پنجاب سیف سٹی نے بہت کم عرصے میں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے عوام میں اپنا مثبت امیج بنایا ہے،جس کا سہرا یقینا اس کے ٹیم ورک کو جاتا ہے آج کل اس محکمے کے ایم ڈی محمد احسن یونس ہیں جن کی خدمات کے اعتراف میں حال ہی میں انہیں دبئی میں اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ ڈی آئی جی محمد احسن یونس کو دبئی میں ورلڈ پولیس سمٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ انہیں خدمت مراکز قائم کرنے پر یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ان مراکز نے اب تک 22 ملین شہریوں کی خدمت کی ہے۔ احسن یونس کو ایکسیلنس ان کسٹمر سروسز کی کیٹگری میں ایوراڈ سے نوازا گیا۔ سیف سٹی میں بھی انہوں نے کئی نئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ترجمان سیف سٹی کے مطابق پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی تحفظ، فلاح و بہبود اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی ہدایات پر سیف سٹی نے کئی انقلابی اقدامات متعارف کرائے جن کا مقصد پنجاب کو ایک محفوظ، بااختیار اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صوبہ بنانا ہے۔ ان اقدامات میں ورچوئل بلڈ بینک کا قیام نمایاں ہے، جہاں شہری پنجاب ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے ’’4 ‘‘ دباکر فوری بلڈ ڈونر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ سیف سٹی بلڈ بینک کا ڈیٹا بیس مختلف بلڈ ڈونر ایجنسیوں، این جی اوز، کالجز اور یونیورسٹیوں سے منسلک ہے۔ شہری 15 پر کال یا ویب سائٹ کے ذریعے خود کو بطور ڈونر رجسٹر کرا سکتے ہیں جبکہ پولیس خدمت کاؤنٹرز پر بھی خون کے عطیہ یا حصول کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں پنجاب پولیس کے دس ہزار سے زائد افسران و جوان بطور ڈونر رجسٹر ہو چکے ہیں، اور سیف سٹی بلڈ بینک شہریوں کے لیے قیمتی سہولت ثابت ہو رہا ہے۔اسی طرح، پاکستان کا پہلا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت قائم ہوا، جس نے اپنے پہلے سال میں ہی خواتین کو فوری انصاف اور تحفظ فراہم کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ’’میری آواز، مریم نواز‘‘ کے نعرے سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت صوبے بھر سے 3 لاکھ 80 ہزار 700 خواتین نے رابطہ کیا، جن میں سے 3 لاکھ 30 ہزار 834 خواتین کو قانونی رہنمائی فراہم کی گئی اور 44 ہزار 302 ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ شکایت کنندگان
15 ہیلپ لائن پر ’’2‘‘ دبا کر، یا ویمن سیفٹی ایپ کے ذریعے لائیو چیٹ اور ویڈیو کال کی سہولت سے بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ خواتین کی شناخت کو مکمل رازداری کے ساتھ محفوظ بنایا گیا ہے جس نے اعتماد میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔بچوں اور بزرگوں کی گمشدگی کے حوالے سے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ورچوئل چائلڈ سیفٹی سنٹر قائم کیا ہے، جو 15 پر کال کر کے ’’3‘‘ دبا کر باآسانی قابلِ رسائی ہے۔ اب تک 52,245 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 46,612 کو کامیابی سے حل کیا گیا اور 9,289 کیسز میں ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ مزید بہتری کے لیے شکایت ٹریکنگ پورٹل بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے شکایت کنندگان اپنی درخواستوں کی پیش رفت آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سسٹم انصاف، تحفظ اور شفافیت کی نئی مثال بن چکا ہے۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے کرائم سٹاپرز سروس بھی شروع کی ہے جس کے تحت شہری اپنے اردگرد ہونے والے جرائم کی خفیہ اطلاع دے سکتے ہیں۔ شہری کرائم سٹاپرز نمبر 9 پر کال کر کے یا سیف سٹی ویب سائٹ پر ویڈیو یا تصویر کی مدد سے معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ اطلاع دینے والے کا نمبر ظاہر نہیں ہوتا اور مکمل رازداری یقینی بنائی جاتی ہے۔ اس سروس کے ذریعے منشیات فروشوں، دہشت گردوں، انسانی سمگلنگ، جعلی مصنوعات، جنسی جرائم، قبحہ خانوں اور بجلی، گیس یا پانی چوری جیسے جرائم کی خفیہ اطلاع دی جا سکتی ہے۔اقلیتوں کے مسائل کے فوری ازالے کے لیے سیف سٹی نے میثاق سینٹرز قائم کیے ہیں جو 15 پر موصولہ کالز کو متعلقہ حکام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ سینٹرز اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔محفوظ پنجاب کے وژن کے تحت صوبے بھر میں سمارٹ سیف سٹی پراجیکٹس کا آغاز ہو چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں شیخوپورہ، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، اوکاڑہ، مری اور اٹک میں منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ رحیم یارخان، بہاولپور، ملتان، راجن پور، مظفرگڑھ، ساہیوال، جھنگ، حسن ابدال، ڈی جی خان اور میانوالی میں رواں سال مکمل ہوں گے۔ ان منصوبوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ سافٹ ویئر کے ذریعے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور 18 شہروں میں ماحولیاتی سینسرز کے ذریعے ایئر کوالٹی انڈیکس بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کے لیے سی ایم مریم نواز فری وائی فائی سروس کا دائرہ کار بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ لاہور میں پہلے مرحلے میں 100 مقامات پر شروع کی گئی سروس اب 230 مقامات تک پھیل چکی ہے۔ جدید وائی فائی 6 ٹیکنالوجی پر منتقل ہونے کے بعد شہریوں کو تیز تر اور محفوظ انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے۔ یہ سروس لاہور کے علاوہ قصور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، اٹک، ساہیوال ، اوکاڑہ اور مری کے مختلف مقامات پر دستیاب ہے۔ مجموعی طور پر پنجاب کے 11 اضلاع میں 300 سے زائد پوائنٹس پر فری وائی فائی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شہری تعلیمی، معلوماتی اور ایمرجنسی رابطہ سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔لاہور برصغیر کا پہلا شہر بن گیا ہے جہاں 19 ٹریفک وائلیشنز کی نشاندہی اور ای چالان آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ہو رہے ہیں۔ جدید ANPR کیمروں کے ذریعے خلاف ورزیوں کا سراغ لگا کر ایکسائز ریکارڈ کے مطابق ای چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔ شہری آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر یا شناختی کارڈ کے ذریعے اپنے چالان چیک کر سکتے ہیں۔ پنجاب ایمرجنسی 15 ہیلپ لائن کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اب یہ ہیلپ لائن جیو لوکیشن ٹیکنالوجی، ملٹی لیول کال ریسپانس سسٹم، کال بیک سروس، لائیو ٹریکنگ، ویڈیو کال اور سوشل میڈیا کے ذریعے فوری اور مؤثر مدد فراہم کر رہی ہے۔ ان تمام جدید فیچرز کی بدولت پنجاب ایمرجنسی 15 شہریوں کے لیے ایک قابل اعتماد سہولت بن چکی ہے۔خواتین ملازمین کی رہائشی ضروریات کے پیش نظر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں جدید ورکنگ ویمن ہاسٹل کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے، جو محفوظ، معیاری اور باوقار رہائش فراہم کر رہا ہے تاکہ خواتین یکسوئی سے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔ یہ تمام منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی عوامی خدمت، جدید ٹیکنالوجی، اور محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ان اقدامات کی بدولت پنجاب ایک محفوظ، مربوط اور سہولیات سے آراستہ خطہ بنتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیف سٹی جیسے ادارے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے ساتھ مزید وسائل مہیا کیے جائیں تاکہ یہ محکمہ شہریوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ قانون کی عملداری خو بھی مزید یقینی بنا سکے دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل اداروں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ محدود وسائل سے سیف سٹی اس،وقت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے