا۔ یہ علامتی اقدام عملی شکل اپنائے گا یا نہیں اس بارے کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا تاہم اب مغربی ممالک دو ریاستی حل چاہتے ہیں۔
اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ کے ماہرین نے فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا اور یورپی باڈی یوئیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری نسل کشی کے جواب میں اسرائیل کو بین الاقوامی فٹبال سے معطل کر دیں۔ گزشتہ برس 26 جنوری 2024 کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے بھی اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ نسل کشی کی روک تھام تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔
دو روز قبل ٹرمپ کی اہم مسلم ممالک کے سربراہان سے ملاقات ہوئی ہے جسے ٹرمپ نے اہم ترین قرار دیاہے۔ ایک بار پھر ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کا عندیہ دیا اور کہا کہ ہم ایک ایسی چیز کو ختم کرنے جا رہے ہیں جو شاید کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے مسلم حکمرانوں کے سامنے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے۔ امن منصوبے کی پوری تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں آ سکیں ہیں۔ تاہم ،اس امن معاہدے کے سلسلے میں ٹرمپ مسلم عرب ممالک کے حکمرانوں سے تعاون چاہتے ہیں، جس میں ٹرمپ کی ترجیح اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہے۔ تاکہ غزہ جنگ بندی کی جانب بڑھا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جن سے ٹرمپ کو تعاون چاہیے؟ پاکستان سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں اہم پلیئر بن چکا ہے۔
ٹرمپ کیلئے بھی یہ نادر موقع ہے کہ وہ غزہ جنگ بندی سے اپنی نوبل پیس پرائز حاصل کرنے کی دیرینہ خواہش پوری کر سکتے ہیں۔ فرانسیسی صدر میکرون نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک زبردست مشورہ دیا ہے، کہ اگر ٹرمپ صاحب نوبل پیس پرائز حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان کو غزہ جنگ روکنا ہو گی۔ ویسے آفر بری نہیں ہے۔ میکرون نے ٹرمپ کو غزہ جنگ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وہ ہی ایک شخص ہے جو اس جنگ کو روک سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کو ایسے ہتھیار فراہم نہیں کرتے جو غزہ میں تباہی پھیلائیں۔ فرانسیسی صدر کو ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر اسرائیل مغربی کنارے کی جانب بڑھا تو یہ امریکا کیلئے ریڈ لائن ہو گی۔ آپ سب کو کیا لگتا ہے کہ ٹرمپ نوبل پیس پرائز کے حصول کیلئے غزہ میں جلد خون کی ہولی روکنے جا رہے ہیں؟۔