یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے مودی کی’’ چولوں ‘‘کو دنیا کے سامنے بہترین سفارتکاری سے بے نقاب کرتے ہوئے 9 اور 10 مئی کو منہ توڑ جواب دیا ’’ورنہ‘‘ پاکستانی سرکار اور سفراء ہمیشہ ’’ستو‘‘ پی کر سو جاتے ہیں اور تب پتہ چلتا ہے جب چڑیاں کھیت چگ جاتی ہیں اس بار بھارت نے پہلگام ڈرامہ کی آڑ میں پاکستان کیخلاف جو اقدام کرنا چاہا اس میں وہ بُری طرح ناکام رہا بلکہ اس کی اپنی جنتا نے تھو تھو کرنا شروع کر دی راہول گاندھی نے بھی مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پاکستان کی فتح اور انڈیا کی شکست کا اعتراف کیا تاحال مودی کو کہیں منہ چھپانے کیلئے جگہ نہیں مل رہی ان حالات میں پاک افواج کا کردار اہم رہا جس نے ملکی سالمیت کیلئے دن کی روشنی میں اللہ کی مدد سے بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور الحمد للہ اس اینٹ بجانے کے پیچھے پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی تھی اور کھڑی ہے مکار مودی کو ہر جگہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑابھارت اب پانی روکنے کیلئے دھمکیاں دے رہا ہے یہ بھول کر کہ اگرمکار مودی پانی چھیننے کی کوشش کرے گا تو وہ پاک افواج سے کسی صورت بھی نہیں بچ سکے گا اور جو کسر بے عزتی کرانے میں رہ گئی ہے وہ ان شاء للہ ضرور پوری ہو گی کیونکہ بگلیہار ڈیم پر یک طرفہ فیصلہ کرنے اور کرانے والے یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اگر اب کسی نے پنگا لینے کی کوئی بھی کوشش کی تو جواب جو آئے گا اس کی نسلیں یاد رکھیں گی بگلیہار پر یک طرفہ فیصلہ دینے والے انٹرنیشنل کورٹ کے ججوں نے بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے بگلیہار ڈیم کے خلاف پاکستان کی اپیل پر عدالتی فیصلہ کہنے سے بھی شرم آتی ہے، عالمی عدالت انصاف کا انڈیا کی جانب جھکائو پاکستان ہی نہیں عالمی میڈیا اور غیر جانبدار مبصروں کو بھی حیران کر گیا تھا اور سب لب کھولنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ انصاف ہوتا دکھائی نہیں دے رہا بھارت اسی لئے آج پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے جس کے جواب میں پاکستان نے کہہ دیا ہے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے اور بھارت نے کوئی ایسی غلطی کی تو نو اور دس مئی سے بھی سخت جواب آئے گا ہمارے حکمران بھارت کی منجی ٹھوکنے کے بعد لگتا ہے پانی کے مسئلے پر سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں دوسری طرف ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے اقوام متحدہ کے قرارداد کے تحت متنازع علاقے لداخ میں واقع عظیم دریائے سندھ کے بہاؤ کو روکنے کے اپنے ماسٹر پلان کے تحت لداخ میں 10 نئے میگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جن میں اچنتھنگ، سانجک، پارفیلا، سونٹ باتالک اور خلستی
شامل ہیں، یہ منصوبے نہ صرف معاہدے کے تحت اجازت دی گئی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ پاکستان میں پانی کے بہاؤ کو روکنے اور کم کرنے کے حوالے سے سنگین خدشات بھی پیدا کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد سیا چن گلیشئر کے برفانی علاقے میں تعینات فوجیوں کے لیے حرارت اور توانائی کی سہولیات فراہم کرنا ہے جبکہ لداخ کے محروم اور پسماندہ لوگ سردی سے پریشان ہیں، یہ بات پاکستان کے معروف ماہرِ پانی ارشاد ایچ عباسی کے ایک خط سے سامنے آئی ہے جس کا عنوان ہے کہ انسانی بحران بن رہا ہے دریائے سندھ کے پانیوں کا معاہدہ اور بھارت کے اقدامات اور یہ خط اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو بھی بھیجا گیا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ یہ سنجیدہ ایجنڈا 12 مئی 2025 کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب میں تصدیق شدہ تھا، جب انہوں نے اعلان کیا کہ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، اس خوفناک بیان کے ساتھ ہی بھارت نے دریائے سندھ کے پاکستان میں بہاؤ کو صفر تک کم کرنے کا عزم ظاہر کیا، اگر یہ منصوبے مکمل طور پر عملی جامہ پہنے، تو دریائے سندھ کے بہاؤ میں 23 ملین ایکڑ فٹ سے زائد کمی واقع ہو سکتی ہے جو پاکستان کی زرعی پیداوار، معیشت، اور آبی تحفظ کے لیے ایک تباہ کن دھچکا ہوگا،یہ محض ایک بحران نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک پوری قوم کی تباہی کا سبب بنے گا، بھارت نے پاکستان کو بنجر کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس نے چناب کا رخ بیاس کی جانب موڑنے پر کام تیزکردیا ہے جوایک تشویش ناک امر ہے پاکستان کے معروف ماہر آبی وسائل، انجینئر ارشد ایچ عباسی نے اپنی تازہ رپورٹ چناب کے چوراہے پر استحصال کی بجائے تحفظ کی اپیل میں دریائے چناب کے مستقبل کے حوالے سے ایک سنگین انتباہ جاری کیا ہے جس میں پاکستانی حکومت کی فوری توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ بھارت دریائے چناب کو بیاس سے جوڑنے کے لیے جسپہ ڈیم کے ذریعے کام کر رہا ہے، اس منصوبے کے لیے بھارت نے 2011،2012 کے بجٹ میں فنڈز مختص کیے گئے تھے، جس کے تحت چناب کو سولنگ نالہ ’’جو راوی میں گرتا ہے‘‘ سے ملانے کے لیے 23 کلومیٹر لمبی کنکریٹ سرنگ تعمیر کی جا رہی ہے جس سے پانی رنجیت ساگرڈیم کی جانب موڑا جاسکے گا،بھارت پہلے ہی 9.7 کلومیٹر طویل باگرو ناولے سرنگ مکمل کر چکا ہے جو ملک کی سب سے بڑی آبی سرنگ ہے اور 12,000فٹ بلند پہاڑوں میں 14.2کلومیٹر طویل زوجی لا سرنگ بھی آخری مراحل میں ہے، انجینئر عباسی نے خبردار کیا کہ آئندہ آٹھ سے بارہ ماہ اس حوالے سے نہایت اہم ہیںاس سے قبل بھی بھارت کی طرف سے ماضی میں سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیاں کر کے دریائے چناب اور دریائے جہلم کے پانی کو جزوی طور پر استعمال کرنے کی کوششیں کی گئیں اور پاکستانی دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کرکے پاکستان آنے والے پانی کو متاثر کیا ، پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے ہوا تھا، اس معاہدے میں کوئی تبدیلی دونوں ممالک کی رضامندی سے ہی ہو سکتی ہے،پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان ، بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور عالمی بینک کے صدر کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر 19 ستمبر 1960ء کو دستخط ہوئے تھے،ہمسایہ ملک کے ساتھ مستقبل میں دریاؤں کے پانی کے متعلق کسی بھی مسئلہ کو لے کر کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی غرض سے پاکستان نے اپنے تین دریائوں کے پانی کے استعمال کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقوق بھارت کو دے کر ان کے بدلے میں دوسرے تین دریاؤں کا پانی مکمل طور پر خود استعمال کرنے کے حقوق حاصل کئے تھے،سندھ طاس معاہدے کے تحت ہمالیہ کے پہاروں سے آنے والے تین دریا ؤں سندھ، چناب اور جہلم کا پانی مکمل طور پر پاکستان کو دیا گیا اور راوی، ستلج اور بیاس کا پانی مکمل طور پر بھارت کو دے دیا گیا تھا،اس معاہدہ کے بعد پاکستان نے تین دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی کے نہری نظام کو برقرار رکھنے اور ان دریاؤں کے علاقوں کو آبپاشی کے لئے پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لئے سندھ، چناب اور جہلم دریاؤں سے پانی نکال کر ستلج، بیاس اور راوی دریاؤں کے نہری سسٹم میں ڈالنے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا لنک کینالز کا سسٹم تعمیر کیا جس پر اس زمانہ میں اربوں روپے خرچ ہوئے ہمیں اپنی بقا کیلئے پانی کے اس سنجیدہ معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا تاکہ بھارت کو ئی مکاری نہ کر سکے پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالہ سے عالمی اداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار خطرے کی گھنٹی ہے اگر حکومت نے 2026ء تک ملک میں جاری مختلف ڈیمز کو مکمل نہ کیا تو پاکستان خطہ میں پانی کے بحران سے دو چار ہونیوالا سب سے بڑا ملک ہوگا بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریاؤں پر ڈیمز کی تعمیر اور پاکستان کا پانی روکے جانا کھلی آبی جارحیت ہے جس کیلئے حکومت کو ہر پلیٹ فارم پر اپنا موقف بہتر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کی سیاسی قیادت کو آگاہ ہونا چاہیے کہ ایسی کسی سیاسی قیادت کی ضرورت نہیں جو پانی کے سلسلے میں سیاسی مصلحتوں کی شکار ہو۔