Wed, September 16, 2026

ہنگو حملہ: پولیس کی جوابی کارروائی، 8 دہشت گرد ہلاک، ڈی ایس پی سمیت 7 اہلکار شہید

ہنگو حملہ: پولیس کی جوابی کارروائی، 8 دہشت گرد ہلاک، ڈی ایس پی سمیت 7 اہلکار شہید

ہنگو: خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں واقع خزینہ بانڈہ پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے رات گئے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) سمیت کم از کم 7 پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ 22 اہلکار زخمی ہو گئے۔

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) طارق حبیب کے مطابق زخمیوں میں ڈی ایس پی مجاہد حسین بھی شامل ہیں، جو حملے کے دوران شدید زخمی ہوئے۔

ڈی پی او نے بتایا کہ پولیس نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 6 کو زخمی کر دیا۔ ان کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان، میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسرِاقتدار آنے کے بعد پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔

پاکستانی حکومت کئی بار افغان عبوری انتظامیہ سے مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکے۔ اسلام آباد کی جانب سے کابل پر اس ذمہ داری کو پورا نہ کرنے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد رواں سال فروری میں سرحد پار دہشت گرد حملوں کے جواب میں آپریشن غضبُ الٰحق کا آغاز کیا گیا تھا۔

دوسری جانب یہ حملہ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مختلف انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائیوں میں بھارت کے حمایت یافتہ 32 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

ادھر سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں تشدد سے جڑی مجموعی ہلاکتوں میں تقریباً 96 فیصد انہی دونوں صوبوں میں ہوئیں، جن میں خیبرپختونخوا میں 475 جبکہ بلوچستان میں 265 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق دوسری سہ ماہی کے دوران سب سے زیادہ پرتشدد واقعات بھی خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، جہاں 151 واقعات پیش آئے، جبکہ بلوچستان میں 94 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو ملک میں رپورٹ ہونے والے مجموعی پرتشدد واقعات کا بڑا حصہ ہیں۔
 

ٹیگز: