Wed, September 16, 2026

بارود کی سیاست اور امن دشمن بھارت کی پالیسیاں 

بارود کی سیاست اور امن دشمن بھارت کی پالیسیاں 


حالیہ دنوں میں جنوبی ایشیا کی صورتحال ایک بار پھر کشیدگی کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ لائن آف کنٹرول (LoC) پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، سفارتی محاذ پر سخت بیانات، اور دفاعی معاہدوں کی دوڑ یہ سب عوامل اس خطے میں امن کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اپریل 2026 کے آخری ہفتے میں سامنے آنے والی پیش رفتوں نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
سب سے پہلے، ایل او سی پر کپواڑہ اور پونچھ کے علاقوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں (CFV) نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سرحدی کشیدگی کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ 25 اور 26 اپریل 2026 کو رپورٹ ہونے والے ان واقعات میں نہ صرف سویلین آبادی متاثر ہوئی بلکہ خطے میں خوف و ہراس کی فضا بھی پیدا ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ کی طرح تحمل کا مظاہرہ کیا گیا، مگر بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی خطے کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔
دوسری جانب، چائنہ کے وزیر خارجہ کی جانب سے ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ اور پاکستان کے علاقائی سلامتی کے مفادات کی حمایت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ یہ بیان نہ صرف بھارت کے یکطرفہ بیانیے کو چیلنج کرتا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر محض ایک دوطرفہ تنازعہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔
اسی تسلسل میں، رجب طیب اردوان کی جانب سے فوری کشیدگی کم کرنے کی اپیل بھی قابل ذکر ہے۔ ترکی نے ہمیشہ پاکستان کے مو¿قف کی حمایت کی ہے اور اس بار بھی اس نے ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر امن کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
فضائی محاذ پر پاکستان ائیر فورس کی جانب سے دو بڑی مشقوں "لَلکارِ مومن" اور "فضائے بدر" کا اعلان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ہر وقت تیار رکھتا ہے۔ یہ مشقیں نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت کو بڑھانے کا ذریعہ ہیں بلکہ دشمن کو یہ باور کرانے کا بھی ایک طریقہ ہیں کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ادھر، نیشنل انویسٹی گیٹو ایجنسی (NIA) کی جانب سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں جن میں پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم، ماضی کی طرح اس بار بھی یہ دعوے ٹھوس شواہد سے عاری دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت کی یہ پرانی روش رہی ہے کہ وہ داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے، جو کہ ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
بھارت نے پاکستان کے ساتھ تجارت معطل کرتے ہوئے غیرملکی تجارت کے ایکٹ کا سہارا لیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف اقتصادی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی مزید خراب کرتا ہے۔ تجارت ہمیشہ امن کا ایک ذریعہ رہی ہے، مگر بھارت کی جانب سے اس کا خاتمہ ایک منفی اشارہ ہے۔
دفاعی میدان میں، بھارت اور فرانس کے درمیان 63,000 کروڑ بھارتی روپے کا معاہدہ، جس کے تحت 26 میرین رافیل طیارے حاصل کیے جائیں گے، ایک اور تشویشناک پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں اسلحے کی دوڑ کو تیز کرے گا بلکہ بھارت کی جارحانہ دفاعی حکمت عملی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہتھیار واقعی دفاع کے لیے ہیں یا کسی بڑے تصادم کی تیاری؟۔
ان تمام عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارت کی موجودہ پالیسی خطے میں عدم استحکام کو فروغ دے رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور امن کی بات کی ہے، مگر اس کے برعکس بھارت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی، بے بنیاد الزامات، اور اسلحے کی دوڑ خطے کو ایک خطرناک موڑ پر لے جا رہی ہے۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور بھارت پر دباو¿ ڈالے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ جنوبی ایشیا میں امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیں۔
آخر میں، یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ اگر بھارت واقعی ایک ذمہ دار عالمی طاقت بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی پالیسیوں میں توازن، شفافیت، اور امن پسندی کو شامل کرنا ہوگا ورنہ تاریخ اسے ایک ایسے ملک کے طور پر یاد رکھے گی جس نے طاقت کے نشے میں خطے کے امن کو داو¿ پر لگا دیا، اور اگر پھر بھی دل نہیں مان رہا تو آنکھیں بند کر کے ایک بار وہ لمحہ یاد کریں جب بنیان المرصوص کا آغاز ہوا تھا۔

ٹیگز: