Wed, September 16, 2026

حقیقت تو یہ ہے لا الہ اللہ کی بنیاد بھی حسینؓ ہیں

حقیقت تو یہ ہے لا الہ اللہ کی بنیاد بھی حسینؓ ہیں

محرم الحرام ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے۔ یقینا اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور اسی دن سے ہے جب آسمان و زمین کو اس نے پیدا فرمایا تھا، ان میں سے چار حرمت و ادب والے مہینے ہیں، یہی درست اور صحیح دین ہے، تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم و ستم نا کرو اور تم مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں، اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے (سورة توبہ)۔ بلاشبہ ربِ دو جہاں نے اپنی مخلوق میں سے کچھ کو چن لیا۔ فرشتوں میں بھی پیغمبر چنے اور انسانوں میں سے بھی رسول بنائے، اور کلام سے اپنا ذکر چنا اور زمین سے مساجد کو اختیار کیا، اور مہینوں میں سے رمضان المبارک اور حرمت والے مہینے چنے، اور ایام میں سے جمعہ کا دن اختیار کیا، اور راتوں میں سے لیلتہ القدر کو چنا، لہٰذا جسے اللہ رب العزت نے تعظیم دی تم بھی اس کی تعظیم کرو۔ محرم الحرام کی اہمیت کا اندازہ دینِ حق کی تاریخ کے ان بے شمار واقعات سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔ اس ماہ میں رب ِ دو جہاں نے کائنات کو تخلیق فرمایا۔ اپنے اولین پیغمبر، ابو البشر اور صفی اللہ کا لقب پانے والے حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اسی ماہ میں پیدا کیا گیا۔ اسی ماہ میں آدم علیہ السلام کی توبہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا، اسی ماہِ محرم میں حضرت آدم علیہ السلام کو خلافت کا تاج پہنایا گیا۔ حضرت ادریس علیہ السلام کو درجات ِ عالیہ عطا ہوئے، اس ماہ میں ہی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی وادی جودی پہ ٹھہرا دی گئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منصب و مقام ِخلیل سے سرفراز فرمایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے اور حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل سے رہائی دی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی اسی ماہ میں واپس لوٹائی گئی۔ اسی ماہ میں فرعون دریائے نیل میں غرق ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔ اسی مہینے میں اللہ رب العزت نے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادت سے چند سال قبل ابرہہ بیت اللہ پر حملے کی نیت سے نکلا تو خالقِ کائنات نے ابابیلوں کا لشکر بھیج کر اسی ماہ میں اسے تباہ و برباد کر دیا، اسی ماہ میں ہی قیامت آئے گی۔ اسی مہینے میں رسول خداﷺ کے نواسے، خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ زہراؓ کے لختِ جگر حسین ابنِ علیؓ اور ان کے کنبے کو شہید کیا گیا۔ آپؓ کی فضیلت کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ رسولِ خداﷺ نے آپؓ کو دنیا میں نہ صرف جنتی ہونے کی بشارت دی بلکہ نوجوان جنتیوں کا سردار بھی قرار دیا۔ اور ان کی محبت کو ایمان کا حصہ بتاتے ہوئے فرمایا کہ ”اے خدا میں حسین سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور جو کوئی حسنؓ و حسین ؓسے محبت رکھے ان سے بھی محبت فرما۔“
کربلا کی جنگ حق و باطل، ظالم و مظلوم اور اسلام کے حقیقی اصولوں کی پاسداری کے لیے ایک مثالی جدو جہد کی علامت بن گئی۔ واقعہ کربلا حق و باطل کی وہ جنگ جو خیر کی بالا دستی اور شر کو ختم کرنے کے لیے برپا ہوئی۔ یہ اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ اقدار کی جنگ تھی، دو شخصیات کی جنگ نہ تھی دو نظریات کا ٹکراو تھا، حق و باطل کی جنگ تھی اس لیے آج حسین ابنِ علیؓ امن کی علامت ہیں اور یزید جبر کا پتلا۔ کربلا کا واقعہ ایک نظریہ حیات ہے، ایک مکتبہ فکر ہے جس کے اندر انسانیت کی پوری تاریخ پوشیدہ ہے۔ کربلا کے واقعہ میں دو فلسفے آپس میں ٹکراتے ہوئے نظر آتے ہیں، ایک طرف یزید کا فلسفہ اور اس کی سوچ تھی اور دوسری جانب حسینؓ کا فلسفہ اور ان کی سوچ و فکر ہے۔ یزید کی سوچ تھی کہ طاقت ہی حق ہے یعنی جس انسان کے پاس طاقت ہے وہ ہی حق پر ہے۔ اس کی پیروی، تابعداری اور معاونت کی جائے اور اس سے ہر صورت سمجھوتہ کیا جائے۔ گویا طاقت کی تائید کر کے اس سے تائید لے کر زندگی بسر کی جائے۔ یزید کی اس فکر کے برعکس امام حسینؓ کی سوچ و فکر تھی کہ طاقت حق نہیں ہے بلکہ حق ہی طاقت ہے۔ لہٰذا طاقت کی پرستش کی جائے نہ ہی اس کا ساتھ دیا جائے۔ طاقت علمبردارانِ حق کو کچل بھی دے تب بھی یہ گھاٹے اور خسارے کا سودا نہیں بلکہ اس صورت میں راہِ حق کے مسافر زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں۔ شہادتِ امام حسینؓ نے ہار اور جیت کا مفہوم ہی بدل دیا۔ ان دو فلسفوں کے ٹکراو¿ نے امتِ مسلمہ اور عالمِ انسانیت کو یہ بات سمجھا دی کہ واقعہ کربلا کے نتیجے میں امام حسینؓ شہید ہو کر بھی زندہ ہیں اور یزید تخت بچا کر بھی مردہ ہو گیا۔ امام حسینؓ نیزے کی نوک پر چڑھ کر بھی جیت گئے جبکہ یزید تخت پر براجمان رہ کر بھی ہار گیا۔ کربلا کا واقعہ ہمیں انصاف، حق، عزت، صبر اور دین کے لیے قربانی کا سبق دیتا ہے۔ واقعہ کربلا اور شہادتِ حسینؓ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک لکیر ہے جو اس دن حق اور باطل کے درمیان کھینچی گئی۔ ایک طرف حسینیت اور دوسری طرف یزیدیت۔ ظلم، دھوکے، لوٹ مار، ناانصافی، قتل و غارت، دولت و اقتدار اور طاقت کی ہوس کا نام یزیدیت ہے جبکہ حسینیت مظلومیت، سچائی، ایمانداری، عدل، ایثار، حق اور صبر کا نام ہے۔ واقعہ کربلا نے یہ ثابت کر دیا کہ حق کا راستہ کسی صورت میں بھی آسان نہیں ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں ہار کر بھی جیت ہوتی ہے۔ واقعہ کربلا حریت پسندی، جوانمردی، شجاعت، استقامت اور حق کی نصرت کا درس دیتا ہے۔ عاشورہ ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک تحریک اور مقصد کا نام ہے۔ امام حسین ؓ کی اس عظیم تحریک کا آغاز 28 رجب سے شروع ہوا اور یہ تحریک عصرِ عاشور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ام المصائب حضرت زینب ؓ اور امام زین العابدین ؓ کی سر براہی میں کوفہ اور شام کے فاسق، جابر اور ظالم حکمرانوں کے درباروں تک پہنچنے کے ساتھ اس انقلاب کی آواز مشرق و مغرب اور عرب و عجم میں سنائی دی۔
یزید سراسر بے حیائی، لوٹ مار اور کرپشن اور نا انصافی کا نام تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی روزانہ ایسے سیکڑوں واقعات ہوتے ہیں جن میں یزیدیت جھلکتی ہے۔ اس بات میں کوئی بھی شک نہیںکہ حسینیت اور یزیدیت کی یہ جنگ آج بھی جاری ہے ہر دن، یوم عاشور ہے اور ہر زمین کربلا، کون سا ایسا دن ہے جس دن کسی مظلوم پر ظلم نہ ہو، کون سی ایسی زمین ہے جو حق و باطل کی جنگ سے خالی ہے ہر دن کسی پر ظلم کیا جاتا ہے کسی کا حق چھینا جاتا ہے، بے جرم و خطا قتال کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی آج وقتی مفادات کیلئے مصلحت اور منافقت سے کام لیا جاتا ہے۔ آج کے اس جدید دور میں جدید شکل میں یزیدیت آشکار ہے۔

ٹیگز: