میاں اظہر اس فانی دنیا سے دائمی دنیا کی جانب رخصت ہوگئے اس دنیا میں جو آیا ہے اسے یہاں سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہونا ہے بعد میں زندہ رہ جانے والوں کے اذہان میں، قلوب کی گہرائیوں میں اس کی یادوں کے چراغ روشن رہتے ہیں، میاں اظہر سے ایک صحافی اور سیاستدان کی کچھ ملاقاتوں کے دیئے روشن ہیں اگرچہ وہ لوہے کا کاروبار کرتے تھے مگر طبیعت مزاج میں نرمی پھولوں کی طرح تھی اس کا اندازہ ان سے سخت ترین سوالات کے نرم ترین جوابات سے ہوا۔
میاں اظہر سے غائبانہ تعارف مسلم لیگ ہاؤس میں تب وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیںکی صحافی دوستوں انور قدوائی اور اسماعیل طارق سے میری موجودگی میں گفتگو سے ہوا۔ وائیں مرحوم انور قدوائی پر زور دے رہے تھے اسے سمجھائیں دستبردار ہو جائے ورنہ ہمیں دستبردار کرانا آتا ہے جواب میں انور قدوائی نے کہا، ’’نہیں، نہیں، وہ بہت شریف انسان ہیں میں بات کروں گا وہ مان جائیں گے ، بعدازاں انور قدوائی سے معلوم ہوا کہ لاہور کے سابق میئر میاں شجاع الرحمن کو دوبارہ میئر کے انتخاب سے دستبردار ہونے کی بات ہورہی تھی کیونکہ میاں نوازشریف نے ان کی جگہ میاں اظہر کو میئر بنانے کافیصلہ کرلیا تھا۔ میاں اظہر اورمیاں نوازشریف کے خاندانی قریبی تعلقات کے حوالے سے بھی انور قدوائی اور اسماعیل طارق نے کافی کچھ روشنی ڈالی، ایک مدت بعد ان تعلقات کی توثیق یوں ہوئی جب میاں اظہر سیاسی مخالفین میں چلے گئے تب مریم نواز نے خود مجھ سے یہ بات کی تھی ’’انکل میاں اظہر کے اس رویہ سے بہت دکھ ہوا ان سے تو ہمارے فیملی ٹرمز تھے ان کے ساتھ تو ہم سوئٹزرلینڈبھی گئے تھے ، جب مریم سیاست سے کوسوں دور تھیں۔
بہرحال میئر لاہور بننے کے بعدوزیراعظم نوازشریف نے میاں اظہر کو پنجاب کا گورنر بنایا تھااس دوران انہوں نے صوبے میں جرائم اور امن وامان کے حوالے سے وزیراعلیٰ کے انتظامی اختیارات استعمال کرنے شروع کئے تو میاں نوازشریف نے وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں کوکوئی ردعمل ظاہر نہ کرنے پر آمادہ کیا۔ میاں اظہر اور میاں نوازشریف کے مابین تعلقات میں پہلی بار کچھائو کی صورت تب ہوئی جب صدر غلام اسحاق خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وزیراعظم نوازشریف کے اختلافات نے شدت اختیار کی تو میاں اظہر اس تصادم کا حصہ نہ بن سکے اور میاں نوازشریف کو اعتماد میں لئے بغیر گورنر شپ سے استعفیٰ دے کر گھر آگئے میں نے ان سے اس حوالے سے سوال کیا نوازشریف سے آپ کو پہلے لاہور کا میئر اور پھر پنجاب کا گورنر بنایا اسحاق خان سے معاملات بگڑے تو ساتھ دینے کی بجائے آپ استعفیٰ دے کر چلے آئے اور انہیں اعتماد میںلینا بھی ضروری نہیں سمجھا کیا اخلاقی طورپر آپ اپنے اس عمل کودرست سمجھتے ہیںِ‘‘ اس سوال پر ناگواری کا اظہار کرنے کی بجائے انہوں نے بڑی رسائیت سے جواب دیا۔ ’’جیسے حالات ہوگئے تھے غلام اسحاق خان کی جانب سے مجھے برخاست کرنے کی فیکس آتی میں نے نکالے جانے کی بے عزتی کی بجائے استعفادینا بہتر سمجھا‘‘اس پر میں نے کہا’’میاں صاحب اس طرح نکالا جانا بے عزتی نہیں بلکہ سیاسی عمل کا حصہ ہوتا، انہوں نے جواب دیا میں نے یہی مناسب سمجھا ‘‘ اس حوالے سے ان کے میاں نوازشریف سے تعلقات میںجو دراڑ آئی تب میاں شریف کی مداخلت سے وہ دور ہوگئی تھی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس پر نوازشریف نے اعتماد کی بحالی کا تاثردینے کیلئے انہیں پنجاب کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا، جو میرے نزدیک میاں نوازشریف کی دوسری غلطی اس لئے تھی کہ یہ فیصلہ کرتے وقت انہوںنے اس حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ میاں اظہر تصادم کے آدمی نہیں ہیں، جب انہیں بحیثیت صوبائی ایڈمنسٹریٹر سول سکرٹریٹ جانے کیلئے کہا گیا اور یہ خبر منظر عام پر آئی تو تب چیف سیکرٹری جاوید قریشی کا دھمکی آمیز بیان اخبارات میں شائع ہوا۔میاں اظہر سیکرٹریٹ آئے تو گرفتار کرلیا جائے گا۔اس پر میاں اظہر نے گرفتاری کی ’’بے عزتی‘‘ گوارہ نہ کی اور اس مرتبہ میاں نوازشریف سے تعلقات میں بگاڑ مستقل صورت اختیار کرگیا، اس حوالے سے ان سے گفتگو کی تو انکا جواب تھا۔ جب وزیراعظم کا حکم نہ مان کر رینجرز نے آنے سے انکار کردیا تھا تو میںکس بل بوتے پر آگے بڑھتا ،، میراخیال ہے میاں نواز شریف صدر غلام اسحاق خان سے کھلی لڑائی چاہتے تھے ان کے مقرر کردہ صوبائی ایڈمنسٹریٹر کی گرفتاری یہ مقصد آسان کردیتی ، مگر وہ صحیح انتخاب نہ کرسکے حالانکہ ان کی پارٹی میں یہ کردار نبھانے کی اہلیت رکھنے والے کئی افراد موجود تھے۔
بعدازاںجنرل پرویز مشرف نے میاں اظہر کو نوازشریف کے خلاف استعمال کیا نوازلیگ کے مقابلے میں ہم خیال مسلم لیگ بناکر سربراہی میاں اظہر کو سونپ دی گئی۔ شادمان میں آفس بناکر انہوں نے سرگرمیاں شروع کردیں پنجاب کی بیوروکریسی کو انہیں اہمیت دینے کی ہدایت کردی گئی۔ میں نے دیکھااس آفس میں لوگوں کا اژدھام ہے وہ ان کے کاموں کیلئے مختلف افسروں کوفون کررہے ہیں۔ اس سے ان کے آئندہ وزیراعظم کا تاثر گہرا ہوگیا۔ دیرینہ دوست فاروق شاہ کے صاحبزادے عدنان فاروق میڈیا کی ذمہ داری نبھا رہے تھے اس نوجوان نے فون پر بتایاکہ میاں اظہر کو اسلام آباد طلب کرلیا گیا ہے کوئی بڑی خبر آسکتی ہے اس پر اسلام آباد میںصحافی دوستوںسے رابطے کئے اور عدنان فاروق کو بتایا عزیزم کوئی بڑی خبرنہیں آرہی وزارت عظمیٰ کا ہما تین گھنٹے میاں اظہرکے سرپر چکر کاٹتا رہا مگر بیٹھے بغیر اڑان بھر گیا ۔ تفصیل اس اجمال یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے داخلی معاملات ملکی سیاسی صورتحال، خطے اورعالمی منظر نامہ پر تین گھنٹے طویل گفتگو کی یا انٹرویولیا لیکن میاں اظہر مطمئن نہ کرسکے اورہم خیال مسلم لیگ کوقائداعظم مسلم لیگ میں تبدیل کرکے چودھری شجاعت کے سپرد کردیا گیا۔
میاں اظہر پرانی قدروں کے حامل شریف النفس انسان تھے اختلافات کے باوجود میاں نوازشریف کے بارے میں قابل اعتراض گفتگو نہیں کی اور نہ ہی میاں نوازشریف نے کبھی ایسی بات کی ہے۔
افسوس ہی کیا جاسکتا ہے میاں اظہرکا بیٹاحماد اظہرباپ کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کا دامن نہیں تھام سکا، اور عمران خان کی پی ٹی آئی کے بدتہذیبی کے کلچر میں رنگا گیا۔اس کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف نے اشتہاری اور روپوش ہونے کے باوجود گرفتار نہ کرنے کی سہولت فراہم کرکے حماد اظہر کو باپ کے جنازے میں شرکت کا موقع فراہم کیا لیکن جس عمران کی خاطر یہ سب کچھ ہے اسے تعزیت وہمدردی کے دوالفاظ کی توفیق نہ ہوئی، حماد اظہر اگر ہو سکے ان رویوں پر غورضرور کرنا چاہئے۔