Wed, September 16, 2026

 اب آمدنی بڑھانے پر فوکس کرنا ہو گا

 اب آمدنی بڑھانے پر فوکس کرنا ہو گا

اس وقت پوری دنیا ایک ایسے معاشی اور سماجی دباو کا شکار ہے کہ جسے ہر شخص محسوس کر رہا ہے ۔ شائد اس صورتحال کے اثرات پاکستان پر کچھ زیادہ ہی ہیں۔ غربت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے حوصلے توڑ رہی ہے، بدامنی اور بے یقینی کا احساس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، اور اس سب کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ عام شہری کی کمر جھکا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی لوگ مشکلات کا سامنا کرتے رہے ہیں، لیکن آج جو کیفیت ہے اس میں بے بسی اور تھکن کچھ زیادہ ہی محسوس ہو رہی ہے۔
معاملات تو پہلے بھی بہت اچھے نہ تھے لیکن ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے تو ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ بے روزگاری کا مسئلہ تو پہلے ہی قابو سے باہر تھا لیکن اب یہ فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اگر جنگی صورتحال کی وجہ سے سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے لوگ واپس آنا شروع ہو گئے تو یہ مسلہ نہ صرف سنگین ہو جائے گا بلکہ غیر ملکی زرمبادلہ جو ہماری اقتصادیات میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے بھی ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائے گا۔ بدامنی اور قانون کی کمزور عملداری بھی ملکی معیشت پر برے اثر ڈال رہی ہے۔ کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کی شکایت ہے کہ انہیں تحفظ کا احساس نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اگر کسی کاروباری شخص کو اپنی سرمایہ کاری کے بارے میں خوف رہے گا تو وہ نئی سرمایہ کاری کیونکر کرے گا اور اگر سرمایہ کاری محدود ہو جائے گی تو روزگار کے مواقع بھی کم ہو جائیں گے۔
ٹیکسوں کی وصولی ہمیشہ سے ایک متنازع مسلہ رہا ہے اور حکومت اس کا ایک قابل قبول حل نکالنے میں بری طرح ناکام ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ جبر یا ڈنڈے کے زور پر اس قسم کا کام کرنا خاصہ مشکل ہے کیونکہ ایسی صورت میں لوگ بے ایمانی اور چور راستے تلاش کرتے ہیں۔ ٹیکس وصولی کے محکموں میں بھی کرپشن کی انتہا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ حکومتی اہلکار ہی اپنی جیب گرم کرنے کے چکر میں لوگوں کو بے ایمانی کے راستے دکھاتے ہیں۔ عام آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے بڑی تعداد میں براہ راست یابالواسطہ ٹیکسوں کا سامنا ہے۔ بجلی کے بل میں مختلف قسم کے ٹیکس شامل ہیں، پٹرول کی قیمت میں ٹیکس کا بڑا حصہ ہوتا ہے، اور روزمرہ کی اشیاءخریدتے وقت بھی بالواسطہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کو شکایت یہ نہیں کہ ٹیکس کیوں لیا جا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ غیر متوازن ہے اور اس کے بدلے انہیں مناسب سہولتیںمیسر نہیں ہیں۔
گزشتہ شب وزیر اعظم شہباز شریف صاحب سے قوم سے خطاب میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان تو کر دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ اس سلسلہ میں اربوں روپے کی رعایت دی جائے گی۔ چلو مان لیا کہ یہ اقدامات بہت اچھے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسائل کا حل ہے؟ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو جواب نفی میں ہے ،کیونکہ ایک بات تو طے ہے کہ معیشت کو عارضی اور وقتی اقدامات سے نہیں سنبھالا جا سکتا۔ ہمیں ایک ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو دیرپا ہو اور جس کے نتائج آنے والی نسلوں تک پہنچیں۔ حکومت کے بچت پلان یقیناً اہم ہیں اور ضروری بھی ، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ بچت کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے۔
اگر ہم ایک عام گھر کی مثال لیں تو بات بہت آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔ فرض کریں ایک گھر کا سربراہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ خرچے کم کرے گا، غیر ضروری چیزیں نہیں خریدے گا، اور بجلی اور گیس کی بچت کرے گا۔ یہ سب اقدامات درست ہیں، تاہم اگر اس کی آمدنی وہی رہے تو کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنی آمدنی بڑھانے کا کوئی ذریعہ تلاش کرے تو اس کے مسائل مستقل طور پر حل ہو سکتے ہیں۔ یہی اصول ایک ملک پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان کو اب اس سوچ سے باہر نکلنا ہو گا کہ صرف بچت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہمیں اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا ہو گا اور ایسے منصوبے بنانے ہوں گے جو ملک کی کمائی میں اضافہ کریں۔ اگر حکومت واقعی کچھ کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنی صفوں سے آغاز کرنا ہو گا۔ سادگی اختیار کرنا صرف ایک علامتی قدم نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ مستقل بنیادوں پر عملی طور پر نظر آنا چاہیے۔ 
لیکن اس کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے پر خصوصی توجہ ہونی چاہیے۔ بڑی صنعتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی صنعتوں حتیٰ کہ کاٹیج انڈسڑی کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کار کو تحفظ اور سہولت دینی ہو گی کیونکہ ایک کامیاب معیشت وہی ہوتی ہے جہاں کاروبار آسان ہو، قوانین واضح ہوں، اور سرمایہ کار کو اعتماد اور تحفظ حاصل ہو۔ اگر کوئی شخص نیا کاروبار شروع کرنا چاہے اور اسے درجنوں دفاتر کے چکر لگانے پڑیں تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کاروبار شروع کرنا آسان ہو تو زیادہ لوگ سرمایہ کاری کریں گے۔
ہمیں اپنی برآمدات بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی مصنوعات کو عالمی معیار کے مطابق بنایا، نئی منڈیاں تلاش کیں، اور کاروباری افراد کو سہولتیں فراہم کیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی معیشت مضبوط ہوئی اور ان کے عوام خوشحال ہو ئے۔
پاکستان کے پاس بھی بہت سی ایسی مصنوعات ہیں جو دنیا بھر میں مقبول ہو سکتی ہیں۔ ہمارا کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، کپڑے اور زرعی مصنوعات عالمی معیار کی ہیں۔ اگر حکومت ان شعبوں کی سرپرستی کرے تو ہماری برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ قدرتی نمک ، پھلوں اور سبزیوں کی برآمد میں بہت زیادہ بہتری کی گنجائش ہے۔ 
ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور یہی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو بہتر تعلیم، تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کریں تو وہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آج دنیا میں گھر بیٹھے کام کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکتے ہیں بس انہیں صرف سرپرستی اور راہنمائی کی ضرورت ہے۔
دنیا کے موجودہ حالات ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں کہ معاشی مضبوطی کس قدر ضروری ہے۔ عالمی سطح پر مقابلہ بڑھ رہا ہے، اور ہر ملک اپنی معیشت کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عسکری اور سفارتی سطح پر جو عزت دی ہے وہی مقام ہمیں معاشی میدان میں بھی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن اس سلسلہ میں ایسے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے کہ دنیا کی نہیں تو کم از کم ایشیا کی سپر پاور بننے کا خواب جلد از جلد پورا ہو سکے۔

ٹیگز: