جس طرح9/11کے بعد دنیا کی سیاست بدل گئی تھی تو اسی طرح ایران امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے دنیا کی سیاست بدلے گی نہیں بلکہ بدل چکی ہے اور دنیا کی تاریخ میں جو کام پہلی بار ہو رہے ہیں اس تحریر میں وہ آپ کے سامنے رکھیں گے ۔ یہ وہ کام ہیں کہ اس جنگ سے پہلے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ سپر پاور کہ جس کا بڑا چرچا تھا اس چند روزہ جنگ میں 30%ٹوما ہاک کروز میزائل ، 50%تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور45%اسٹرائیک میزائل ختم ہو چکے ہیں ۔ یہ مغربی میڈیا کی رپورٹس ہیں اور امریکہ نے F-35 طیاروں کی سالانہ خرید داری کو بڑھا کر85 تعداد کر دی ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ امریکہ اس وقت اس کرہ ارض پر ایک سپر پاور کی حیثیت سے اپنا وجود رکھتی ہے لیکن جنگی ہتھیاروں کے حوالے سے جو اعداد و شمار بین الاقوامی میڈیا میں آئے ہیں اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایران پر کس قدر بارود کی بارش کی گئی ہے اور اس میں ابھی اسرائیل کا اسلحہ شامل نہیں ہے ۔ اصل میں یہ جنگ غلط اندازوں پر شروع کی گئی تھی اور یہی سوچا گیا تھا کہ ایران پر چند دن کھل کر میزائلوں کی بارش کریں گے کہ جس سے اس کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہو جائے گا اور وہ اعتراف شکست کر کے جنگ بندی پر مجبور ہو جائے گا لیکن جب دیکھا کہ وہ تو ٹس سے مس نہیں ہوا بلکہ اس نے پہلے سے زیادہ جدید میزائلوں سے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں تو پھر اس کے توانائی کے مراکز پر حملے شروع کر دیئے لیکن جب دیکھا کہ اس کے بدلے اس نے جہاں سے اس کے توانائی کے مراکز پر حملے ہو رہے تھے ان ممالک کے توانائی کے مراکز پر حملے شروع کر دیئے ہیں تو اس کے بعد کوئی اور ہدف ہاتھ نہیں آ رہا تھا اس لئے کہ ایران کی نیوکلیئر سائٹس اور اس کے میزائل اور ڈرونز کے ذخائر اور انھیں بنانے والی فیکٹریاں زیر زمین تھیں اور اس پر ستم یہ کہ اول تو ان کا پتا نہیں تھا اور دوسرا وہ پہاڑی علاقوں میں تھیں ۔ نطنز ، اصفہان اور فردو میںحملے کر کے کہا گیا کہ ایران کی نیوکلیئر سائٹس کو تباہ کر دیا گیا ہے لیکن کسی بھی نیو کلیئر سائٹ کی تباہی کی سب سے بڑی نشانی تابکاری کا پھیلاﺅ ہے لیکن زمین میں زیادہ گہرائی میں ہونے کی وجہ سے یہ بھی ممکن نہ ہو سکا تو آخری کوشش اب صلح کی ہی رہ جاتی ہے اور دیکھنا اب یہ ہے کہ مذاکرات کی میز کب سجے گی اور کب مستقل جنگ بندی کا اعلان ہو گا ۔
خیر اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات کے مرحوم صدر شیخ زید بن سلطان النہان کہا کرتے تھے کہ اگر تیل کی دولت نہ بھی ہو تو میرے پاس اتنے پیسے ہیں کہ جن سے میں 700سال تک یو اے ای چلا سکتا ہوں لیکن اب اس جنگ کی وجہ سے متحدہ عرب امارات اپنے مالی بحران سے نمٹنے کے لئے امریکہ سے مدد مانگ رہا ہے اور ابھی جو تباہی ہوئی ہے اس پر جو خرچ ہونا ہے وہ علیحدہ ہے ۔ نیٹو کا قیام4اپریل 1949کو عمل میں آیا اور اس کے بعد اس اتحاد نے امریکہ کی سربراہی میں گذشتہ77سالوں میں دنیا بھر میں ات مچائی ہوئی تھی اور ابھی حال ہی میں افغانستان ، عراق اور پھر لیبیا میں اس نے حملے کئے اور وہاں کے سربراہوں کو موت کے گھاٹ اتارا لیکن اب یہ ٹوٹنے کے قریب ہے اور خود ٹرمپ اس سے نکلنے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ اور امریکہ میں ہر ملک میں ہولو کاسٹ کے نام سے قانون سازی ہوئی تھی کہ یہودیوں کے خلاف کوئی بات بھی نہیں کر سکتا تھا لیکن اب پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ امریکہ میں ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن دونوں کے ارکان اسرائیل کے خلاف کھل کر بات کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو مجبور کیا اور ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیا اور امریکن شہریوں کا پیسہ اسرائیلی مفاد پر کیوں خرچ ہو رہا ہے ۔ صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ یورپی ممالک میں بھی اسرائیل کے خلاف ایک زبرست لہر اٹھی ہے ۔ اٹلی ، جرمنی ، اسپین اور ہنگری نے تو کھل کر اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف بیان دیئے ہیں اور کئی ممالک نے تو اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے بھی توڑ دیئے ہیں اور ہنگری نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر نیتن یاہو ہنگری آئے تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا ۔ پہلی بار کسی نے اسرائیل کی زبردست دھلائی کی ہے ۔ امریکہ کے وہ جدید ترین طیارے جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ ریڈار میں بھی نظر نہیں آتے اور انھیں تباہ کرنا ممکن ہی نہیںیعنیF-35انھیں بھی ایران نے تباہ کر دیا ۔
اس ساری صورت حال کا نقد نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ عرب ریاستیں کہ جو پہلے اپنے دفاع کے لئے امریکہ کے سوا کسی اور طرف نہیں دیکھتی تھیں اب ان میں سے دو بڑی ریاستوں پہلی سعودی عرب اور دوسری قطر نے پاکستان سے دفاعی معاہدے کر لئے ہیں اور دیگر بھی اسی طرف سوچ رہی ہیں ۔ عرب ریاستوں میں امریکہ کے علاوہ کسی اور ملک کی طرف دیکھنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا لیکن اب روس اور چین کا اثر رسوخ اس خطے میں بڑھ رہا ہے اور آخر میں فقط یہی کہیں گے کہ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ عرب ریاستوں میں وہ امریکن اڈے جو ان کی حفاظت کے نام پر ان سے اربوں کھربوں ڈالر بٹور رہے تھے خود تباہ ہو گئے ۔