پنجاب کی دھرتی، جس کے نام میں ہی پانچ دریاؤں کی خوشبو بسی ہے، صدیوں سے زرخیزی کی علامت رہی ہے۔ دریائے سندھ کی موجیں، جہلم اور چناب کی روانی، راوی کا سرگوشی کرتا بہاؤ اور ستلج کا پرسکون لہجہ یہ سب مل کر اس خطے کو "زرخیز مٹی کا گہوارہ" بناتے چلے آئے ہیں۔ مگر آج وہی دریا، جو کبھی لوریاں سنایا کرتے تھے، اب بین کرتی ماؤں کے آنسوؤں میں ڈھل گئے ہیں۔
کہا جاتا ہے "پانی زندگی ہے"، مگر جب یہ پانی اپنی حد سے بڑھ جائے تو زندگی کو ڈسنے لگتا ہے۔ پنجاب کے پانچوں دریا جب طغیانی میں آتے ہیں تو لہلہاتے کھیت تباہی کی داستاں بن جاتے ہیں ایسے کہ گویا کسی ظالم ہاتھ نے روند ڈالے ہوں۔ یہ منظر ایسا ہے جیسے رحمت کے پیالے سے زہر ٹپکنے لگا ہو۔
فیض احمد فیض نے کہا تھا:
یہ داغ داغ اْجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
(سیلاب کے بعد طلوع ہونے والی صبح بھی اسی ویرانی اور اداسی سے بھری دکھائی دیتی ہے۔)
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر دوسرے تیسرے سال سیلاب آ جاتا ہے، اور تباہی پھیل جاتی ہے۔ لیکن افسوس ہم "بلی کو دیکھ کر کبوتر کا اپنی آنکھیں بند کر لینے والا" وہی پرانا کھیل کھیلتے آ رہے ہیں: ریت کے چند تھیلے، چند کشتیاں، چند خیمے اور لاکھوں بے گھر نفوس۔ یہ سب کچھ ایسے لگتا ہے جیسے کسی زخم پر صرف پٹّی باندھ دی گئی ہو، مگر بیماری جوں کی توں باقی رہے۔ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی کہاوت تو سن رکھی تھی اب دیکھنے کو بھی مل رہی ہے کیونکہ پچھلی کئی دہائیوں سے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے یہی حال ہمارے اقدامات کا ہے۔
پنجاب کی مٹی، جو صدیوں سے اناج اگاتی آئی ہے، آج ہم سے سوال کرتی ہے: "میں نے تمہیں کھلایا، پلایا، اور پھلنے پھولنے کا موقع دیا لیکن تم نے میرے دریاؤں کو ہی بے لگام چھوڑ دیا۔ میرے دریاؤں کو مضبوط پشتے کیوں نہیں دیئے؟ ان کی ہر سال سطح گہری کیوں نہ کی؟ ان کے کناروں کو جنگلات سے محفوظ کیوں نہ بنایا؟ ان کا پانی محفوظ کرنے کے لیے ڈیم کیوں نہ بنائے؟ ان کے کناروں کے ساتھ شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ کو کیوں نہ روکا اور نکاسی آب کا مؤثر نظام کیوں نہ بنایا؟ اگر ہم نے آج یہ فریاد نہ سنی تو کل کو یہی زمین ہم سے اپنے حق کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہو گی۔"
منو بھائی کے الفاظ میں:
*"یہ زمین جب بھی روئی ہے، ہم نے اپنی آنکھوں میں سیلاب دیکھے ہیں"*
کہتے ہیں "پانی کا بہاؤ روکا نہیں جاتا بلکہ اسے محفوظ راستہ دیا جاتا ہے"۔ مگر ہم نے دریائی زمین پہ بے ہنگم آبادیاں بنا کر رستے بند کر دیئے اور پھر یہی حال صدیوں پرانے پہاڑوں سے اترتے ریلوں کے راستوں کا ہوا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پانی اپنے پرانے رستے مانگنے کے بجائے بپھر کر ارد گرد آباد زمین اور بستیوں پر چڑھ دوڑتا ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، وزیر آباد، حافظ آباد، چنیوٹ، جھنگ، لیہ، راجن پور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان کے لوگ ہر طغیانی میں اسی قہر کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ زمانہ وہ نہیں جب لوگ صرف آسمان دیکھ کر بارش کا اندازہ لگاتے تھے۔ آج سیٹلائٹ، ریڈار اور موبائل ایپس ہمارے پاس ہیں۔ اگر سیلابی گزرگاہ کے ساتھ بسنے والی آبادیوں کے مکینوں اور محنت کش کسانوں کو بروقت پیغام مل جائے کہ کچھ دنوں بعد سیلابی ریلہ آ رہا ہے تو شائد وہ اپنی جمع پونجی بچانے کی کوشش کر سکیں۔ مگر افسوس! ہمارے فیصلے اب بھی "اندھیر نگری چوپٹ راج" کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اور انتظامیہ آخری چوبیس گھنٹوں میں فعال ہونا شروع ہوتی ہے۔ ہر سیلاب کے بعد بے گھر نفوس اور کسان کا دل جیسے اجڑتا ہے ویسا کوئی اور کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ کہتے ہیں کہ "خالی پیٹ ایمان نہیں رہتا"۔ کسان جب اپنی فصل بہتے اور تباہ ہوتے دیکھتا ہے تو صرف زمین ہی نہیں، اس کے خواب بھی ساتھ بہہ جاتے ہیں۔ قرضے بڑھتے ہیں، بھوک پھیلتی ہے، اور غربت کا سایہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔
حکومت وقت اگر واقعی اپنی سیلاب سے متاثرہ آبادی کے ساتھ ہے تو اسے بے گھروں کو آسان قرضے اور کسان کو اس کی فصل کی انشورنس یا قیمت دینی چاہئے اور زراعت کی بحالی کے لئے مالی معاونت کو بھی یقینی بنانا چاہئے۔ خواب یہ ہے کہ پنجاب کے پانچ دریا نعمت رہیں، زحمت نہ بنیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج اگر ہم نے ان دریاؤں کے قریب آبادیوں کو دور نا کیا، ان کے پشتے مضبوط نہ کیے، ان کے کنارے جنگلات نہ اگائے، دریاؤں کی سطح کو گہرا نہ کیا، پانی کے ذخیرہ کرنے اور دیرپا استعمال کے لیے ڈیم نہ بنائے، نکاسی آب اور چینلائزیشن جیسے اقدامات نہ کیے تو یہ خواب ہمیشہ خواب ہی رہیں گے۔
منیر نیازی کا ایک مصرع یاد آتا ہے:
*"ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں"*
بالکل یہی حال اب تک کی ہماری سیلاب سے نمٹنے کی پالیسیوں کا ہے، جب تک بند باندھنے کا سوچا جاتا ہے، پانی سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ پنجاب کے پانچ دریا دراصل ہماری قسمت کے پانچ ورق ہیں۔ اگر ہم نے عقل و تدبیر سے ان پر لکھا تو یہ ورق خوشحالی کی کتاب بن جائیں گے، لیکن اگر ہم نے لاپروائی دکھائی تو یہی ورق تاریخ کے نوحے میں بدل جائیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم "آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل" والا رویہ چھوڑیں اور ان دریاؤں کو قابو میں لانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ورنہ اگلے سال پھر یہی کہانی ہوگی کہ:
"پنجاب، پانچ دریاؤں کی دھرتی… ایک بار پھر پانی میں ڈوب گئی!"۔