Wed, September 16, 2026

بھارتی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ 

بھارتی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ 

اقوام متحدہ کے تحت 22مارچ کا دن پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں دریاﺅں کے پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دریاﺅں کو خشک کرنے کی ذمہ داری کسی حد تک سندھ طاس معاہدے پر آتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم جواہر نعل نہرو اس معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان آئے۔ اس معاہدے پر 19ستمبر 1960ءکو کراچی میں جواہر لعل نہرو اور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے دستخط کئے۔ سندھ طاس معاہدے کی دستاویزات کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ اس معاہدے کی مےعاد ختم ہونے کی کوئی شق موجود نہےں ہے اور نہ ہی یہ معاہدہ کسی ایک فریق کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ اسے یکطرفہ طور پر ختم کردے۔ معاہدے کی نگرانی کے لیے پاکستان اور بھارت میں انڈس واٹر کمشنر کے مستقل دفاتر قائم ہیں۔ اعلیٰ عہدے کے بااختیار یا کمشنر اپنے اپنے ملکوں کے نمائندوں کے طور پر سندھ طاس معاہدے کے معاملات دےکھتے ہیں، معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے گفتگو کے ریگولر چینلز کو استعمال میں لاتے ہیں اور کسی تنازع کے حل نہ ہونے کی صورت میں نیوٹرل ایکسپرٹ سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے پرعمل درآمد کے دوران بھارتی رکاوٹوں کے باعث اکثر پاکستان کو نیوٹرل اےکسپرٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات بھارتی انتہاپسند لیڈر اور ان کا میڈیا پاکستان پر ےہ احسان جتلاتے ہیں کہ بھارت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے بالائی حصے کا مالک ہونے کے باعث ان کے استعمال کا مکمل حق رکھتا ہے لےکن پھر بھی 80فےصد پانی پاکستان کو دے رہا ہے۔ بھارتیوں کو یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ تارےخی حقائق اور انٹرنیشنل اخلاقےات کے مطابق مندرجہ بالا دریاﺅں پر پاکستان کا 100فےصد حق ہے۔ یہ تو امریکی دباﺅ تھا جس کے باعث جنرل ایوب خان نے پاکستانی لوگوں کو مذکورہ دریاﺅں کے 20فیصد پانی سے سندھ طاس معاہدے کے تحت محروم کردےا۔ سندھ طاس معاہدہ کیسے عمل میں آیا؟ آئیے اس پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمےر سے نکلنے والے درےاﺅں کو اپنی جاگیر سمجھ لیا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اور پےاسے پاکستان کی تڑپ کے باعث دونوں نئی رےاستوں کے درمےان معاملہ طول پکڑتا گےا اور انٹرنےشنل برادری کو اس خطے مےں بارود کی بو آنے لگی۔ تب امریکی اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈیوڈللِی اِنتھال نے یہاں کا دورہ کیا ۔ اگرچہ ان کے اس ٹور کا مقصد مشہور کولیئرز میگزین کے لیے واٹراےشو پر اےک تحقےقی سےرےز لکھنا تھامگر دونوں ملکوں مےں ان کا استقبال اعلیٰ ترےن سطح پر کےا گےا۔ ڈےوڈ کا ےہ دورہ مےگزےن نے سپانسر کےا تھا لےکن آنے سے قبل انہےں امرےکہ کی اےگزےکٹو برانچ کے افسران سمیت سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی بریف کیا کہ وہ بھارت اور امریکہ کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لیے پل کاکام کرےں نےز وہ خطے مےں پائی جانے والی درےاﺅں کے پانی پر کشیدگی کو بھی کم کرنے کی کوشش کریں۔ ڈےوڈنے ےہاں کی صورتحال کا پوری طرح جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ مےں لکھا کہ ”انڈیا اور پاکستان کشمیر کے مسئلے پرجنگ کے دہانے پر ہےں۔ جب تک اس معاملے پر انتہائی کشیدگی برقرار ہے اُس وقت تک دونوں ملکوں مےں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ کشےدگی کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُن پہلوﺅں پر غور کیا جائے جہاں دونوں ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ تعاون کرسکتے ہیں۔ ان ایریاز میں کامیابی کے بعد دونوں ملکوں کے درمےان رنجش کم ہوگی جو ہوسکتا ہے انہےں کشمےر کے حل کی طرف لے جائے۔ لہٰذا میں تجویر کرتا ہوں کہ انڈےا اور پاکستان اےک اےسا پروگرام مرتب کرےں جس کے تحت دونوں Indus Basin River System کو مل کر چلائےں اور مل کر ڈویلپ کرےں۔ اس سلسلے مےں ورلڈ بےنک دونوں ملکوں کو کسی معاہدے پر لانے اور مالی مدد فراہم کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرسکتا ہے“۔ امریکہ سے ڈیوڈ کی اس مشن پر روانگی سے قبل جب پاکستانی پریس بھارتی آبی جارحیت پر شور مچا رہا تھا اور دنےا کو بھارتی عزائم سے آگاہ کررہا تھا تو عین اس وقت بھارت کے اےک اعلیٰ عہدےدار نے بھی ےہی کہا تھا کہ انڈےا اور پاکستان کشمےر پر ہروقت چےختے چلاتے رہےں گے لیکن برصغیر میں امن کے لیے کشمیر سے نکلنے والے دریاﺅں کے پانےوں کے مسئلے کا فوری حل بہت ضروری ہے۔ اگر ہم غور کرےں تو اس بھارتی اعلیٰ عہدےدار کی بات کو ہی ڈےوڈ نے اپنی رپورٹ میں ایک نئے انداز سے پیش کیا۔ بعد ازاں شائد طے شدہ منصوبے کے مطابق ڈیوڈ کی تجویز کو ورلڈ بینک کے ساتھ ساتھ انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں نے بھی مان لےا۔ انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ جس کا موجودہ نام ورلڈ بینک ہے کے اس وقت کے صدر یوجین آر بلیک نے کہا تھا کہ ےہ معاملہ سےاسی سے زےادہ انجےنئرنگ نوعےت کا ہے اور اسے انجنئروںکی سطح پر ہی حل ہونا چاہئے کےونکہ تمام دنےا کے انجےنئر اےک ہی زبان بولتے ہےں۔ مندرجہ بالا بحث میں اہم ترین بات ےہ ہے کہ اُس وقت کے بھارتی وزےراعظم جواہر لعل نہرو نے معاہدے پر دستخط کے بعد واپس جاکر جو رپورٹ لکھی اس میں یہ جملہ صاف صاف تحریر کیا کہ پاکستانی صدر جنرل محمد ایوب خان مےرے سامنے کشمےر کا مسئلہ باربار اٹھاتے رہے اور مےں انہےں مسلسل ٹالتا رہا، اس طرح کشمیر پرکوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ یہ دستاویز اب بھی وزیراعظم سیکرٹریٹ نئی دہلی میں موجود ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا کشمیر سے نکلنے والے پانی کا مسئلہ بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول ہی جھونک رہا ہے۔

ٹیگز: