Wed, September 16, 2026

پارکنگ فیس کی وصولی

پارکنگ فیس کی وصولی

ایسی سرزمین جس کی 98 فیصد سے زائد آبادی مسلم ہو مگر وہاں سر راہ پانی کا کولر بڑے لوہے کے فریم اور گلاس زنجیر سے جکڑا ہو، مسجد میں جوتی آگے ہوتو نماز نہ ہونے کا وہم پیچھے ہو تو اسکی چوری کا دھڑکا لگا رہے، جنازہ گاہ میں عین جنازہ کے وقت شرکاءکی جیبوں سے پرس اور موبائل فون نکالنا، وہ خرافات ہیں جو اس معاشرہ کا تاریک چہرہ ہے، ایسے ماحول میں یہ زعم ہونا کہ آپ کی موٹر بائیک، سائیکل، یا گاڑی بغیر کسی ٹوکن یا پارکنگ سٹینڈ کے محفوظ رہ سکتی ہے، احمقوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف ہے۔مذکورہ اشیاءکی حفاظت کے نام پر سرکار ی اور غیر سرکاری طور پر پارکنگ کی سہولت اور اسکی فیس کی ایک اصطلاح رائج العمل ہے تاہم اس کی ضرورت اور استعمال سے ایسے چور دروازوں نے جنم لیا کہ معاملات میں درستی لانے کے لئے شہریوں کو عدلیہ کے دروازے تک دستک دینا پڑی ہے،اس فیس کی وصولی کی مشق سے ایک نئے مافیا نے جنم لیا ہے، ہر شہر میں ان’ کو ایسے’ شرفاء“ کی سرپرستی حاصل ہے جنکی شرافت پر کوئی اعتبارہی نہیں کرتا۔چھوٹے سے چھوٹے قصبہ سے لے کر میٹروپولیٹن تک پارکنگ فیس کی وصولی کی ”واردات“ بغیر کسی قاعدے اور قانون کے ڈالی جا رہی ہے، اس دیدہ دلیری میں ایسے مقامات بھی آتے ہیں کہ سرکاری مشینری بھی بے بس دکھائی دیتی ہے،بڑے ہی منظم انداز میں یہ دھندہ اب” بھتہ خوری“ کی شکل میں بڑے افسران کی ناک کے نیچے جاری ہے، اپنے دفترمیں براجمان افسران اس لاقانونیت سے اُس وقت تک لا علم رہتے ہیں جب تلک دو چار سنگین قسم کے لڑائی جھگڑے نہیں ہو جاتے، افسران حرکت میں اگر آ بھی جائیں ،تویہ تبدیلی چند روزہی برقرار رہتی ہے ، سرکار کی رٹ ختم ہونے کا خطرہ ہر دم موجود رہتا ہے۔اس نوع کے مافیاز کا قلع قمع نہ ہونے کی وجہ ٹھیکیداری نظام ہے،جس سے مخصوص اور من پسند طبقہ کی فیض یاب ہورہا ہے پارکنگ فیس کی وصولی کا اطلاق اگرچہ عوامی مقامات پر ہی ہوتا ہے لیکن تاحال پارکنگ فیس کی نیلامی کبھی مشتہر ہوتی نہیں دیکھی جس میں اسکی وصولی کا شفاف طریقہ کارتحریر ہو،ایسا کرنا، شائد لازم اس لئے نہیں کہ ”اپنوں “ کو نوازنے کا بہتراور سہل طریقہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ دفاتر، ریلوے سٹیشن، بس ،ویگن سٹینڈ، ہسپتال، شفاخانے،ڈاک خانہ جات، جیل خانہ جات، عدالتیں،تعلیمی ادارے،شہر کی منڈیاں، بڑی اور معروف مارکیٹس، پلازہ جات، بنکس، ائر پورٹ، تفریحی مقامات، پارک، کھیل کے میدان، سینما ہال وغیرہ عوامی مقامات ہیں، جہاں پارکنگ سٹینڈ اور فیس کا اطلاق دو چند ہوجاتا ہے۔
 ملتان کی بات اگر کی جائے تو ضلع کچہری کے قرب و جوار میں بلا دھڑک پارکنگ فیس کی وصولی میں ان کا کوئی ثانی نہیں ،مختلف گروپوں میں منقسم افراد یہ خدمت انجام دے رہے ہیں مگر سب کے نرخ الگ الگ ہیں،اس لئے جہاں داﺅ لگتا ہے، وہ گاہک سے مال بٹورتا ہے، جب سے بائیکرز کے لئے ہیلمٹ کی پابندی نافذالعمل ہے، 50 روپے فیس کے علاوہ الگ سے مبلغ 30 روپے وصول کے جارہے ہیں۔حد تو یہ اس مافیا نے اب فٹ پاتھ پر بھی قبضہ کرلیا جو خواتین یونیورسٹی کی دیوار سے ملحق ہے، یوں پیدل چلنے والوں کا راستہ بھی بند ہوگیا ہے، آدھی سڑک پر پہلے ہی وکلاءکی پارکنگ کا قبضہ ہے، اس مقام پر ٹریفک بلاک ہونا روز کا معمول ہے، یہ دیرینہ اور حل طلب مسئلہ بھی ہے،پارکنگ فیس کی بھاری بھر رقم یہاںکس کی جیب میں جاتی ہے، اب کوئی راز نہیں رہا۔ پارکنگ کا منظم نظام دنیا میںموجود ہے ،اگر برطانیہ کی بات کی جائے،تو فی زمانہ پارکنگ فیس کسی مخصوص ٹولہ کی جیب میں جانے کی بجائے متعلقہ کونسل اتھارٹی کے اکاونٹ میں جاتی ہے، یہ فیس بذریعہ ایپ،کارڈ،یا پے منٹ مشین سے ادا کی جاتی ہے،بعض مقامات پر صرف کارڈ سے ادائیگی ممکن ہوتی ہے کیش نہیں چلتا، جہاں رجسٹرڈ پارکنگ ہے وہاں ایپ سے پہلے جگہ بک کرا لی جاتی ہے، جس میں دورانیہ لکھاجاتا ہے البتہ آئن لائن ٹائم میں توسیع لی جاسکتی ہے، چند گھنٹوں کے لئے فری پارکنگ کی شاپنگ کے لئے سہولت میسر ہوتی ہے،غیر رجسٹرڈ پارکنگ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ روایت ہے کہ حاصل شدہ رقم سے مقامی روڈ ز کی تعمیر کی جاتی ہے،ماحول کی آلودگی کے خاتمے پر رقم خرچ ہوتی ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جاتا ہے،کچھ سوشل اداروں میں سٹاف کی کمی کو بھی پورا کیاجاتا ہے، گویا یہ پیسہ عوام ہی کی بہتری پر صرف ہوتا ہے۔
محتاط اندازے کے مطابق244 پارکنگ فیس کی وصولی کے رجسٹرڈ مقامات لاہور میں ہیں،کراچی میں 25ٹاﺅن اور 6 کنٹونمنٹ بورڈ ہیں،اسلام آباد میں17 معروف مارکیٹس کے 66مقامات ہیں،ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ 70فیصد عوام پارکنگ فیس دینے کو تیار ہیں،تاہم غیر منظم طریقہ سے اسکی وصولی میں شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں، ہر ٹھیکیدار نے اپنی اپنی رسیدیں چھپوائی ہوئی ہیں، جس پر کسی مجاز ادارہ سے منظوری کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ پارکنگ سٹینڈز میں معذور افراد کے لئے کوئی سہولت دستیاب نہیں ،وہ بھی فیس ادا کرتے ہیں۔ ایک ہی مگر کم شرح سے پارکنگ فیس کی وصولی میں کوئی حرج نہیں، جن مقامات سے یہ وصول کی جائے اسی ادارہ میں صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر خرچ کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، پہلی شرط ٹھیکیداری نظام میںاصلاح لازم ہے ،ہر مقام کے لئے ٹھیکہ کی نیلامی بذریعہ اشتہار ہو دوسرا ڈیجیٹل طریقہ کار سے اسکی وصولی کی جائے ،دنیا بھر میں اس نوعیت کی ذمہ داری مقامی حکومتوں پر ڈالی جاتی ہے، یہاں تو اسلام آباد مقامی سرکار سے محروم چلا آرہا ہے۔ اسی طرح پارکنگ سٹینڈ زمیں جدت لائی جائے،جس میں سیفٹی اور سکیورٹی کو کلیدی اہمیت دی جائے،یہاں کے پارکنگ سٹینڈ اس قدر غیر محفوظ ہیں کہ کوئی بھی شرپسند اس غفلت سے فائدہ اٹھا کر بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام کی جیب سے پارکنگ فیس کے نام پر بھاری بھر رقم کی وصولی کو قومی دھارے میں لائے،گلی، محلہ میں گاڑیوں کی پارکنگ کی روک تھام کے لئے جدید طرز کے پارکنگ سٹینڈ ہر جگہ تعمیر کرائے جائیںجہاں صارف کو ہر طرح کا تحفظ ہو،گداگری کے پیشہ سے جمع ہونے والی رقم سے قومی خزانہ جس طرح محروم چلا رہا ہے ،اسی طرح پارکنگ فیس کے پیسہ سے بھی خزانہ کو کوئی نفع نہیں پہنچ رہا ، عوامی پیسہ کا منظم انداز میں خزانہ میں جمع ہونا اور شہریوں کےلئے اس کابہترین استعمال اچھی گورننس کے لئے ناگزیر ہے۔

ٹیگز: