کراچی:کراچی کی ٹرانسپورٹ اور ٹیکسی سروسز کے نظام میں اصلاحات کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ حکومت سندھ نے شہر میں چلنے والی تمام آن لائن ٹیکسی سروسز کو ایک ہی نظام میں لانے اور ای وی ٹیکسی سروسز کے آغاز کے لیے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن کیا یہ اصلاحات شہر کی بڑھتی ہوئی ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے مسائل کو حل کر پائیں گی؟
شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ای وی ٹیکسی سروسز کے آغاز کے لیے مختلف ماڈلز پر غور کیا گیا۔ وزیر سندھ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کراچی میں ٹیکسی سسٹم کو جدید بنائے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام حقیقت میں شہریوں کے لیے آسانی اور سہولت فراہم کرے گا؟ ای وی ٹیکسیوں کے اجرا کے لیے حکومت سندھ نے جو منصوبہ تیار کیا ہے، اس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا اور شہریوں کو ماحول دوست سفر فراہم کرنا ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
وزیر سندھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے ایک ہزار پنک اسکوٹیز فراہم کی جائیں گی۔ اگرچہ یہ ایک مثبت قدم ہے، تاہم خواتین کے لیے اسکوٹیز کی فراہمی کی اصل تاثیر کب نظر آئے گی، یہ ایک اہم سوال ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت سندھ نے ڈبل ڈیکر بسز کی آمد کی بات بھی کی ہے، مگر ان بسوں کے صحیح طریقے سے کام کرنے کے لیے شہر کی انفراسٹرکچر کی تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔
حکومت سندھ کے اس نئے منصوبے میں ای وی گاڑیوں کے چارجنگ پوائنٹس کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے، جو مستقبل میں شہریوں کی سہولت کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔