Wed, September 16, 2026

داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی خبر جھوٹی نکلی، خاندانی تنازعات سمیت سنگین الزامات، فوٹیجز اور دیگر شواہد کے ذریعے تحقیقات جاری 

داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی خبر جھوٹی نکلی، خاندانی تنازعات سمیت سنگین الزامات، فوٹیجز اور دیگر شواہد کے ذریعے تحقیقات جاری 

لاہور: داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور غوطہ خوروں کی ٹیمیں چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، لیکن تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ یہ واقعہ محض فیک الرٹ تھا۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ جس سیوریج ہول میں ڈوبنے کی نشاندہی کی گئی تھی، وہاں کسی انسان کے ڈوبنے کا تکنیکی طور پر کوئی امکان نہیں۔ انتظامیہ نے سیوریج لائن کا معائنہ کیا اور متعدد کوششوں کے بعد تصدیق ہوئی کہ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خاتون اور شوہر کے درمیان شدید تنازعات اور سنگین الزامات موجود ہیں۔ متاثرہ خاتون کے والد نے پولیس سے رابطہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیٹی کو قتل کیا گیا اور سسرالیوں کو گرفتار کیا جائے۔

شک کی بنیاد پر پولیس نے شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور سیف سٹی کی فوٹیجز اور دیگر شواہد کے ذریعے تحقیقات جاری ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں نالے کے مختلف پوائنٹس پر تلاشی میں مصروف رہیں، لیکن ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔

لاہور انتظامیہ نے ریسکیو ٹیموں کی فوری اور بروقت کارروائی کو سراہا، جس سے کسی ممکنہ خطرے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔ واقعے نے خاندانی تنازعات اور جھوٹی اطلاعات کی سنگینی کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔

مزید برآں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے آؤٹ فال روڈ پر پیش آنے والے حالیہ واقعے پر تفصیلی بیان جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ 1122 کی کال موصول ہوتے ہی پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں خاتون کی ڈیڈ باڈی برآمد کر لی گئی ہے۔واقعے کے ہر پہلو کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو اپنی رپورٹ براہِ راست ڈی آئی جی کو پیش کرے گی۔

ٹیگز: