سیاست کا چہرہ سیاست دان بناتے ہیں ، دانشمندی، حالات پر نظر اور مستقبل کی ضروریات سے آگاہی کے اوصاف سے ایک لیڈر ابھرتا ہے۔ پاکستان میں جب بھی سیاست کی بات ہوتی ہے تو یہ بات ضرور کہی جاتی ہے کہ یہاں دہائیوں کوئی نیا چہرہ سامنے نہیں آتا۔ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ جب نئے لوگ یا نئی پارٹیاںہی نہیں ہیں تو کس کو ووٹ دیں؟ ظاہر انہی کو دینا پڑتا ہے جو امیدوار سامنے موجود ہوتے ہیں۔جب بار بار وہی لوگ اسمبلیوں میں بیٹھتے ہیں تو ظاہر ہے ان کے دلوں میں عوام کے لیے کوئی ہمدردی باقی نہیں رہ جاتی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے پاس انہیں سلیکٹ کرنے کے سوا کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ لوگ بعد ازاں اپنے ہی منتخب کردہ نمائندوں کے بارے میں شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ عوام کی بات نہیں سنتے یا ان کے کام نہیں کرتے۔ لیکن اب سیاسی منظر تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
گزشتہ تین چار برسوں کی سیاست پر ایک نظر ڈالیں تو ایسی ایک ہی شخصیت نظر آتی ہے جس نے پاکستان کے لیے اور عوام کی بہتری کے لیے کام کیا ہے۔ ان کی الگ طرح کی سیاست سے ملک کو ایک نیا رنگ ملا ہے۔وہ مریم نواز ہیں ، جنہوں نے اتنی تیزی سے کام کیا ہے کہ محسن نقوی اور اپنے چچا شہباز شریف کی سپیڈ کو پیچھے چھوڑ دیاہے۔ وہ جس طریقے سے صوبے کو چلا رہی ہیں لگتا ہی نہیں کہ پہلی بار اقتدار میں آئی ہیں یا پہلی بار وزیر اعلیٰ بنی ہیں۔ وہ اگر اسی سپیڈ اور اسی جذبے اور عزم سے کام کرتی رہیں تو میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ بہت جلد وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھی نظر آئیں گی۔ میں پہلا بندہ ہوں جو یہ پیش گوئی کر رہا ہے اور میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے آج تک جو بھی پیش گوئی کی وہ درست ثابت ہوئی ہے۔
پاکستان کچھ عرصہ پہلے تک انتشار کا شکار تھا۔پنجاب بارہ کروڑ افراد کا صوبہ ہے۔انتشار نے اسے پریشان کر رکھا تھا۔ایسے میں سخت ، واضح اور نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت تھی۔مریم نواز نے پولیس، ترقیاتی اداروں،تعلیمی و صحت سہولیات اور تجاوزات کے معاملات کی متواتر نگرانی کی۔اب حالات بدل چکے ہیں ۔صوبے کا چہرہ دھلا دھلا لگنے لگا ہے۔
میں نے اس باہمت خاتون کی کارکردگی دیکھی تو اس نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ مریم نواز جیل گئیں تو وہاں بھی انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور انہوں نے سیکھا بھی۔ مریم نواز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو مثبت لیتی ہیں۔ وہ چاہتیں تو وزیر اعلیٰ بننے کے بعد خود کو گرفتار کرنے والوں سے انتقام بھی لے سکتی تھیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب جیل والوں نے میرے والد کے سامنے مجھے گرفتار کیا تو میں نے اس کو مثبت معنوں میں لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل میں جتنا عرصہ بھی گزارا سارے معاملات کو سٹڈی کیا اور مثبت انداز میں سارے معاملات کولیا۔ یہ ایک نہایت مثبت طرز عمل ہے کہ آپ کسی منفی چیز میں سے بھی مثبت معنی اخذ کر لو۔ اگر وہ ان سارے ایشوز کو منفی لیتیں، باقی عورتوں کی طرح ڈپریشن میں چلی جاتیں تو پنجاب کی وزیر اعلیٰ نہ ہوتیں بلکہ کہیں گمنامی کی زندگی گزار رہی ہوتیں۔ میں مریم نواز کو سامنے رکھتے ہوئے تمام خواتین کو مشورہ دوں گا کہ وہ مریم نواز کی کاپی کریں ، اور ان کی پالیسیوں کو سٹڈی کریں کیونکہ وہ آج کے دور میں کامیابی کے لیے سمت نما ہیں۔
مخالفین کا کام ہوتا ہے تنقید کرنا۔ مریم نواز نے مخالفین کی تنقید کا برا نہیں منایا بلکہ ان کی تنقید میں سے آگے بڑھنے کا راستہ نکالا۔ لیڈر کا کام ہوتا ہے تنقید کو بھی مثبت انداز میں لینا۔ انہوں نے پولیس والوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پولیس کی وردی پہنی تو ان پر تنقید کی گئی۔ انہوں نے کسی سکول کا دورہ کیا تو ان پر تنقید کی گئی اور انہوں نے کسی نئے منصوبے کا اعلان کیا تو ان پر تنقید کی گئی۔ کہا گیا کہ وہ ٹک ٹاکر ہیں۔ اس کا مریم نواز نے بڑا مثبت اور سلجھا ہوا جواب دیا اور کہا کہ ٹک ٹاک کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔ آپ بھی کچھ کریں، آپ بھی ٹک ٹاکر بنیں۔میں ان کی کارکردگی کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں، اب میں ان کے باہمت اور اعصابی طور پر مضبوط ہونے کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ مجھے ہر طرف ایک مسکراتا ہوا پنجاب نظر آ رہا ہے۔ ہر طرف ترقیاتی کام نظر آ رہے ہیں، ہر طرف خوبصورتی نظر آ رہی ہے۔ ایل ڈی اے ایونیو ون کی مثال دوں گا جہاں لوگ ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے مایوس ہو چلے تھے، لیکن اب اسی ایل ڈی اے ایونیو ون میں اتنے ترقیاتی کام ہوئے ہیں کہ اس کی زمین کے ریٹ ڈبل ہو چکے ہیں۔ جوبلی ٹائون اور بہت سی دوسری ہائوسنگ سوسائٹیوں میں بھی حالات اسی طرح ہیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے کہ لیکن اندازہ لگا لیں کہ پی ٹی آئی کے دور میں پنجاب کا وزیر اعلیٰ اسے لگایا گیا تھا جو تقریر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ہر مہینے دو مہینے کے بعد تبادلے ہوتے تھے اور تبادلوں سے پیسے کمائے جاتے تھے۔
آج وہ لوگ منتشر ہو چکے جو کمیں گاہوں میں بیٹھ کر اپنے ہی لشکر پر تیر برسا رہے تھے۔یہ سیاسی و سماجی بدلاو مریم نواز لائی ہیں۔ مریم نواز جیسے لیڈر ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ میرا دعویٰ ہے کہ بھارت کے ساتھ معرکے کے بعد ہمارا ملک دنیا بھر میںپہلی یا دوسری پوزیشن پر آ جائے گا۔ بھارت دنیا میں چوتھے نمبر پر تھا لیکن اب ہمارا پاکستان اس سے آگے نکل جائے گا۔مریم نواز کی ایک اور خوبی جو مجھے نظر آ رہی ہے یہ ہے کہ وہ ووٹوں کے لیے نہیں بلکہ ملکی ترقی کے لیے کام کر رہی کیونکہ جو قومی ترقی کے لیے کام کرتا ہے ووٹر اس کے خود بخود بن جاتے ہیں۔