نعت محسن کائنات، شافع محشر، فخر موجودات، رحمت عالم، سرور دو جہاں، سرور عالم، خاتم النبیین، صاحب لولاک، صاحب خلق عظیم، مجسم تفسیر القرآن حکیم، پیکر انوار تجلیات، نور کائنات، حضور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت کو شعری صورت میں ہدیہ تبریک پیش کرنے کی ایک منفرد صورت ہے جو کہ خود کوشش سے کہیں زیادہ عطا ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ نعت عطا ہوتی اور تب عطا ہوتی ہے جب بندہ عقیدت و ارادت کی کیفیت سے سرشار ہو کر خالصتاً حضور پاک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں اپنے خیالات و جذبات کو شعری صورت میں رقم کرنے کی سعی کرتا ہے۔ حضور اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف حمیدہ کو بیان کرنے کے لیے شعرا کرام اپنے اپنے انداز سے صدیوں سے نعت کی صنف میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے چلے آ رہے ہیں۔ حضور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کا یہ سلسلہ مسلمان شعرا تک ہی محدود نہیں رہا، بہت سے غیر مسلم شعرا نے بھی حضور سے اپنی غیر مشروط محبت کا اظہار اپنی نعتیہ شاعری میں بھی کیا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضور پاک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ نعت چونکہ خالص عطا کا معاملہ ہے اور یہ عطا اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں پر ہوتی ہے، یوں تو مظہر امام نے تقریباً تمام شعری اصناف میں اپنے تخلیقی جوہر کا اظہار کیا لیکن ان کی نعت نگاری ہر لحاظ سے متاثر کن رہی، انہوں نے حضور اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی عقیدت کو منفرد اسلوب سے بیان کیا کہ مظہر امام کی نعت پڑھتے ہوئے جذب و مستی کی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے جو قاری کو تادیر اپنے روحانی حصار میں لیے رکھتی ہے۔ مظہر امام آج کل امریکہ میں مقیم ہیں لیکن لاہور اور لائل پور (اب فیصل آباد) کے ادبی حلقوں سے ان کی وابستگی کو چالیس سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے، سرکاری ملازمت کی مصروفیات نے ان کو ادبی حلقوں سے دور کر دیا لیکن انہوں نے اپنی مٹی سے اپنے لوگوں سے، اپنے چاہنے والوں سے اپنے پُر خلوص اور بے غرض تعلق کو قائم رکھا ہے، مظہر امام کا بنیادی تعلق ننکانہ صاحب کے گاؤں گاندراں سے ہے، ابتدائی تعلیم کا سلسلہ یہی سے آغاز ہوا بعد ازاں فیصل آباد میں کالج لائف کا عرصہ گزرا اور اسی دوران مظہر امام کا ادبی ذوق پروان چڑھنا شروع ہوا۔ 70 کی دہائی میں شعری تخلیقات کی اشاعت ہوئی، تعلیم مکمل ہونے کے بعد سرکاری ملازمت کا آغاز ہو گیا اور ادبی دنیا سے تعلق تعطل کا شکار ہو گیا، لیکن اردو ادب سے محبت قائم رہی اور اپنا پہلا شعری مجموعہ شہر وجدان 2017 ء میں شائع کیا بعد ازاں اس کا دوسرا ایڈیشن 2025ء شائع ہوا۔ مظہر امام نے مستعمل اور متروک بحروں میں بھی شعری تجربات کیے۔ 2025ء ربیع اول کے مبارک مہینے میں انکا اولیں نعتیہ شعری مجموعہ ’’حرف التجا‘‘ شائع ہوا، جس کی اشاعت و طباعت میں ملک کے ممتاز شاعر و ادیب، ثنا خوان مصطفی جناب علی رضا اور معروف شاعر زاہد شمس نے کلیدی کردار ادا کیا اور یوں قارئین کو ’’حرف التجا‘‘ کی صورت میں خوبصورت نعتیہ شعری مجموعے کے مطالعہ کا شرف حاصل ہوا۔ حرف التجا، کو پاکستان کے ادبی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، آپ بھی مظہر امام کے نعتیہ کلام کے منتخب اشعار کا عقیدت و احترام سے مطالعہ فرمائیں۔
نعت کے سائباں میں زندہ ہوں
خوشبوؤں کے جہاں میں زندہ ہوں
جب سے نعت ان کی لکھ رہا ہوں میں
اپنے حرف و بیاں میں زندہ ہوں
ہوا ہوں آپ کا جس دن سے دنیا
مرے دل سے اترتی جا رہی ہے
ہر گھڑی رکھتی ہے سرشار مجھے
نسبتِ سید سید ابرارؐ مجھے
میری سوچیں بھی منور ہو جائیں
ہوں عطا نعت کے اشعار مجھے
اسی نسبت سے ملے عزت و توقیر مجھے
حشر میں آپؐ کی مدحت مری پہچان بنے
دل کو تسکین میسر ہے تیری چاہت سے
میں زمانے میں معزز ہوں تری نسبت سے
انؐ کے حضور جا کر یارو خیال رکھنا
مت مجھ کو بھول جانا میرا سلام کہنا
ہے دعا دل کی ختم ہو جائے
زندگی کا سفر مدینے میں
کیسے خوش بخت ہیں وہ لوگ امام
جن کا ہے مستقر مدینے میں
جب میں اس در پہ باریاب ہوا
ایک زرے سے آفتاب ہوا
لطف سرکار کائناتؐ امام
مجھ سے عاصی پہ بے حساب ہوا