واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو صرف اسی صورت میں قبول کیا جائے گا جب وہ مکمل طور پر امریکہ کے مفاد میں ہو۔
غیر ملکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات ان کی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں اور وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی وفد مذاکرات میں مہارت رکھتا ہے، تاہم فریقین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، اس کے باوجود بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ سفارتی عمل میں امریکہ کو برتری حاصل ہے اور وہ “مضبوط پوزیشن” میں ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو عسکری سطح پر نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے باعث اس کی بحری اور فضائی صلاحیتیں کمزور ہوئی ہیں، جبکہ زمینی قوتیں جزوی طور پر فعال ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ طویل جنگیں اور وسیع تباہی کسی بھی ملک کو طویل عرصے تک پیچھے دھکیل دیتی ہیں، اور اگر کوئی ریاست مکمل طور پر تباہ ہو جائے تو اسے دوبارہ بحال ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی معاہدہ اسی وقت آگے بڑھے گا جب وہ واضح طور پر امریکہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سکیورٹی سے متعلق سفارتی کشیدگی جاری ہے۔