Wed, September 16, 2026

جنگ کے دوران مودی اور ٹرمپ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ، جے شنکر کا دعویٰ

 جنگ کے دوران مودی اور ٹرمپ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ، جے شنکر کا دعویٰ

نئی دہلی  :  بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے لوک سبھا میں بتایا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 22 اپریل سے 17 جون تک وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے تجارت کا معاملہ ہو یا کوئی اور، اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا۔

پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔ ممبر پارلیمنٹ پرینیتی شندے نے سوال اٹھایا کہ آپریشن سندور کا اصل مقصد کیا تھا اور اس سے کیا حاصل ہوا؟ انہوں نے حکومت سے واضح جواب طلب کیا کہ کتنے دہشت گرد پکڑے گئے اور کتنے لڑاکا طیارے گنوائے گئے۔ کیرالہ کے رکن پارلیمنٹ فرانسس جارج نے بتایا کہ اس دوران تین رافیل، ایک سخوئی 30 اور ایک میگ 29 لڑاکا طیارے کھو دیے گئے، جو بھارت کے لیے بڑا نقصان ہے۔

مودی حکومت پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے باعث لوک سبھا کا اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ اسی دوران بھارتی فورسز نے مبینہ جعلی آپریشن میں تین کشمیریوں کو شہید کر دیا، جس پر اعتراضات کی گونج سنی گئی ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے کیا جانے والا حربہ سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، بھارت پر پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانے کے باوجود عالمی برادری اس دعوے کو ماننے سے گریزاں ہے، جس کی وجہ سے بھارت عالمی دباؤ میں مبتلا ہے۔

ٹیگز: