واشنگٹن: عالمی تیل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں نے ایک بار پھر تیزی اختیار کر لی، جہاں فی بیرل قیمت میں 2 ڈالر سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں ہونے والی غیر متوقع کمی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچر کنٹریکٹس کی قیمت 2.71 ڈالر یا 3.2 فیصد بڑھ کر 86.80 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 2.26 ڈالر یا 3.4 فیصد اضافے کے بعد 81.95 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عارضی نرمی کے باعث خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی تھیں، تاہم امریکی ذخائر میں کمی کی اطلاعات کے بعد مارکیٹ کا رجحان دوبارہ مثبت ہو گیا اور قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال، امریکا اور ایران کے تعلقات، عالمی طلب و رسد، اوپیک پلس کی پیداواری پالیسی اور دیگر جغرافیائی سیاسی عوامل پر ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ یا کوئی غیر معمولی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی تیل مارکیٹ پر مرتب ہو سکتے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔