بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے خطے کو تباہی اور جنگ کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ مودی سرکار نے الٹے سیدھے بیانات دے کرامن کو سبوتاژ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ مودی کے حوالے سے تجزیہ کار یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ سیاسی چال کے سوا کچھ نہیں کیونکہ فالس فلیگ آپریشن بھارت کے بائیں ہاتھ کا کام ہے دلچسپ امریہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ فالس فلیگ آپریشن بھی ناکام ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اقوام متحدہ سے جاری مذمتی بیان میں من پسند الفاظ ڈلوانے میں بھی ناکام ہوا۔ یہاں تک کہ بیان میں پہلگام کا بھی نام استعمال نہیں ہو سکا۔ مبصرین کے مطابق یہی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔ اب ہرمیدان میں ناکامی کے بعد بھارت نے یہ اشارے دینا شروع کر دیئے ہیں جیسا کہ وہ کوئی سرزمین پاک پر حملہ کرنے والا ہے۔ اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کا دو ٹوک بیان بھارت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ خواجہ آصف نے بھارت کو کھلی وارننگ دی کہ اگر کوئی ایسی جسارت کی تو بہت خطرناک جواب ملے گا۔ اسی طرح وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی بھارت کو سخت جوابی اقدامات کی وارننگ دی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسا لگتا ہے بھارت پاکستان پر حملے کے لیے اپناکیس بنارہاہے۔امریکی اخبار کے مطا بق پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے 100غیر ملکی مشنز کے سفارتکاروں کو وزارت خارجہ بلا کر بریفنگ دی۔ اخبار کے مطابق بھارتی حکام نے کہا کہ ان کی تحقیقات جاری ہیں، انہوں نے پہلگام واقعے کے ذمہ داروں کے چہرہ شناخت کے ڈیٹا سمیت تکنیکی انٹیلی جنس کے بارے میں مختصرحوالے دیئے۔ تجزیہ کاروں اور سفارتکاروں کے مطابق اس بریفنگ میں بھارت واقعے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق اب تک ٹھوس شواہد کی عدم فراہمی سے دو میں سے ایک امکان کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بھارت کو معلومات اکٹھی کرنے کے لیے مزیدوقت درکار ہے۔ اسی دوران امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان بریفنگز سے آگاہ 4 سفارتکاروں نے بتایا کہ نئی دہلی بظاہر اپنے ہمسایہ اور روایتی دشمن کیخلاف فوجی کارروائی کے لیے کیس بنا رہا ہے۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا بھی یہ دعویٰ کررہا ہے کہ بھارت پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت کا جنگی جنون آسمان کو چھو رہا ہے اور اس حوالے سے پاکستان نے بھی اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
بیان بازی کے بعد بھارتی سفارتی جارحیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔بھارتی شرپسندوں نے ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرے کے دوران عمارت کے شیشے توڑ دیئے تھے اور عمارت پر سرخ رنگ پھینکا تھا جب کہ نازیبا حرکات کرنے پر میٹروپولیٹن پولیس نے جمعہ کو 2 بھارتی شہریوں کو حراست میں بھی لیا تھا۔
پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام نے حملے کی تفصیلات سے پولیس کو آگاہ کردیا ہے، لندن پولیس نے پاکستانی ہائی کمیشن پر حملے میں ملوث شرپسندوں کی تلاش شروع کر دی تھی۔تاہم اب بتایا جارہا ہے کہ ہائی کمیشن پر حملے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ معاملہ برطانوی دفتر خارجہ کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے، ہائی کمیشن کو سکیورٹی فراہم کرنا برطانوی حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت برطانیہ سے اپیل ہے کہ ذمہ داران کو پکڑ کر سزا دی جائے۔ اس طرح سفارتی محاذ پر بھی بھارتی یقینی طور پر دہشت گردی پر اتر آیا ہے۔ پاکستانی سفارتخانے کے باہر احتجاج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان سارے حالات میں بھارت کہاں کھڑا ہے قارئین کینیڈا میں مقیم سکھ رہ نما گرپتونت سنگھ پنوں کے بیان سے اندازہ لگا لیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ 2 کروڑ سکھ پاکستان کے ساتھ ہیں، بھارتی فوج کو بھارتی پنجاب سے گزر کر پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نام ہی پاک ہے، بھارت کی اتنی ہمت نہیں کہ وہ پنجاب کو عبور کرکے پاکستان پر حملہ کرے۔ گرپتونت سنگھ نے کہا کہ اقلیتوں بالخصوص سکھوں پربھارتی مظالم سب پر عیاں ہیں، وہ نریندر مودی ، امیت شاہ، جے شنکر اور اجیت دوول کو عالمی قوانین کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔