Wed, September 16, 2026

چینی مہنگی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ایکشن: شوگر مل مالکان کا ریکارڈ فوری طلب

چینی مہنگی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ایکشن: شوگر مل مالکان کا ریکارڈ فوری طلب

اسلام آباد: ملک میں چینی کی قیمت آسمان کو چھونے لگی ہے، کہیں 210 روپے فی کلو تو کہیں 215 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ اس سنگین صورتحال پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام شوگر ملز کے مالکان اور برآمد کنندگان کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی جنید اکبر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ارکان نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں چینی کی اوسط قیمت 173 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس سے عوام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ پچھلے دس سالوں میں حکومت نے چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت تو 5.09 ملین ٹن کی دی، مگر اصل میں صرف 3.92 ملین ٹن چینی برآمد کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ایکسپورٹ سے ملک کو 40 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ ملا، اور اس وقت چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔

کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ جب ملک میں چینی کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ رہی تھیں تو برآمد کی اجازت کیوں دی گئی؟ چینی کے کاروبار میں سبسڈی اور ٹیکس میں چھوٹ کیوں دی گئی؟ سینیٹر فوزیہ ارشد اور ریاض فتیانہ کا کہنا تھا کہ عوام سے چینی کے نام پر 287 ارب روپے کا دھوکہ کیا گیا۔

پی اے سی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر شوگر ملز کے مالکان اور ڈائریکٹرز کے نام سامنے لائے۔ اگر ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا تو کمیٹی تحریکِ استحقاق لانے پر غور کرے گی۔

حکام کے مطابق گزشتہ سال ملک میں 76 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی پیدا ہوئی، جس میں سے کافی مقدار سرپلس تھی۔ لیکن اس کے باوجود تین مراحل میں 7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی، اور اب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے، تاہم پی اے سی کا مطالبہ ہے کہ اصل ذمے داروں کو بے نقاب کیا جائے۔

ٹیگز: