Wed, September 16, 2026

صرف ہمدردی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے ، فلسطینی مندوب کا اقوام متحدہ میں دوٹوک مؤقف

صرف ہمدردی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے ، فلسطینی مندوب کا اقوام متحدہ میں دوٹوک مؤقف

نیویارک : اقوام متحدہ میں فلسطین کے مندوب ریاض منصور نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا فلسطینی عوام کے ساتھ صرف ہمدردی کے بیانات دے رہی ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ عملی قدم اٹھایا جائے۔

انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر جاری ظلم اور نسل کشی پر عالمی خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر اقوام متحدہ اور عالمی ادارے محض بیانات تک محدود رہے تو ان کی حیثیت صرف کاغذی رہ جائے گی۔

ریاض منصور نے کہا "نسل کشی کو روکنے کے لیے اب صرف قراردادیں یا تجزیے کافی نہیں، حقیقی کارروائی کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کو نہ فلسطینیوں کے درد کا احساس ہے اور نہ ہی عالمی دباؤ کی پرواہ۔"
انہوں نے اقوام متحدہ سے سوال کیا کہ اگر یہ ادارہ دوسرے ممالک کے خلاف مختلف اقدامات کرتا ہے، تو وہی طریقے اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں اپنائے جاتے؟
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسلسل اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، پھر وہ اس ادارے کا حصہ کیسے ہے؟ فلسطینی مندوب نے ان تمام قوموں اور افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطینی عوام کا ساتھ دیا، اور کہا کہ دنیا جو کچھ دیکھ رہی ہے، وہ تاریخ کا حصہ بنے گا، اور ظالموں کو ایک نہ ایک دن ضرور جواب دینا پڑے گا۔

ریاض منصور نے آخر میں کہا کہ غزہ کے عوام بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، اور عالمی برادری کی خاموشی ان کے دکھ کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اب وقت ہے کہ دنیا صرف دیکھنے کے بجائے کچھ کرے۔

ٹیگز: