ایران امریکا جنگ یہود ہنود کی ایک بڑی سازش تھی جسے پاکستانی قیادت اور فیلڈ مارشل نے مل کر ناکام بنایا ورنہ نیتن یاہو تو اس جنگ میں خلجی ممالک کو ایران پاکستان کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا تھا کیونکہ جب ایران سے مذاکرات چل رہے تھے عین وقت پر کہ جب حتمی بات چیت جاری تھی امریکہ کو بیچ لاکر اسرائیل نے مل کر حملہ کر دیا یہ الگ بات ہے کہ اس جنگ میں اللہ نے ایران کو سرخرو کیا اور امریکہ کی دنیا میں عزت نہ بچی، رہا اسرائیل پلے بھی کچھ نہیں جس کے شہری آج تک بنکروں میں سو رہے ہیں بلکہ کئی تو کمریں ونگی کرا بیٹھے ہیں تاہم پاکستان کی دور اندیشی سے خلیجی ممالک آپس میں لڑے اور نہ ہی ایران کی طرف کسی نے انگلی اٹھائی اس میں قطر اور سعودیہ کو داد دینی پڑے گی جنہوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا اور بات آگے نہ بڑھی ورنہ پلان مسلم ملکوں کو دست وگریباں کروانے کا تھا جو ناکام ہو گیا تاہم یو اے ای جو دنیا بھر میں بزنس حب کے طور پر پہچانا جاتا ہے نے پاکستان سے قرض کی واپسی کا تقاضا ایسے وقت میں کہ جب پاکستان خود معاشی مسائل کا شکار ہونے کے باوجود ثالثی کی کوششیں کر رہا رپورٹ کے مطابق اپنے دیرینہ اتحادی سے رقم کی فوری واپسی کا مطالبے نے برصغیر کے اس ملک کے معاشی اور سفارتی توازن کو بیک وقت چیلنج کر دیا،خلیجی ملک کی درخواست نے قرض دہندہ ملک کے مرکزی بینک کے ذخائر کے تقریباً پانچویں حصے کو متاثر کرنے کا خطرہ پیدا کیا، جبکہ قرض دیتے وقت یہ وعدہ کیا تھا پروگرام کے ختم ہونے تک ادائیگی نہیں کی جائے گی جو بیل آو¿ٹ کی منظوری کے لیے ایک شرط تھی،دونوں خلیجی طاقتوں کے درمیان فاصلے نمایاں ہوئے تھے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیادی نوعیت کی رقابت ان دونوں خلیجی ممالک میں اب بھی برقرار ہے، تاہم سعودیہ نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور ساتھ ہی تسلی دی کہ اسلام آباد کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اس طرح دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی دراڑکو پرکردیا گیا جس سے دشمن کی ساری چالاکیاں مٹی میں مل گئیں دشمن تو چاہتا ہے کہ مسلمان ممالک آپس میں دست وگریباں رہیں آج مسلم امہ کفار کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے ٹکڑوں میں بٹی ہو ئی اسی لئے حضرت علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا ،سادگی مسلم کی دیکھ ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ:آج مسلمان جہاں جہاں بھی ہیں وہ غیروں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہوکر اپنے ہی لوگوں پر بھاری پڑ رہے ہیں اس وجہ سے نہیں کہ وہ غریب ممالک ہیں نہیں بلکہ امیر ممالک بھی کیھنچا تانی کا شکار ہیں اسی لئے آج مظلوم بھی مسلم ممالک ہیں دہشتگرد بھی انہیں قرار دیا جا تا ہے ایران کوہی دیکھ لیں 50 برسوں سے پابندیوں کا شکار ہے ہر دور میں طاغوت نے اسے نیچا دکھانے کی کوشش کی لیکن اللہ نے ہر بار اسے سرخرو کیا صورتحال آج بھی مختلف نہیں کہ جب امریکہ تہران پر چڑھ دوڑا ہے اور کئی ممالک ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کرنے پر بھی تیار نہیں ایسی صورت میں ایران ڈٹا ہوا ہے ٹرمپ جان چھڑانے کے درپے ہے کبھی جنگ بندی کی توسیع کے نام پر تو کبھی کسی اور بہانے لیکن اصل بات یہ ہے کہ امریکہ ایسی دلدل میں پھنس گیا ہے کہ جہاں آنا آسان ہے نکلنا مشکل ہے سوائے پاکستان کے کہ وہ مستقل جنگ بندی کےلئے مخلصانا کوششیں کر رہا ہے امریکہ کا نام نہاد امن بورڈ ایران پر جارحیت کے بعد ویسے ہی وڑ گیا ہے مخصوص اسلامی ممالک کا اتحاد بھی ابھی تک ایران کےلئے کوئی کام نہیں انجام دے سکا مشرقی وسطیٰ میں امریکا و اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادی بری طرح ناکام ہو چکے ، امریکی اسرائیلی بلاک ذلت آمیز شکست سے دوچار ہو چکا ، اس لئے وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی ذلت آمیز شکست کا بدلہ مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرکے لینا چاہتا ہے، اور اسی کوشش میں ایران میں بھی مسلکی فساد کرانے کی کوشش کی گئی جسے ایران کی غیور قوم نے ناکام بنا دیا یہی بات ٹرمپ کو پریشان کر رہی ہے کہ ”ٹل“لگانے کے باوجود ایران جھکنے کو تیار نہیں آج امریکہ کا حواس باختہ صدردن رات ایران کے جھکنے کے خواب دیکھ رہا ہے امریکہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایران تنازعہ ایک نئی سرد جنگ جیسے مرحلے میں داخل ہو چکا ، امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق یہ کشیدہ تعطل فوری طور پر ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں کئی ماہ تک اضافے کا امکان ہے انہیں خدشہ ہے کہ امریکا ایک
ایسے تنازع میں پھنس سکتا ہے جس میں نہ جنگ ہو اور نہ کوئی معاہدہ، اس صورتحال میں امریکا کو اپنے فوجی دستے مزید کئی ماہ تک خطے میں رکھنا ہوں گے، آبنائے ہرمز بند رہے گی، امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی اور دونوں فریق ایک دوسرے کے پہلے قدم یا حملے کا انتظار کرتے رہیں گے، امریکا میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اب 6 ماہ باقی ہیں اور صدر ٹرمپ کے قریبی بتا رہے ہیں کہ جمود کا شکار تنازعہ ٹرمپ کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر بدترین صورتحال ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت نئے فوجی حملے کرنے یا یہ دیکھنے کے درمیان بھی پھنسے ہوئے ہیں کہ آیا زیادہ سے زیادہ دباو¿ کی مالی پابندیاں ایران کو جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرتی ہیں یا نہیں، ٹرمپ نے حال ہی میں ایک مشیر سے کہا کہ ایران کے رہنما صرف بموں کی زبان ہی سمجھتے ہیں،ٹرمپ کے کچھ قریبی چاہتے ہیں کہ دوبارہ بمباری کا فیصلہ کرنے سے قبل فی الحال آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی برقرار رکھی جائے اور ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں آنے والا کل کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن امریکہ ہر حال میں جیت چاہتا ہے جوممکن نہیں؟۔