آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات ایک اور سیاسی مرحلہ مکمل کر چکے ہیں۔ ہر انتخاب کی طرح اس بار بھی سیاسی جماعتوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، عوام نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا، کامیاب امیدواروں نے کامیابی کا جشن منایا، جبکہ شکست خوردہ امیدواروں نے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا۔ بعض علاقوں میں بدانتظامی، جھڑپوں اور دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے، جن کی تحقیقات متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ شاید اردو سے ناواقفیت کی بنا پر بلاول بھٹو دورانِ تقریر بڑے چھوٹے کا لحاظ کھو دیتے ہیں اور کسی حد تک عمران خان کی زبان سے مماثلت اختیار کر لیتے ہیں۔ تھوڑا بہت مدِمقابل مسلم لیگیوں کی دوسری کیٹیگری کے لیڈران بھی ”پٹڑی“ سے اترتے سنے گئے۔ انتخابات جیتنا کسی بھی سیاسی جماعت کا آخری مقصد نہیں، بلکہ اصل امتحان عوام کی خدمت، بہتر حکمرانی اور ریاست کی ترقی ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام گزشتہ کئی برس سے مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے نرخ، سیاحت، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کی ”غیر ملکی سپانسرڈ“ تحریک کے شور شرابے کو بھی ہمارے سکیورٹی اداروں نے اپنے انجام کو پہنچا دیا، اور انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا۔ پھر بھی اس میں ملوث افراد کو راہِ راست پر لانا اور ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ مسائل حل ہوں تو ”سپانسرڈ“ تحریکیں دم توڑ دیتی ہیں۔ مرکز میں بیٹھی اتحادی حکومت کی غیر فعال اتحادی جماعت، جسے 2018 میں کچھ نشستیں ملی تھیں، وہ کشمیر انتخابات اور اس کے علاوہ بھی 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کا بیانیہ لیے گھوم رہی ہے۔ سندھ میں عوام کی پریشانی اور اپنی کارکردگی نظر آنے کے باوجود دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر ہم حکومت کا ساتھ نہ دیں تو یہ حکومت ختم ہو جائے گی۔ اگر ان کی حکومت کے دائرہ اختیار میں کراچی کے مسائل کا ذکر کیا جائے تو ان کی نااہلی نمایاں نظر آتی ہے۔ نیز یہ سب جانتے ہیں کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت گویا عوام کو سزا ہی دے رہی ہے، کیونکہ کراچی میں خواہش کے باوجود بھی انہیں ووٹ نہیں ملتا۔ کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کی برتری نظر آ رہی ہے۔ مہاجرین کے انتخابات تو اپنی ایک الگ تاریخ رکھتے ہیں، وہاں ووٹ ہی مرکزی حکومت کو ہوتا ہے، تو بہتر یہی ہے کہ گلگت
بلتستان پر بھی توجہ دی جائے۔ کشمیر کے انتخابات کے حتمی نتائج جو بھی ہوں، مگر ضروری ہے کہ اپنی کرسی کی جنگ میں آزاد کشمیر کے عوام کو سزا نہ دی جائے۔ نئی حکومت کو سب سے پہلے سیاسی انتقام کی سیاست سے گریز کرنا ہو گا۔ انتخابات ختم ہو چکے، اب مخالفین کو دشمن نہیں بلکہ جمہوری نظام کا حصہ سمجھنا ہو گا۔ اگر حکومت اور اپوزیشن ریاستی مفاد پر اکٹھے بیٹھ جائیں تو آزاد کشمیر کی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان کی مقبوضہ کشمیر سے متعلق پالیسی کی روشنی میں آزاد کشمیر میں ہنگامہ آرائی پاکستان کی تحریکِ آزادی کشمیر کی پالیسی کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔ بھارتی میڈیا اپنے ملک میں جاری طلبہ اور کسانوں کی تحریکوں کو ایک طرف رکھ کر آزاد کشمیر کے مسائل پر زیادہ پروپیگنڈا کرتا ہے۔ آزاد کشمیر کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے سیاحت، پن بجلی، زراعت اور معدنی وسائل پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، مگر انہیں شفاف نظام، اعتماد اور سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ نوجوانوں کو جدید تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ باصلاحیت نوجوان اگر بے روزگار رہیں گے تو مایوسی بڑھے گی اور معاشرہ ترقی کے بجائے مسائل کا شکار ہو گا۔ عوام کا اعتماد اسی وقت بحال ہو گا جب سرکاری وسائل کا درست استعمال ہو، ترقیاتی منصوبے میرٹ پر مکمل ہوں اور کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ انتخابات کی تکمیل کے بعد عوام کی بھی ذمہ داری کم نہیں۔ انتخابات کے بعد سیاسی تقسیم کو ختم کرنا، برداشت کو فروغ دینا اور اپنے منتخب نمائندوں سے مسلسل کارکردگی کا مطالبہ کرنا ایک باشعور معاشرے کی علامت ہے۔ ووٹ صرف ایک دن ڈالنے کا نام نہیں بلکہ پانچ سال تک عوامی نگرانی بھی جمہوریت کا حصہ ہے۔ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے جس کی سیاسی، جغرافیائی اور سفارتی اہمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ یہاں کی مضبوط جمہوریت، اچھی حکمرانی اور معاشی استحکام نہ صرف ریاست بلکہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، منتخب نمائندے، سول سوسائٹی اور عوام مل کر ایک ایسے آزاد کشمیر کی تعمیر کریں جہاں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، سیاست ہو مگر نفرت نہ ہو اور ترقی ہر شہری تک پہنچے۔ اس انتخابی مہم میں سیاسی قیادت، بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شرکت نے انتخابی ماحول میں جان ڈال دی۔ عام طور پر یہ رجحان رہا ہے کہ جس جماعت کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے، وہی کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی حکومت بناتی ہے، لیکن اس بار گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج میں ایسا نہیں ہوا، اور مسلم لیگ (ن)، جو مرکز کی حکمران جماعت ہے، وہاں دوسرے نمبر پر رہی۔ ان نتائج نے یہ تاثر دیا کہ دہائیوں پرانی روایت کشمیر میں بھی ٹوٹ سکتی ہے، مگر ایسا نظر نہیں آ رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ عوامی مسائل کی بھرمار نے عوام میں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ اپنے ووٹرز کو ووٹ دینے پر آمادہ کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے، مگر ایک دوسرے کو گالیاں نکال کر نہیں۔ انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنے گی، اسے سب سے بڑا چیلنج عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ آزاد کشمیر کے عوام کو صرف وعدوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مطمئن کرنا ہو گا۔ تعلیم، صحت، بجلی، پانی، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے بنیادی مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ مواصلاتی راستوں، سکولوں اور ہسپتالوں کی کمی، نیز زرعی شعبے کی ترقی بھی نئی حکومت کی توجہ کا مرکز ہونی چاہیے۔ عوام کی مایوسی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ سیاست دان صرف اقتدار کی دوڑ میں مصروف ہیں، جبکہ ان کے روزمرہ کے مسائل یکسر نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ عوام کا ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑا ہونا بھی اسی غم و غصے کا عکاس تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کا کردار بھی اہم ہو گا۔ آزاد کشمیر کا انحصار وفاقی گرانٹس اور ترقیاتی پیکیجز پر ہے، اور اگر مرکزی حکومت تعاون کرتی ہے تو خطے کی ترقی تیز رفتاری سے ممکن ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور فوجی قیادت کے کشمیر سے جذباتی اور سٹریٹجک تعلقات کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نئی کشمیری حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ تاہم، مقامی سیاست میں پائے جانے والے اختلافات اور گروہ بندیوں کو بھی کم کرنا ہو گا تاکہ مشترکہ ایجنڈے پر سب متفق ہو سکیں۔ یہ بات درست ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے انتخابی مہم کے دوران عوامی شعور کو بڑھانے میں کردار ادا کیا، مگر طریق کار غلط تھا اور کالعدم کمیٹی کی قیادت ”دوسروں“ کے ہاتھ میں کھیلنا شروع ہو گئی تھی۔ آزاد کشمیر کے عوام کی توقع یہی ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سمیت تمام سیاسی اور سماجی قوتیں ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاست کی ترقی، شفاف حکمرانی، سستی بجلی، بہتر تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔ یہی رویہ آزاد کشمیر کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔