Wed, September 16, 2026

گھٹیا دْشمن سے نمٹنے کی کچھ ابتدائی حکمت عملیاں

 گھٹیا دْشمن سے نمٹنے کی کچھ ابتدائی حکمت عملیاں

اپنے گھٹیا دشمن بھارت کو بتانے کے لیے یہی درست ہے کہ ہم بہت بہادر، دلیر اور مشکل وقت میں ایک ہو جانے والی قوم ہیں، ماضی میں بہت سے حوالوں سے ہم نے یہ ثابت بھی کیا ہے، مگر ہر دور کے اپنے تقاضے اپنی حقیقتیں ہوتی ہیں، ان تقاضوں اور حقیقتوں کو بھی سمجھنا چاہیے اور اْن کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے، ابھی تک یہی ظاہر ہو رہا ہے ہم بھارت کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، لیکن اگر اْس نے ہماری دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے لیا اور نادانی میں مزید کوئی غلط قدم اْٹھا لیا تو ضروری نہیں سارا نقصان اْسی کا ہوگا، گھٹیا دشمن کے خلاف ’’بیان بازیاں‘‘ یقینا وقت کی اہم ضرورت ہوتی ہیں، یہ ضرورت دوسری طرف سے بھی بھرپور انداز میں پوری ہورہی ہے، سوال یہ ہے چال باز دشمن کی فطرت کو سمجھتے ہوئے ہماری عملی تیاریاں کس نوعیت کی ہیں ؟ ظاہر ہے کچھ حساس معاملات ہوتے ہیں اْن تک ہماری رسائی ممکن نہیں، نہ ہونی چاہیے، مگر مجھے یقین ہے موجودہ خطرات اور حالات کے پیش نظر ہمارے ادارے ذاتی نوعیت کے کچھ معاملات سے اپنی توجہ ہٹا کر اس وقت ضرور یہ سوچ بچار کر رہے ہوں گے کہ اپنے دفاع کے لیے کیا مضبوط حکمت عملی انہیں اختیار کرنی چاہیے ؟ افواج پاکستان کے بارے میں یہ تاثر بالکل درست اور مضبوط ہے کہ وہ دشمن سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیتیں رکھتی ہے، اس کے جذبہ ایمانی پر بھی کسی کو کوئی شک نہیں، یہی وہ جذبہ ایمانی ہے جس سے ہمارا ازلی دشمن بھارت ہماری کچھ حقیقتیں جاننے کے باوجود ہم سے ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے، ہماری اپیل بس اتنی ہے دشمن کی دھمکیوں کو اس بار روایتی دھمکیاں نہ سمجھا جائے، جنگ کا آغاز تو اْس نے عملی طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے اپنی طرف سے کر دیاہے، ہماری طرف سے اس کا جواب فی الحال خالی بیانات کی صورت میں ہی سامنے آ رہاہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے دنیا کو اپنے مؤقف پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، اپنے سفارتی نظام کو متحرک کیا جائے، عالمی اداروں کو جگایا جائے، اْنہیں بھارت کے پاکستان پر حالیہ الزامات کے حقائق بتائے جائیں، اس کے علاوہ بھارت پاکستان میں وقتاً فوقتا ًجو دہشت گردیاں کرتا ہے، جس کے مکمل شواہد ہمارے اداروں کے پاس موجود ہیں وہ دنیا کے سامنے رکھے جائیں، دنیا کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے سب سے زیادہ اہم اور ضروری یہ ہے ہم اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کریں، مگر المیہ ہے یہ اْس وزیر خارجہ کے بس کی بات نہیں جو وزارت خارجہ کے بجائے اب بھی اپنی سابقہ وزارت خزانہ کے امور پر زیادہ توجہ دیتا ہے بلکہ دخل اندازی کرتا ہے، اس وقت ایک مضبوط وزیر خارجہ کی ضرورت ہے، جس کی دنیا میں کوئی عزت ہو، فنکاروں کے ذریعے وزارت خارجہ چلانے کا کاروبار بند ہونا چاہیے، دنیا بھر میں پاکستانی سفیروں اور سفارت خانوں کے دیگر سینئر افسران کو سخت ہدایت کی جائے جن جن ملکوں میں وہ تعینات ہیں کچھ عرصے کے لیے وہاں وہ اپنی ذاتی و کاروباری سرگرمیاں و دلچسپیاں معطل کر کے اپنی پوری توجہ وہ اْن ملکوں کے عوام اور حکمرانوں کو پاکستان کے ساتھ ہونے والی اْس حالیہ بھارتی نا انصافی سے آگاہ کرنے پر دیں، جو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی صورت میں ہوئی ہے، پاکستان کے خلاف عملی طور پر بھارت کا یہ پہلا سنگین اقدام ہے جس کے نتائج ظاہر ہے پاکستان اور اْس کے عوام کے لیے مستقبل میں اچھے نہیں نکلیں گے، اگر اس پرہم نے خاموشی اختیار کر لی جو کہ اب تک کی ہوئی ہے تو بھارت اس سے زیادہ سخت اقدام کرے گا،ہم اس کا جواب یا منہ توڑ جواب تو شاید دے دیں گے لیکن یہ حقیقت ہے بظاہر ابھی تک ہم نے سوائے بیان بازیوں کے کچھ نہیں کیا، دنیا یہ جانتی ہے سندھ طاس معاہدہ بھارت یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا یہ معاہدہ مگر اْس نے ختم کر دیاہے، دنیا میں اس کے خلاف کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا، حتیٰ کہ ہمارے دوست ممالک کی طرف سے بھی شدید رد عمل سامنے نہیں آیا تو صاف ظاہر ہے یہ ہماری سفارتی کمزوریاں ہیں جنہیں فوری طور پر دْور کرنا ہوگا، صرف سفارتی کمزوریاں نہیں اپنی باقی کمزوریوں پر بھی قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی، ان کمزوریوں پر قابو پانے کی پہلی شکل پاکستان کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کو تبدیل کرنے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے، اْنہیں اپنی وزارتوں یا عہدوں کی حساسیت کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے، ضرورت تو ویسے وزیراعظم کو بھی تبدیل کرنے کی ہے مگر فی الحال چونکہ ’’خام مال‘‘ ہی دستیاب ہے تو اْسے اْس کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے، حالات کی سنگینی کے پیش نظر دو چار ہفتے کے لیے ہر ہفتے وہ اگر لاہور نہیں جائیں گے اس سے لاہور کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، نہ اْنہیں پڑے گا، بلکہ ہوسکتا ہے لاہور کچھ سکون سا محسوس کرے، اس وقت ہمارے اداروں اور اْن سے وابستہ تمام بڑوں کی پوری توجہ اپنے گھٹیا دشمن بھارت سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر ہونی چاہیے، عوام کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت وزیراعظم کے پاس ظاہر ہے نہیں ہے، نہ عوام کو قومی مفاد میں اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب بھی معاملہ قومی مفاد کا ہوتا ہے عوام خود ہی اکٹھے ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے بیرونی دشمن سے نمٹنے کے لیے اپنے اندرونی دشمن کی بے شمار زیادتیوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں، یہ ایک المیہ ہے قومی مفاد میں ہمارے عوام اکٹھے ہو جاتے ہیں سیاستدان نہیں ہوتے، وہ صرف اپنے ذاتی مفادات میں ہی اکٹھے ہوتے ہیں، کیا موجودہ حالات میں اس وقت جیل سے عمران خان کا یہ بیان یا ٹویٹ آنا ضروری نہیں کہ’’بھارتی سازشوں کے مقابلے میں ہم اپنے اداروں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں‘‘، اور یہی ہدایت اْسے اپنی پارٹی کو نہیں کرنی چاہئے کہ بھارت کے خلاف حکومت اور اداروں کا غیر مشروط طور پر کْھل کر ساتھ دے ؟، دوسری طرف دشمن سے نمٹنے کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر ہی سہی عمران خان اور دیگر تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا نہیں کر دینا چاہیے ؟ اْن کے کیس تو ظاہر ہے ختم نہیں ہوں گے لیکن اس سے ہماری کچھ ایسی کمزوریاں ضرور ختم ہو جائیں گی جن سے بھارت فائدہ اْٹھا سکتا ہے یا ہم نقصان اْٹھا سکتے ہیں۔

ٹیگز: