Wed, September 16, 2026

آئی ایس پی آر نے "ہلال ٹاکس 2025" پروگرام کا آغاز کر دیا

آئی ایس پی آر نے

راولپنڈی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے "ہلال ٹاکس 2025" کے نام سے ایک فکری اور علمی پروگرام کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس پروگرام میں ملک بھر سے آئے ہوئے 1950 سے زائد اساتذہ شریک ہیں، جنہیں سوشل میڈیا پر ملک مخالف پراپیگنڈے سے نمٹنے اور حقیقت کو پہچاننے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

اس نشست کا مقصد اساتذہ کو یہ سمجھانا ہے کہ دشمن قوتیں سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں تاکہ پاکستان میں بدگمانیاں پھیلائی جا سکیں۔ پروگرام میں شریک اساتذہ نے کہا کہ انہیں پاک فوج کے کردار، کام کرنے کے طریقے اور قومی سیکیورٹی کے معاملات کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا، جو بہت معلوماتی اور فائدہ مند ثابت ہوا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے شرکاء کے سوالات کے مفصل اور مدلل جوابات دیے۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ ان سیشنز نے ان کی سوچ اور تدریسی بصیرت کو وسعت دی ہے۔

پروگرام میں کئی تعلیمی ماہرین اور صحافیوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ممتاز تعلیمی شخصیات نے بھی اظہارِ خیال کیا جن میں  اسسٹنٹ پروفیسر نسٹ ڈاکٹر سندس مستقیم   کا کہنا تھا کہ یہاں پر مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کو بلایا گیا ہے جن سے بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔ تاہم ڈائریکٹر بی زی یو ڈاکٹر عبدالقدوس صوہیب کا کہنا تھا کہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردی اور خصوصاً بلوچستان کے متعلق بہت تفصیلی اور متاثر کن گفتگو کی، ان کے موقف سے مکمل متفق ہوں۔

 کنیرڈ کالج فار وومن سے ڈاکٹر سرینہ احسان کا کہنا تھا  کہ سیشن میں ففتھ جنریشن وار فیئر اور سوشل میڈیا کے موضوع پر انتہائی اہم معلومات فراہم کی گئیں، ایم نبی اللہ ڈائریکٹر قراقرم یونیورسٹی نے رائے دی کہ فوج ہماری ہے اور آج فوج کیساتھ انٹریکشن کا اچھا موقع ملا اور جتنی غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہو گئیں۔

اس کے علاوہ ، فرح فیصل لیکچرار یونیورسٹی آف گوادر نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہم تک غلط معلومات پہنچانے اور فیک نیوز پھیلانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، ڈاکٹر امتیاز عوان اے جے کے یونیورسٹی کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بہترین طریقے سے پاکستان کا بیانیہ ہم تک پہنچایا ہے ۔اساتذہ نے اس پروگرام کو نہایت مثبت اور تعمیری قرار دیا اور کہا کہ ایسی نشستیں ذہنوں کو روشن کرتی ہیں اور ملک سے جڑت مزید مضبوط بناتی ہیں۔

ٹیگز: