Wed, September 16, 2026

دہشت گردی اور حقِ خودارادیت کی جائز جدوجہد میں واضح فرق کرنا ضروری ہے، پاکستانی قونصلر جواد اجمل

 دہشت گردی اور حقِ خودارادیت کی جائز جدوجہد میں واضح فرق کرنا ضروری ہے، پاکستانی قونصلر جواد اجمل

نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے قونصلر جواد اجمل نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے اور اس دہشت گردی کے پیچھے علاقائی حریفوں کی سرپرستی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد ہیں کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ علاقائی حریفوں کی بیرونی مدد سے کیا گیا، جس میں 30 بے گناہ پاکستانی شہریوں کی جان گئی۔

پاکستانی قونصلر نے اقوام متحدہ میں ’’دہشت گردی کے متاثرین کی ایسوسی ایشن نیٹ ورک‘‘ کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کی مدد کرے اور دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور حقِ خودارادیت کی جائز جدوجہد میں واضح فرق کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ سے زائد فوجی تعینات کرنے اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ جواد اجمل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام پر بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے اور اس کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے سلامتی کونسل سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی درخواست کی۔ آخر میں، جواد اجمل نے پاکستان کی جانب سے پہلگام حملے کی بھی مذمت کی۔

ٹیگز: